دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
چارسدہ پولیس نے ٹرانسجینڈر شہریوں کے لیے خصوصی ڈیسک کا فیصلہ کر کے نئی مثال قائم کردی
No image رپورٹ خالد خان ۔ چارسدہ پولیس کی طرف سے ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے لیے تھانہ جات اور پولیس سہولت مرکز میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام ہے، لیکن اگر اسے اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ کیا جائے تو اس کے اثرات ایک سرکاری حکم سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ رفعت اللہ خان سے محکمہ جیل خانہ جات میں تعینات صوبیہ خان کی سربراہی میں ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے وفد نے ملاقات کی، اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا اور ڈی پی او نے متعلقہ افسران کو مسائل کے فوری حل کی ہدایات دینے کے ساتھ ساتھ تھانہ جات اور پولیس سہولت مرکز میں خصوصی ٹرانسجینڈر ڈیسک قائم کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پولیس کی طرف سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ ہر شہری کو بلاامتیاز قانونی معاونت اور سہولت فراہم کی جائے گی۔
اس فیصلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ پولیس کسی مخصوص طبقے کی نہیں بلکہ ریاست کی نمائندہ ہوتی ہے اور ریاست کے سامنے شہری کی پہلی ضرورت اس کا تحفظ اور قانون تک رسائی ہے۔ جس شخص کو کسی جرم کا سامنا ہو، جسے دھمکی دی گئی ہو، جس پر تشدد ہوا ہو، جس کی کوئی قانونی شکایت ہو یا جسے پولیس سے کسی معاملے میں مدد درکار ہو، اس کے لیے تھانے تک پہنچنا اور اپنی بات اعتماد کے ساتھ بیان کرنا بنیادی شہری ضرورت ہے۔ اگر معاشرے کے کسی طبقے کو یہ احساس ہو کہ اس کی شناخت کی وجہ سے اسے پولیس تک پہنچنے میں اضافی مشکلات کا سامنا ہوگا تو پھر قانون کی موجودگی کے باوجود قانون تک رسائی کا عمل مکمل نہیں رہتا۔
ٹرانسجینڈر افراد کے معاملے میں یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ کمیونٹی پہلے ہی معاشرتی سطح پر مختلف نوعیت کے مسائل سے دوچار رہتی ہے۔ ایسے افراد کے ساتھ بدسلوکی، تضحیک یا غیر ضروری امتیاز کا رویہ اگر کسی سرکاری ادارے تک بھی پہنچ جائے تو ان کے لیے شکایت کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے خصوصی ڈیسک کا مقصد کسی کو قانون سے بالاتر سہولت دینا نہیں بلکہ قانون تک پہنچنے کی رکاوٹ کم کرنا ہے۔ یہی فرق اس پورے اقدام کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
میرے خیال میں چارسدہ پولیس کا یہ فیصلہ اسی وقت حقیقی معنوں میں کامیاب ہوگا جب خصوصی ڈیسک صرف ایک میز، ایک کرسی اور ایک نام کی تختی تک محدود نہ رہے۔ اصل ضرورت ایسے اہلکاروں کی ہے جو اس ذمہ داری کے لیے مناسب تربیت یافتہ ہوں، شکایت سننے کا سلیقہ رکھتے ہوں، شہری کی عزت نفس کا خیال کریں اور اس کی شکایت کو سنجیدگی سے متعلقہ شعبے تک پہنچائیں۔ کسی بھی شہری کے لیے پولیس سے رابطہ پہلے ہی ایک حساس مرحلہ ہوتا ہے، اس لیے شکایت کنندہ کو اپنی بات بار بار مختلف لوگوں کے سامنے بیان کرنے یا غیر ضروری سوالات کا سامنا کرنے سے بچانا بھی اسی نظام کا حصہ ہونا چاہیے۔
یہاں رازداری کا معاملہ بھی بہت اہم ہے۔ اگر کوئی ٹرانسجینڈر شہری کسی جرم، تشدد، دھمکی یا ہراسانی کی شکایت لے کر آتا ہے تو اس کی ذاتی معلومات اور شکایت کی نوعیت کو غیر ضروری طور پر عام نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کی ذمہ داری صرف ایف آئی آر درج کرنا یا قانونی کارروائی شروع کرنا نہیں بلکہ شکایت کنندہ کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔ اگر ایک شہری کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ اس کی شکایت سنی بھی جائے گی اور اس کی عزت اور رازداری بھی محفوظ رہے گی تو پولیس اور کمیونٹی کے درمیان اعتماد پیدا ہونے کی بنیاد مضبوط ہوگی۔
اسی طرح خصوصی ڈیسک پر آنے والی شکایات کے لیے ایک واضح طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ شکایت کب وصول ہوئی، کس افسر کو بھیجی گئی، اس پر کیا کارروائی ہوئی اور معاملہ کس مرحلے پر ہے، اس کا باقاعدہ ریکارڈ ہونا چاہیے۔ اس سے ایک طرف شکایت کنندہ کو اپنی درخواست کے بارے میں معلومات مل سکیں گی اور دوسری طرف پولیس کے اندر بھی جواب دہی کا ایک نظام پیدا ہوگا۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ہر شہری کو سہولت دی جائے گی؛ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ سہولت عملی طور پر کتنی آسان، تیز اور مؤثر ہے۔
میری نظر میں اس سلسلے میں ایک اور قدم بہت مفید ہو سکتا ہے۔ چارسدہ پولیس کو ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ مستقل رابطے کا ایک طریقہ کار بنانا چاہیے۔ سال میں چند رسمی ملاقاتوں کے بجائے باقاعدہ وقفوں سے یہ معلوم کیا جائے کہ خصوصی ڈیسک کام کر رہا ہے یا نہیں، لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور پولیس کے اندر کون سی انتظامی رکاوٹیں ابھی موجود ہیں۔ اگر کمیونٹی کے نمائندے براہ راست پولیس حکام کو مسائل بتا سکیں تو بہت سے معاملات شکایت بننے سے پہلے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔
اس اقدام کا ایک وسیع تر فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں اور معاشرے کے ایک ایسے طبقے کے درمیان براہ راست رابطہ بڑھے جس کے بارے میں عمومی معاشرتی رویوں میں اب بھی بہت سی غلط فہمیاں موجود ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار اگر مختلف شہری طبقات کے مسائل اور حساسیت کو سمجھتے ہوں تو اس کا فائدہ صرف ایک کمیونٹی کو نہیں بلکہ مجموعی پولیسنگ کو ہوتا ہے۔ پولیس کا کام شہریوں کو ان کی شناخت کے مطابق تقسیم کرنا نہیں بلکہ قانون کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔
تاہم اس پورے معاملے میں ایک توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ خصوصی ڈیسک کا مطلب خصوصی قانون نہیں اور نہ ہی خصوصی استثنا۔ اگر کسی ٹرانسجینڈر شہری کے ساتھ جرم ہوا ہے تو اس کی شکایت قانون کے مطابق اسی سنجیدگی سے دیکھی جانی چاہیے جس سنجیدگی سے کسی دوسرے شہری کی شکایت دیکھی جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی ٹرانسجینڈر فرد پر کوئی الزام ہو تو اس کے معاملے میں بھی قانون ہی فیصلہ کرے گا۔ سہولت کا مقصد انصاف کے عمل کو آسان بنانا ہے، انصاف کے اصول تبدیل کرنا نہیں۔
چارسدہ پولیس کے اس اقدام کو اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ معاشرے میں مختلف طبقات کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے بڑے بڑے دعووں سے زیادہ ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے جو شہری اور ریاستی ادارے کے درمیان براہ راست رابطہ پیدا کریں۔ اگر تھانے میں ایک ایسا اہلکار موجود ہو جو شکایت سن سکے، عزت کے ساتھ بات کرے، قانونی طریقہ کار سمجھائے اور درخواست کو درست جگہ تک پہنچائے تو یہ بظاہر چھوٹی سہولت کسی شہری کے لیے بہت بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
ہم اکثر پولیس اصلاحات کو صرف جرائم کی شرح، گرفتاریوں یا کارروائیوں کے اعداد و شمار سے دیکھتے ہیں، حالانکہ پولیسنگ کا ایک بنیادی معیار یہ بھی ہے کہ عام شہری تھانے کو اپنے لیے کتنا قابلِ رسائی اور محفوظ سمجھتا ہے۔ ایک ایسا پولیس نظام جو کمزور، محروم یا سماجی طور پر مختلف سمجھے جانے والے شہری کو بھی یہ اعتماد دے کہ اس کی بات سنی جائے گی، دراصل قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرتا ہے۔
اسی لیے چارسدہ پولیس کا یہ فیصلہ محض ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے لیے ایک خصوصی سہولت کے طور پر نہیں بلکہ پولیس اور شہری کے تعلق کو بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اب ذمہ داری پولیس پر ہے کہ اس اعلان کو عملی شکل دے، تربیت یافتہ اہلکار مقرر کرے، شکایات کی نگرانی کا نظام بنائے، رازداری یقینی بنائے اور کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھے۔ اگر یہ سب کچھ ہو جاتا ہے تو خصوصی ڈیسک ایک انتظامی اعلان سے آگے بڑھ کر شہریوں کے اعتماد کی ایک عملی مثال بن سکتا ہے۔ اور اگر ریاست کے کسی ادارے کے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہو کہ وہاں ہر شہری کی بات سنی جاتی ہے تو اس سے بڑا فائدہ کسی بھی معاشرے کے لیے نہیں ہو سکتا۔
واپس کریں