دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
میزبان اور باراتی
No image جیسے کسی شادی ہال میں میزبان گجرے اٹھائے باراتیوں کے انتظار میں کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں،عین ویسے ہی مقبول حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے انتظار میں تھکے جا رہی ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ دلہن کی جگہ مقبول حکومت ہے اور باراتیوں کی جگہ عمران نیازی خان کے لانگ مارچ والے ہیں۔
ہر چند دن بعد کوئی نہ کوئی پی ٹی آئی لیڈر مائیک پکڑ کر اعلان کرتا ہے کہ کل لانگ مارچ ہو گا،کل نہیں، پرسوں،پرسوں نہیں،اگلے ہفتے،اگلے ہفتے، نہیں بلکہ جب موسم مناسب ہو گا اور دوسری جانب مقبول حکومت اسٹینڈ بائی پر ہے۔ موٹر ویز بند، کنٹینرز سڑکوں پر،پانی کی توپیں تیار، آنسو گیس کے سلنڈر گرم لیکن پی ٹی آئی کی بارات ہے کہ آتی ہی نہیں۔
ایک سیکورٹی افسر کو کہتے سنا گیا کہ ہم نے تو باراتیوں کے لیے کھانے بھی تیار کر رکھے تھے مگر باراتی ہی نہیں آ رہے، اب تو ہمارا چکن قورما بھی ٹھنڈا ہو گیا ہے اور ہمارے اعصاب بھی۔
وزیرِ داخلہ اور دیگر وزیر آئے پریس کانفرنس کرتے ہیں کہ ہم تیار ہیں،مکمل تیار ہیں بلکہ بہت زیادہ تیار ہیں لیکن اندر ہی اندر دعا کرتے ہیں کہ باراتی اب آ جائیں یا پھر بالکل نہ آئیں کیونکہ ان کے انتظار نے ہمیں تھکا دیا ہے۔
پی ٹی آئی والے بھی مزے لے رہے ہیں۔ ایک لیڈر نے طنزیہ کہا،حکومت کو انتظار کروا کروا کر ہم نے ان کی تربیت سیدھی کر دی ہے اور سرکاری افسران آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ یہ لانگ مارچ والے کب آئیں گے؟روغنی نان اور چکن قورمہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔
مختصر کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اب ایک ایسا باراتی بن چکا ہے جو نہ آتا ہے نہ جاتا ہے، بس ہاتھوں میں گجرے اٹھائے انتظار کرتے میزبان یعنی حکومت کو کھڑا رکھتا ہے اور یہی پی ٹی آئی کا پلان بھی ہے جبکہ ابھی ماسٹر پلان باقی ہے۔
واپس کریں