دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آئی ایم ایف پھر پاکستان میں! کیا یہ پروگرام واقعی آخری ہوگا؟
No image قرض پروگرام کی اگلی قسط پر اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف کا مشن پاکستان پہنچ گیا ہے۔ مذاکرات تقریباً دو ہفتے جاری رہیں گے اور عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کو جون 2026ء تک پاکستان کی معاشی کارکردگی، محصولات، توانائی کے شعبے، گردشی قرضے اور دیگر طے شدہ اہداف پر بریفنگ دی جائے گی۔ موجودہ مشن 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے چوتھے جائزے کے ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کا بھی جائزہ لے گا۔پاکستان میں آئی ایم ایف کا آنا اب کوئی غیر معمولی خبر نہیں رہی۔ تقریباً ہر حکومت اور ہر دور میں وزیراعظم، وزیر خزانہ اور دوسرے اعلیٰ حکومتی عہدیدار قوم کو یہ یقین دلاتے آئے ہیں کہ آئی ایم ایف کا موجودہ پروگرام آخری ہوگا اور اس کے بعد پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا۔ لیکن اکثر ایک پروگرام ابھی مکمل بھی نہیں ہوتا کہ اگلی مالی ضرورت اور بیرونی فنانسنگ کے انتظامات کی بحث شروع ہوجاتی ہے۔ہم ایک طرف پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور دوسری طرف ہماری معاشی کمزوری کا عالم یہ ہے کہ بجٹ، ٹیکس، توانائی، سبسڈی اور مالیاتی نظم و ضبط جیسے اہم معاملات بھی آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط اور جائزوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ موجودہ پروگرام میں بھی ٹیکس نیٹ بڑھانے، مالیاتی نظم، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بجلی کی سبسڈی میں تبدیلی جیسے معاملات شامل ہیں۔بجلی، گیس، ٹیکس اور مہنگائی پہلے ہی عام پاکستانی کے گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس لیے مزید ایسے اقدامات سے حتی الامکان گریز ہونا چاہیے جن کا سب سے زیادہ بوجھ کم اور متوسط آمدنی والے طبقے پر پڑے۔ حکومت کو اپنے اخراجات، سرکاری اداروں کے نقصانات، ٹیکس چوری اور مراعات کے نظام میں اصلاحات کو بھی اتنی ہی ترجیح دینی چاہیے۔حکومت اگر واقعی موجودہ بیل آؤٹ پیکج کو آخری پروگرام بنانا چاہتی ہے تو اس کا راستہ صرف اعلان نہیں، بلکہ برآمدات میں اضافہ، ٹیکس نظام کی اصلاح، توانائی کے شعبے کی بہتری، سرمایہ کاری اور مستقل معاشی پالیسی سے نکلے گا۔ موجودہ پروگرام کو حقیقی معنوں میں آخری پروگرام بنانے کی سنجیدہ کوشش ہی پاکستان کے خود انحصاری کی طرف سفر کا آغاز بن سکتی ہے۔
واپس کریں