
رپورٹ خالد خان ۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کم عمر لڑکوں کی خریداری، جسے بعض حلقوں میں ’’چوکرا منڈی‘‘ اور بچہ بازی کے نام سے بیان کیا جا رہا ہے، اب محض بند کمروں کی سرگوشی نہیں رہی۔ مارچ 2026 میں سماجی کارکن حیات پریغال نے بنوں ٹاؤن شپ میں ایسی منڈی کے قائم ہونے، کم عمر لڑکوں کو خریداروں کے سامنے پیش کیے جانے اور جنسی استحصال کے لیے خریدے جانے کے سنگین دعوے کیے۔ انہوں نے یہی سلسلہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، کرک، صوابی، ژوب اور بعض دوسرے علاقوں تک پھیلے ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس ویڈیوز موجود ہیں۔ یہ دعوے سامنے آنے کے بعد اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ معاشرہ اس خبر کو سن کر آنکھیں بند کر لے یا اسے افواہ کہہ کر گزر جائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان اطلاعات کے پیچھے جو کچھ ہے اسے قانون، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور بچوں کے تحفظ کے ادارے پوری سنجیدگی سے سامنے کیوں نہیں لاتے۔
بچہ بازی کوئی ایسا نیا لفظ یا ایسا اجنبی تصور نہیں جس کا خیبر پختونخوا کے سماجی ماحول سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ 2011 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے پشاور میں بالغ مردوں اور کم عمر لڑکوں کے درمیان ایسے تعلقات کا جائزہ لیا تھا جنہیں متعلقہ پشتون ماحول میں ’’بچہ بازی‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس تحقیق میں ان نوجوان مردوں کے انٹرویوز شامل تھے جنہوں نے اپنی کم عمری میں ایسے تعلقات کا تجربہ کیا تھا۔
2026 میں شائع ہونے والی ایک نئی علمی تحقیق نے بھی خیبر پختونخوا میں بچہ بازی کو غربت، معاشی بے یقینی، عمر، طبقے، جنس اور طاقت کے عدم توازن سے جوڑتے ہوئے اس مسئلے کا جائزہ لیا ہے۔ اس تحقیق کے لیے مینگورہ، سوات میں 45 خواجہ سراؤں سے انٹرویوز کیے گئے جنہوں نے اپنی کم عمری کے تجربات بیان کیے۔ اگر چہ اس تحقیق کا تعلق جنوبی اضلاع کے مخصوص سروے سے نہیں، لیکن یہ ضرور دکھاتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں کم عمر لڑکوں کے استحصال کا مسئلہ محض ایک اچانک سامنے آنے والی بات نہیں بلکہ اس پر باقاعدہ علمی تحقیق بھی ہو چکی ہے۔
جنوبی اضلاع کے حوالے سے مسئلے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کم عمر بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے دستیاب سرکاری اعداد و شمار سامنے رکھے جائیں۔ اکتوبر 2020 میں خیبر پختونخوا پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق صرف پہلے آٹھ ماہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے 182 مقدمات درج ہوئے تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان 34 مقدمات کے ساتھ سب سے آگے تھا، جبکہ لکی مروت میں چار اور بنوں میں تین مقدمات درج ہوئے۔ اسی عرصے میں صوبے بھر میں 235 ملزمان گرفتار کیے گئے جن میں ڈیرہ اسماعیل خان کے 37، لکی مروت کے چار اور بنوں کے تین ملزمان شامل تھے۔ پولیس حکام نے خود اس وقت اعتراف کیا تھا کہ معاشرتی ممنوعات اور بدنامی کے خوف کے باعث ایسے واقعات پہلے چھپائے جاتے رہے تھے اور اب رپورٹنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
اس سے پہلے 2019 کے اعداد و شمار میں خیبر پختونخوا کے 20 اضلاع میں بچوں کے جنسی استحصال اور قتل کے 188 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جن میں 137 متاثرہ بچے لڑکے اور 51 لڑکیاں تھیں۔ لکی مروت میں بچوں کے جنسی استحصال کے آٹھ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں چار واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ اسی رپورٹ میں کمزور تفتیش اور استغاثے کے باعث متعدد ملزمان کے سزا سے بچ نکلنے کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
یہ اعداد و شمار بچہ بازی کے اعداد و شمار نہیں ہیں، مگر ان سے ایک دوسری حقیقت ضرور سامنے آتی ہے کہ جنوبی اضلاع میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا مسئلہ موجود رہا ہے اور اس کے خلاف مقدمات بھی درج ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے جب انہی علاقوں میں کم عمر لڑکوں کی مبینہ خرید و فروخت اور ’’چوکرا منڈی‘‘ جیسی اطلاعات سامنے آتی ہیں تو انہیں محض معاشرتی گپ سمجھ کر چھوڑ دینا بچوں کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی۔
اس پورے معاملے میں ایچ آئی وی کا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جولائی 2026 میں خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 10,655 افراد ایچ آئی وی کے ساتھ رجسٹرڈ تھے جبکہ حکام نے اندازہ ظاہر کیا کہ صوبے میں تقریباً 39 ہزار افراد اس وائرس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی سال جولائی میں محکمہ صحت کے پروگرام کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ صوبے میں 8,567 افراد رجسٹرڈ تھے، جن میں بنوں کے 961 اور ڈیرہ اسماعیل خان کے 271 افراد شامل تھے۔
بچوں کے حوالے سے بھی صورت حال معمولی نہیں۔ جنوری 2025 سے مارچ 2026 تک کے سرکاری وفاقی و صوبائی اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 111 بچے ایچ آئی وی پازیٹو رجسٹرڈ ہوئے؛ ان میں 2025 کے دوران 90 بچے، جن میں 52 لڑکے اور 38 لڑکیاں شامل تھیں، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مزید 21 بچے، جن میں 14 لڑکے اور سات لڑکیاں شامل تھیں۔
یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایچ آئی وی کی موجودگی کو کسی ایک مخصوص جرم کا براہِ راست ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس وائرس کی منتقلی کے کئی طبی راستے ہیں۔ لیکن جب کسی علاقے میں کم عمر بچوں کے جنسی استحصال کی اطلاعات، بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات اور ایچ آئی وی کے اعداد و شمار ایک ہی وسیع سماجی ماحول میں سامنے آ رہے ہوں تو یہ صورت حال مزید تحقیق کا تقاضا ضرور کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ متعلقہ اداروں نے ان اعداد و شمار کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر کبھی دیکھا بھی ہے یا نہیں۔
اصل المیہ صرف وہ بچہ نہیں جو کسی کے ہاتھ فروخت ہونے یا کسی طاقتور شخص کے استحصال کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس المیے کا دوسرا رخ وہ گھر ہے جہاں غربت، بے روزگاری، قرض، کمزور سرپرستی یا سماجی دباؤ کسی بچے کو ایسے لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے جن کے پاس پیسہ، اثر و رسوخ یا سماجی طاقت ہوتی ہے۔ کم عمر لڑکا جب کسی بالغ اور بااثر شخص کے زیر اثر آتا ہے تو اسے اپنی حفاظت، عزت اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کی وہ آزادی حاصل نہیں ہوتی جو ایک بالغ انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ بعض اوقات پیسہ، تحفہ، روزگار، سرپرستی یا کسی اور فائدے کے ذریعے بچے اور خاندان کو اپنے قابو میں کیا جا سکتا ہے۔
اس مسئلے کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں لڑکے کو اکثر مظلوم تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ جنسی استحصال کی بات آئے تو ذہن فوراً لڑکی کی طرف جاتا ہے، جبکہ لڑکا خاموش رہتا ہے، خاندان اسے خاموش کراتا ہے، اور معاشرہ اس کے ساتھ ہونے والے جرم کو جرم سمجھنے کے بجائے مذاق، مردانگی یا بدنامی کے پردے میں چھپا دیتا ہے۔ یہی خاموشی مجرم کو طاقت دیتی ہے اور بچے کو تنہا کر دیتی ہے۔
جنوبی اضلاع میں ’’چوکرا منڈی‘‘ کے حوالے سے جو دعوے سامنے آئے ہیں، ان کی حقیقت جاننے کا راستہ بھی بالکل واضح ہے۔ بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس ریکارڈ دیکھے جائیں، بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات الگ کیے جائیں، عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا جائزہ لیا جائے، ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے متعلقہ اعداد و شمار دیکھے جائیں، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس سے معلومات لی جائیں، بچوں سے متعلق لاپتا ہونے کی شکایات کا ریکارڈ سامنے لایا جائے اور ان ویڈیوز کا فرانزک جائزہ لیا جائے جن کے موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں سب سے پہلی شرط یہ ہونی چاہیے کہ کسی متاثرہ بچے کی شناخت، تصویر یا نام کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے۔
اگست 2026 میں خیبر پختونخوا نے اپنی پہلی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی بھی منظور کی ہے۔ اس پالیسی میں بچوں کو بدسلوکی، تشدد، غفلت، استحصال، چائلڈ لیبر اور جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے، بروقت نشاندہی، رپورٹنگ، تحفظ، بحالی، نگرانی اور کیس مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کی بات کی گئی ہے۔
اب اس پالیسی کی اصل آزمائش کاغذ پر نہیں بلکہ بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ایسے دوسرے علاقوں میں ہوگی جہاں کمزور بچے طاقتور بڑوں کے سامنے کھڑے ہونے کی پوزیشن میں نہیں۔ اگر ’’چوکرا منڈی‘‘ کی بات غلط ہے تو ریاست کے پاس اسے غلط ثابت کرنے کے تمام وسائل موجود ہیں۔ اگر اس کے پیچھے حقیقت موجود ہے تو ریاست کے پاس اسے ختم کرنے، بچوں کو بازیاب کرانے، متاثرہ خاندانوں کو تحفظ دینے اور ذمہ داروں کو قانون کے سامنے لانے کی ذمہ داری ہے۔ دونوں صورتوں میں خاموشی قابل قبول نہیں۔
میرا سوال کسی ایک فرد، خاندان، قبیلے، مذہبی گروہ یا پورے علاقے سے نہیں۔ میرا سوال اس نظام سے ہے جو بچے کے رونے کی آواز اس وقت سنتا ہے جب معاملہ اخبار کی خبر بن جائے، مگر اس سے پہلے نہیں جب وہ بچہ کسی بااثر شخص کے گھر، حجرے، ڈیرے یا کسی بند جگہ میں خاموشی سے ظلم سہہ رہا ہوتا ہے۔ اگر جنوبی اضلاع میں کم عمر بچوں کی خریداری کا کوئی منظم سلسلہ موجود ہے تو اسے بے نقاب کرنا ہوگا؛ اگر بچے پیسے کے عوض ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل کیے جا رہے ہیں تو اسے روکنا ہوگا؛ اگر غریب خاندان دباؤ یا مجبوری میں خاموش ہیں تو ان کی آواز بننا ہوگا، اور اگر کوئی شخص اپنے اثر و رسوخ کے بل پر بچے کی زندگی اور عزت خریدنے کا تصور بھی کر رہا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ بچہ کسی کی ملکیت نہیں۔
بچے کی خاموشی رضامندی نہیں ہوتی، غربت اجازت نہیں ہوتی، سرپرستی ملکیت نہیں ہوتی اور طاقت کسی بالغ انسان کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ کم عمر بچے کے جسم، عزت اور مستقبل پر اپنا اختیار قائم کرے۔ معاشرے کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایسے بچوں کو خاموش کرانے والوں کے ساتھ کھڑا ہے یا ان بچوں کے ساتھ جو اپنے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے۔ میرے نزدیک صحافت کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ جہاں سب سے کمزور انسان کی آواز دبائی جا رہی ہو، وہاں قلم سب سے پہلے اسی کے لیے اٹھے۔
واپس کریں