دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سہیل آفریدی کی تقریر کا پوسٹ مارٹم : کہاں حقیقت، کہاں سیاسی بیانیہ؟
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ خیبرپختونخوا میں امن و امان کے حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس کے بعد سامنے آنے والا وزیراعلیٰ کا خطاب بظاہر دہشت گردی، پولیس کی ضروریات اور امن کے مسئلے پر تھا، لیکن اس کے اندر ایک واضح سیاسی بیانیہ بھی موجود تھا۔ تقریر میں کچھ ایسے نکات ہیں جنہیں اعدادوشمار اور سرکاری ریکارڈ تقویت دیتے ہیں، کچھ ایسے ہیں جو سنجیدہ سوالات ضرور اٹھاتے ہیں مگر مزید ثبوت چاہتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو سیاسی تشریح ہیں جنہیں قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
اس تقریر کو سمجھنے کا سب سے مناسب طریقہ شاید یہی ہے کہ وزیراعلیٰ کے ہر بڑے دعوے کو الگ کرکے دیکھا جائے، کیونکہ ایک سیاسی تقریر میں درست بات اور سیاسی تعبیر ایک ہی جملے میں جمع ہوسکتی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ
"22 سال سے خیبرپختونخوا پولیس اور عوام مسلسل دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018 سے 2022 تک عمران خان کی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوا۔ 2022 میں رجیم چینج آپریشن اور ریاست کی غلط پالیسی کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی لائی گئی۔ ہم نے احتجاج، امن پاسون اور ہر فورم پر آواز اٹھائی کہ دہشتگردوں کو دوبارہ آباد نہ کیا جائے۔ آج ریاست کی غلط پالیسی کے باعث فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ جب تک امن نہیں ہوگا تب تک ترقی اور خوشحالی نہیں آ سکتی۔"
سب سے پہلے دہشت گردی کے بارے میں وزیراعلیٰ کی بنیادی موقف کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا واقعی ایک شدید اور مسلسل سکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے۔ دستیاب اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ صوبے میں دہشت گردی سے متعلق ہلاکتیں 2019 میں 130 تھیں، 2020 میں 216، 2021 میں 301 اور 2022 میں 527 ہوگئیں۔ اس کے بعد 2023 میں یہ تعداد 941 اور 2024 میں 1,363 تک پہنچ گئی۔ 2025 میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 2,359 ہوگئی، جبکہ 2026 کے اعدادوشمار 21 ستمبر تک 1,626 ہلاکتیں ظاہر کرتے ہیں۔ دہشت گردی سے متعلق واقعات بھی 2018 کے 73 سے بڑھ کر 2019 میں 105، 2020 میں 99، 2021 میں 169، 2022 میں 225، 2023 میں 472، 2024 میں 702 اور 2025 میں 766 ہوچکے ہیں۔
لہٰذا جب سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ پولیس اور عوام طویل عرصے سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں تو اس بنیادی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں ان کی بات محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ ہے جس کی شدت اعدادوشمار سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
اصل اختلاف اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ 2018 سے 2022 تک عمران خان کی حکومت کے دوران صوبے میں امن قائم ہوا اور پھر 2022 میں "رجیم چینج آپریشن" اور ریاست کی غلط پالیسی کے باعث دہشت گردی دوبارہ لائی گئی۔ یہاں دو مختلف باتوں کو ایک ساتھ رکھ دیا گیا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ 2018 اور 2019 میں دہشت گردی کی سطح واقعی ماضی کے بدترین برسوں کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ لیکن دوسری بات یہ ہے کہ 2020، 2021 اور خصوصاً 2022 میں تشدد پہلے ہی دوبارہ بڑھ رہا تھا۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 2019 میں 130 ہلاکتوں کے مقابلے میں 2020 میں 216، 2021 میں 301 اور 2022 میں 527 ہلاکتیں ہوئیں۔ یعنی 2022 کا سکیورٹی بحران کسی ایک دن یا ایک سیاسی تبدیلی کے بعد اچانک شروع نہیں ہوا تھا؛ اس کا بڑھتا ہوا رجحان اس سے پہلے ہی موجود تھا۔
یہاں سہیل آفریدی کی دلیل کا سب سے کمزور حصہ سامنے آتا ہے۔ 2022 کے بعد دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ایک قابلِ مشاہدہ حقیقت ہے، لیکن یہ کہنا کہ اس اضافے کی وجہ لازماً رجیم چینج تھی ایک سبب اور نتیجے کا دعویٰ ہے۔ اس کے لیے صرف تاریخوں کا ساتھ ساتھ آنا کافی نہیں۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا ہوگا کہ سیاسی تبدیلی نے کون سی مخصوص پالیسی تبدیل کی، اس تبدیلی کا دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمی پر کیا براہِ راست اثر پڑا، اور دوسرے عوامل کا کیا کردار تھا۔
یہاں ایک اور اہم حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔ 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی کا معاملہ موجود تھا اور نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس پورے معاملے کو صرف "رجیم چینج" کے ایک جملے میں سمیٹ دینا ایک پیچیدہ سکیورٹی مسئلے کو غیر ضروری طور پر سادہ بنا دیتا ہے۔
اسی طرح 2018 سے 2022 کے امن کا پورا کریڈٹ کسی ایک حکومت کو دینا بھی تاریخی طور پر مکمل تصویر نہیں۔ دہشت گردی میں کمی کے پیچھے فوجی کارروائیاں، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی کارروائیاں، سرحدی انتظام، افغانستان کی صورتحال اور کئی دوسری ریاستی پالیسیوں کا کردار رہا ہے۔ اس لیے اگر ایک حکومت اپنی سیاسی کارکردگی کے طور پر اس دور کے نسبتاً بہتر امن کا ذکر کرتی ہے تو یہ اس کا سیاسی مؤقف ہوسکتا ہے، لیکن اسے مکمل اور واحد وجہ کہنا الگ دعویٰ ہے۔
وزیراعلیٰ نے پولیس کے وسائل کے بارے میں کہا کہ
"15 اکتوبر 2025 کو حکومت سنبھالنے کے بعد پولیس کے لیے تاریخ میں بے مثال فنڈز فراہم کیے۔ گزشتہ سال سالانہ بجٹ سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے۔ رواں سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کیا ہے۔ پولیس فرنٹ فٹ پر دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہے، ان کی قربانیوں کا احساس ہے۔ خیبرپختونخوا عوام اور پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن ہے۔ پولیس کے شہداء پیکیج میں اضافہ کیا ہے اور جدید آلات کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے ہیں۔"
اب آتے ہیں پولیس کے وسائل کی طرف۔ یہاں وزیراعلیٰ کی بات خاصی اہم ہے کیونکہ اس حصے کو اعدادوشمار سے جانچا جاسکتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے مطابق رواں مالی سال پولیس کا بجٹ تقریباً 191 ارب روپے تک بڑھایا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے پہلے بھی پولیس، سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کی استعداد بڑھانے کے لیے تقریباً 35 ارب روپے اضافی دینے کا ذکر کیا تھا۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق جدید اسلحے، اینٹی ڈرون جیمنگ نظام، ڈرون نگرانی اور بکتر بند گاڑیوں سمیت مختلف آلات کے لیے بھی وسائل مختص کیے گئے ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ نکتہ ہے۔ وزیراعلیٰ کا موجودہ دعویٰ کہ انہوں نے پولیس کے لیے "تاریخ میں بے مثال فنڈز" فراہم کیے، سیاسی زبان ہے؛ لیکن بجٹ میں نمایاں اضافہ بہرحال دستاویزی حقیقت ہے۔
لہٰذا یہاں وزیراعلیٰ کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرنا بھی درست نہیں اور اسے کامیابی کا حتمی ثبوت سمجھنا بھی درست نہیں۔ بجٹ مختص ہونا ایک چیز ہے، رقم خرچ ہونا دوسری اور اس خرچ کے نتیجے میں پولیس کی عملی استعداد میں اضافہ تیسری چیز ہے۔
اے پی سیز، جیمرز اور اینٹی ڈرون نظام کے بارے میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ
"ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا فوج کے ماتحت ہے، گزشتہ سال سے ادائیگی کے باوجود خیبرپختونخوا کی اے پی سیز اب تک نہیں آئیں۔ اسلام آباد کے لیے جدید اے پی سیز تیار کرکے دے دی گئیں لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو اے پی سیز نہیں ملیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اسلام آباد کو دی جانے والی اے پی سیز صرف پی ٹی آئی کے خلاف استعمال ہوں گی، یہ خیبرپختونخوا پولیس کو دی جائیں۔ این آر ٹی سی کو جیمرز اور اینٹی ڈرونز کی ادائیگیاں بھی خیبرپختونخوا حکومت کر چکی ہے۔این آر ٹی سی اور ایچ آئی ٹی سے مطالبہ ہے کہ جیمرز، اے پی سیز اور دیگر آلات جلد از جلد فراہم کیے جائیں۔"
اگر ادائیگی، آرڈر اور مقررہ ترسیلی مدت کے سرکاری دستاویزات اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں تو یہ واقعی ایک سنجیدہ انتظامی مسئلہ ہے۔ لیکن اس معاملے میں متعلقہ وفاقی اداروں کا مؤقف بھی سامنے آنا چاہیے۔ صرف ایک فریق کے بیان کی بنیاد پر اسے ثابت شدہ حقیقت قرار دینا صحافتی طور پر درست نہیں ہوگا۔
البتہ اس معاملے میں ایک احتیاط ضروری ہے۔ صرف یہ حقیقت کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ادائیگی کردی ہے اور ابھی تک اے پی سیز موصول نہیں ہوئیں، اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے اپنا معاہدہ یا مقررہ مدت پوری نہیں کی۔ دفاعی نوعیت کی گاڑیوں کی تیاری میں آرڈر، معاہدے، خام مال، پیداوار اور ترسیل کے لیے باقاعدہ مدت مقرر ہوتی ہے اور ایک ہی وقت میں مختلف اداروں کے آرڈرز بھی زیر تکمیل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے آرڈر کی معاہدے میں مقررہ ترسیلی مدت کیا تھی، ادائیگی کب ہوئی، معاہدہ کب نافذ ہوا اور اب تک کتنی مدت گزر چکی ہے۔
اگر مقررہ مدت گزرنے کے باوجود اے پی سیز فراہم نہیں کی گئیں تو یہ واقعی ایک سنجیدہ انتظامی معاملہ ہوگا اور اس پر جواب طلبی ہونی چاہیے۔ لیکن اگر مقررہ مدت ابھی باقی ہے تو صرف "ادائیگی کے باوجود اے پی سیز نہیں ملیں" کہنا ایک ایسا تاثر پیدا کرے گا جو مکمل دستاویزات کے بغیر گمراہ کن ہوسکتا ہے۔
البتہ وزیراعلیٰ کا یہ اضافی دعویٰ کہ اسلام آباد کے لیے جدید اے پی سیز تیار کرکے دے دی گئیں اور وہ پی ٹی آئی کے خلاف استعمال ہوں گی، الگ اور زیادہ سنگین دعویٰ ہے۔ اس کی تصدیق کے لیے اسلام آباد کے آرڈر، تعداد، معاہدے، ترسیل اور ان گاڑیوں کے استعمال سے متعلق سرکاری ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے۔ دونوں معاملات کو ایک ہی دعوے کے طور پر جوڑنے کے بجائے الگ الگ جانچنا ہی درست صحافتی طریقہ ہوگا۔
تقریر کا دوسرا بڑا حصہ پولیس کو سیاسی استعمال سے بچانے کے بارے میں ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ
"15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد کسی پولیس افسر کو کوئی غلط حکم نہیں دیا۔ کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے اور غلط ایف آئی آر کا حکم نہیں دیا۔ جب میں بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتا تو کسی اور کو بھی غلط احکامات دینے کا حق نہیں۔ کسی پولیس افسر کا فرض نہیں کہ وہ کسی کا غلط حکم مانے۔ ہمارا مفاد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں، ہماری ترجیح دہشتگردی سے نمٹنا ہے۔ اگر پولیس کا مفاد بھی سیاسی جماعت کو ختم کرنا بن جائے تو خیبرپختونخوا کے عوام کہاں جائیں گے۔ عمران خان کے ویژن کے مطابق پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا، نہ کبھی پولیس کے معاملات میں مداخلت کی اور نہ پوسٹنگ ٹرانسفر میں۔"
اصولی طور پر یہ ایک قابلِ قبول مؤقف ہے۔ پولیس کو سیاسی انتقام کا آلہ نہیں بننا چاہیے، اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کو پولیسنگ کا متبادل بنایا جاسکتا ہے۔
لیکن یہاں بھی ایک بنیادی سوال ہے کہ غلط حکم کی تعریف کون کرے گا اور اس کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کس طریقۂ کار سے ہوگا؟
وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ "کسی پولیس افسر کا فرض نہیں کہ وہ کسی کا غلط حکم مانے" اصولی طور پر درست معلوم ہوتا ہے، مگر انتظامی ریاست میں اس اصول کے ساتھ قانونی طریقۂ کار بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہر فریق اپنے مخالف کے حکم کو غلط قرار دے کر پولیس کو حکم عدولی کی ترغیب دینے لگے تو پولیس غیر جانب دار ادارے کے بجائے سیاسی کشمکش کا فریق بن سکتی ہے۔ اس لیے اصل حل واضح تحریری احکامات، قانون کے مطابق عمل، عدالتی نگرانی اور ادارہ جاتی جواب دہی میں ہے۔
یہی بات وزیراعلیٰ کے اس دعوے پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت کارروائی کرے گی۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو صوبائی حکومت کا آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا درست ہوگا، لیکن یہاں بھی "سیاسی انتقام" کا تعین شواہد اور قانونی طریقۂ کار سے ہونا چاہیے، سیاسی الزام سے نہیں۔
تقریر میں وزیراعلیٰ نے ریاستی ترجیحات کے بارے میں کہا کہ
"دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا ترجیح بن گیا ہے۔"
یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے۔ اسے ثابت کرنے کے لیے محض سیاسی واقعات یا گرفتاریوں کا حوالہ کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ریاستی وسائل اور سکیورٹی اداروں کی ترجیح واقعی دہشت گردی کے مقابلے میں سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی بن چکی ہے۔ دوسری طرف اگر حکومت اس دعوے کو غلط سمجھتی ہے تو اسے بھی اپنے اعدادوشمار اور کارروائیوں کے ذریعے واضح کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف کتنے وسائل، اہلکار اور کارروائیاں جاری ہیں۔
8 فروری 2024 کے بارے میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ
"8 فروری 2024 کو پولیس اور سول انتظامیہ نے غلط احکامات ماننے سے انکار کرکے عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کی۔ آج بھی پولیس غلط احکامات کی مزاحمت کرے۔"
یہاں بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ "غلط حکم" کی قانونی تعریف کیا ہے، کس حکم کو کس بنیاد پر غلط قرار دیا گیا، اور پولیس کے لیے حکم ماننے یا نہ ماننے کا قانونی طریقۂ کار کیا تھا۔ ایک مخصوص واقعے کو عمومی اصول بنانے سے پہلے اس واقعے کے مکمل سرکاری ریکارڈ اور قانونی پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے۔
پرامن احتجاج کے حق کے بارے میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ
"ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، ہم پُرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ پُرامن احتجاج روکنے کا حکم دینے والوں سے کہیں کہ آئین سے رائٹ ٹو اسمبلی کی شق نکال دیں۔ جب تک آئین میں رائٹ ٹو اسمبلی موجود ہے ہم احتجاج کریں گے۔"
پرامن احتجاج کے حق کا معاملہ بھی اسی توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ آئین میں اجتماع اور اظہار کے حقوق موجود ہیں، لیکن یہ حقوق قانون کے تابع ہیں۔ چنانچہ ایک طرف پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرنا ضروری ہے، دوسری طرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ عوامی سلامتی، املاک اور دوسرے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ احتجاج ہونا چاہیے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ قانونی، پرامن اور محفوظ احتجاج کے لیے ریاست اور منتظمین دونوں اپنی اپنی ذمہ داری کیسے پوری کرتے ہیں۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے پولیس کی ترجیح کے بارے میں کہا کہ
"دہشتگردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر کسی اور کی طرف سے غلط حکم آئے تو پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔"
سہیل آفریدی کی تقریر کا شاید سب سے اہم جملہ یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس کی توجہ کسی سیاسی جماعت کی طرف منتقل نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اصول صرف وفاق کے لیے نہیں، صوبائی حکومت کے لیے بھی یکساں ہونا چاہیے۔ پولیس کو نہ وفاقی حکومت کا سیاسی آلہ بننا چاہیے، نہ صوبائی حکومت کا، نہ کسی جماعت کا۔ اس کی پہلی ذمہ داری قانون اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔
اس پوری تقریر کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو تصویر نہ مکمل طور پر وزیراعلیٰ کے حق میں نکلتی ہے نہ مکمل طور پر ان کے خلاف۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی درست ہے۔ پولیس کے لیے وسائل بڑھانے کی بات بڑی حد تک بجٹ اور سرکاری ریکارڈ سے ثابت ہوتی ہے۔ پولیس کو سیاسی مداخلت سے بچانے کا اصول بھی جمہوری اور انتظامی اعتبار سے اہم ہے۔ لیکن 2022 کے بعد دہشت گردی کی واپسی کو براہِ راست "رجیم چینج" کا نتیجہ قرار دینا، 2018 سے 2022 کے امن کو بنیادی طور پر ایک سیاسی حکومت کے کھاتے میں ڈالنا اور یہ کہنا کہ دہشت گردی کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنا ریاست کی ترجیح بن چکا ہے، ایسے دعوے ہیں جنہیں مزید شواہد کے بغیر حتمی حقیقت نہیں کہا جاسکتا۔
اصل مسئلہ شاید سہیل آفریدی کی تقریر سے بھی بڑا ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اتنی سنگین ہوچکی ہے کہ اسے وفاق بمقابلہ صوبہ، پی ٹی آئی بمقابلہ مخالف جماعتیں یا عمران خان بمقابلہ ریاست کے سیاسی فریم میں محدود کرنا خود مسئلے کو چھوٹا کردینا ہے۔ اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ 2022 کے بعد صورتحال مسلسل خراب ہوئی اور 2024 میں دہشت گردی کی شدت انتہائی بلند سطح تک پہنچی، جبکہ 2025 میں ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ گئی۔
اس لیے عوام کو نہ وزیراعلیٰ کی ہر بات پر یقین کرنا چاہیے، نہ ان کی ہر بات کو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر مسترد کرنا چاہیے۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ دعویٰ کیا ہے، ثبوت کیا ہے، ذمہ داری کس کی ہے، اختیار کس کے پاس ہے اور نتیجہ کیا نکلا؟
سہیل آفریدی کی تقریر کو اسی پیمانے پر پرکھیں تو اس میں کچھ حقیقی مسائل کی درست نشاندہی بھی ہے اور کچھ سیاسی دعوے بھی۔ صحافت کا کام کسی ایک حصے کو پکڑ کر پورے خطاب کو سچ یا جھوٹ قرار دینا نہیں، بلکہ دونوں کو الگ کرکے عوام کے سامنے رکھنا ہے۔
کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان کسی حکومت، جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے عام شہری کا ہو رہا ہے۔ اس لیے اس مسئلے پر سیاسی بیانیوں سے زیادہ ثبوت، کارکردگی اور جواب دہی کی ضرورت ہے۔
واپس کریں