دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جکڑا ہوا معاشرہ اور وڈیرہ شاہی کے پنجے ۔ شیردل ملک
No image برصغیر کی تاریخ پر اگر مجموعی اور بنظرِ غائر نظر ڈالی جائے تو ایک حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ یہاں کا معاشرتی اور سیاسی ڈھانچہ صدیوں سے مختلف طبقاتی، معاشی، سیاسی اور سماجی بندشوں میں جکڑا رہا ہے۔ کہیں طاقت کا مرکز بادشاہ اور دربار تھا، کہیں جاگیردار اور زمیندار، کہیں نواب اور منصب دار، تو کہیں مذہبی یا مقامی بااثر طبقہ۔ اقتدار کی شکلیں بدلتی رہیں، مگر عام آدمی اور طاقتور کے درمیان فاصلہ بڑی حد تک برقرار رہا۔
برطانوی استعمار نے اس موجودہ سماجی ساخت کو اپنے انتظامی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ بالخصوص 1857ء کی بغاوت کے بعد برطانوی حکومت نے وفادار مقامی اشرافیہ، زمینداروں اور بااثر خاندانوں کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے۔ مختلف علاقوں میں زمین، عہدے اور مراعات کے ذریعے ایسے طبقات کو تقویت ملی جن کا مفاد نوآبادیاتی ریاست کے استحکام سے وابستہ تھا۔ یوں طاقت، زمین اور سیاسی اثر و رسوخ کا ایک ایسا گٹھ جوڑ مضبوط ہوا جس کے اثرات بعد کے ادوار میں بھی محسوس کیے گئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد سیاسی نظام تبدیل ہوا، مگر معاشرتی طاقت کے بہت سے پرانے مراکز فوراً ختم نہیں ہوئے۔ زمین، دولت، سرکاری اختیار، سیاسی اثر و رسوخ اور خاندانی تعلقات نے کئی علاقوں میں طاقت کے ارتکاز کو برقرار رکھا۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ وڈیرہ کلچر صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک ذہنیت بن گیا۔
آج مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون وڈیرہ ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وڈیرہ ذہنیت کہاں کہاں موجود ہے؟
قومی سطح سے لے کر گلی محلے تک، جہاں کوئی شخص اپنے عہدے، دولت، سیاسی تعلق، سرکاری اختیار، مذہبی اثر یا خاندانی طاقت کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے، وہاں وڈیرہ کلچر کی ایک شکل جنم لے لیتی ہے۔ بڑے ایوانوں میں موجود بااثر سیاسی خاندان اس کا ایک پہلو ہیں، مگر اس کا دوسرا اور شاید زیادہ وسیع پہلو ہماری روزمرہ زندگی میں دکھائی دیتا ہے۔
کسی دفتر میں معمولی سا کام کروانے کے لیے سفارش درکار ہو، کسی تھانے میں داد رسی کے لیے بااثر شخص کا فون ضروری سمجھا جائے، کسی سرکاری اہلکار کو اپنے منصب سے زیادہ اپنی ذاتی طاقت کا احساس ہو، یا کوئی مقامی بااثر شخص یہ سمجھنے لگے کہ قانون دوسروں کے لیے ہے اور اس کے لیے نہیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف فرد کا نہیں، پورے معاشرتی رویے کا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وڈیرہ کلچر صرف جاگیردارانہ حویلیوں تک محدود نہیں رہا۔ آج چھوٹے سے چھوٹا بااثر شخص بھی اپنے دائرۂ اختیار میں ایک "وڈیرہ" بننے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی عہدہ اس کی طاقت بن جاتا ہے، کبھی دولت، کبھی سیاسی تعلق، کبھی مذہبی اثر اور کبھی محض یہ یقین کہ اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
سب سے تشویش ناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب طاقت کے ساتھ قانون سے استثنا کا احساس بھی پیدا ہو جائے۔
کراچی میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ تشدد، فائرنگ اور حراست کے واقعے نے اسی سوال کو دوبارہ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اگر کسی شہری کے ساتھ معمولی ٹریفک تنازع کے بعد مسلح افراد کے ذریعے طاقت کا استعمال ثابت ہوتا ہے تو معاملہ محض ایک فرد کے ساتھ زیادتی کا نہیں رہتا؛ یہ قانون کی بالادستی، شہری تحفظ اور ریاستی رٹ کے بنیادی سوال سے جڑ جاتا ہے۔
ایسے واقعات میں سب سے خطرناک رویہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اصل مسئلے کے بجائے متاثرہ شخص کی زبان، قومیت، علاقے، سیاسی وابستگی، مذہبی شناخت یا کسی دوسرے تعصب کو موضوع بنا لیتے ہیں۔ یوں اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے:
جرم کس نے کیا؟
قانون کس نے توڑا؟
اور ریاست نے قانون کے مطابق کیا کارروائی کی؟
یہ تین سوال کسی بھی مہذب معاشرے میں بنیادی ہونے چاہئیں۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقتور طبقات کے خلاف اجتماعی مزاحمت کو کمزور کرنے کے لیے معاشروں میں موجود مذہبی، لسانی، علاقائی اور طبقاتی تقسیمیں سیاسی طور پر استعمال کی جا سکتی ہیں۔ برصغیر کی نوآبادیاتی تاریخ میں بھی مختلف شناختوں اور مفادات کے درمیان تقسیم نے سیاسی عمل کو متاثر کیا۔ تاہم آج ہمارے لیے سب سے اہم سوال ماضی کو الزام دینا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ ہم خود اپنے معاشرے میں تقسیم کو کس حد تک طاقتور عناصر کے لیے ڈھال بننے دیتے ہیں۔
آج بھی جب کسی بااثر شخص پر سنگین الزام سامنے آتا ہے تو بحث بہت جلد اصل واقعے سے ہٹ کر "ہم" اور "وہ" میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ کوئی اسے لسانی مسئلہ بنا دیتا ہے، کوئی سیاسی، کوئی مذہبی اور کوئی علاقائی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جرم اور قانون کا سوال پیچھے رہ جاتا ہے اور جذبات آگے آ جاتے ہیں۔
یہ رویہ صرف مجرم کو فائدہ نہیں پہنچاتا بلکہ پورے معاشرے کو کمزور کرتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قانون کی بالادستی کسی ایک طبقے، زبان، صوبے، مذہب یا سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہر شہری کا مسئلہ ہے۔
آج اگر ایک کمزور شہری طاقتور کے ہاتھوں ناانصافی کا شکار ہوتا ہے اور ہم خاموش رہتے ہیں تو کل یہی طاقت کسی دوسرے کمزور شخص کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کی اصل آزمائش بھی یہی ہے کہ قانون کا اطلاق طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں ہو۔
مسئلے کا حل محض نعروں میں نہیں بلکہ اجتماعی رویے کی تبدیلی میں ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سفارش قابلیت نہیں، قانون طاقتور کی جاگیر نہیں، عہدہ ذاتی بادشاہت نہیں اور دولت کسی انسان کو دوسرے انسان سے برتر نہیں بناتی۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ہم کسی بااثر شخص کی حمایت صرف اس لیے نہیں کریں گے کہ وہ "اپنا" ہے، اور کسی مظلوم کو صرف اس لیے نظرانداز نہیں کریں گے کہ وہ "دوسرے" گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔
وڈیرہ کلچر اس وقت ختم ہوگا جب وڈیرہ صرف حویلی میں نہیں بلکہ ہمارے ذہن میں بھی ختم ہوگا۔
جب ہم قانون کو شخص سے، انصاف کو شناخت سے اور حق کو تعلقات سے بالاتر سمجھنے لگیں گے، تب معاشرہ حقیقی معنوں میں آزاد ہونا شروع ہوگا۔
ریاست کی مضبوطی صرف بڑے سرکاری دفاتر، پولیس کی وردی یا بلند عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ایک عام شہری یہ یقین رکھتا ہو کہ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تو قانون اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں کتنے وڈیرے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بنانے کے لیے تیار ہیں جہاں کسی کو وڈیرہ بننے کی ضرورت ہی نہ رہے؟
واپس کریں