
جس کی ایک مار سے بلوچستان کے سارے مسئلے حل ہونے تھے‘ افسوسناک امر ہی اسے کہہ سکتے ہیں کہ اب تک وہ باکمال ایس ایچ او دریافت نہیں ہو سکا۔ اس اثنا میں کوئی تباہی ہے جو وہاں نہ ہو رہی ہو۔ اب تو خبریں پڑ ھ پڑھ کے تھک گئے ہیں کہ فلاں پوسٹ پر حملہ ہو گیا‘ فلاں شاہراہ بند کر دی گئی‘ فلاں افسر کو اغوا کر لیا گیا۔ کیا کہا گیا تھا بلوچستان کے بارے میں کہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہے‘ جھومر بھی ایسا کہ وختہ ڈالا ہوا ہے۔ حالات ایسے جو قابو میں نہیں آ رہے۔ اور صرف اس لیے کہ وہ ایک ایس ایچ او جس نے جادو کی چھڑی لہرانی تھی‘ ڈھونڈے سے کہیں مل نہیں رہا۔ ہماری صرف یہ گزارش ہے کہ حضور فی الحال اور کام چھوڑیے اور اِدھر اُدھرکے دورے بھی مؤخر کیجئے جب تک وہ ایس ایچ او نہ ملے۔
اس پیرائے میں جنرل مشرف بھی یاد آتے ہیں۔ نواب اکبر خان بگٹی سے گڑبڑ شروع ہوئی اور نواب صاحب نے اونٹ پر بیٹھے پہاڑوں کا رخ کیا تو جنرل مشرف نے ایک تاریخی جملہ ادا کیا کہ اُسے پتا نہیں چلے گا اُسے کس چیز نے ہِٹ کیا ہے۔ ایک غار میں پناہ لیے جب نواب بگٹی پر ہوائی حملہ ہوا تو یقینا اُنہیں پتا نہ چل سکا ہوگا کہ اُنہیں کس چیز نے ہِٹ کیا ہے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد بلوچستان میں جو صورتحال بنی وہ بیس سال بعد اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پور ی قوم کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سی نظرِ بد بلوچستان کو لگی ہے۔ ایس ایچ او والی بڑھک اور ہِٹ کرنے والی دھمکی ایک ہی انداز کی دو کڑیاں ہیں‘ فرق صرف اتنا کہ ان میں بیس پچیس سال کا فاصلہ ہے۔ یعنی سرکاری رویے جو تب کے تھے آج بھی وہی ہیں۔ کیا ماجرا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے اشخاص تو آتے جاتے ہیں لیکن سوچ وہی پرانی ہے۔ کہ بس تھوڑے سے کائینیٹک (kinetic) ایکشن کی ضرورت ہے اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ آج کل کا فیورٹ لفظ بنا ہوا ہے‘ کائینیٹک۔ حملے ایسے ہو رہے ہیں کہ ایک مقام سے دوسرے موومنٹ مشکل ہوگئی ہے۔ کتنے ہی ضلعی مقام ہیں جہاں موٹر سائیکل سوار جتھوں نے حملہ کیا اور پھر نہایت اطمینان سے واپس چلے گئے۔ اور ہم ہیں کہ کائینیٹک کا راگ الاپتے جا رہے ہیں۔
ہماری بات کس نے سننی ہے لیکن جان کی امان پا کر ایک گزارش کر سکتے ہیں! حملوں کے بعد جو سرکاری ہینڈ آؤٹ جاری ہوتے ہیں اُن میں دشمن کا نام اتنا نہ لیا جائے۔ کئی ہینڈ آؤٹ تو ایسے ہوتے ہیں کہ ہر دوسری تیسری لائن میں دشمن کا ذکر ہوتا ہے۔ اتنی تو سمجھ ہونی چاہیے کہ ایسا کرنے سے دشمن کی بڑائی ہوتی ہے اور ہم چھوٹے لگتے ہیں۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان دونوں کے پیچھے یقینا ہندوستان کا ہاتھ ہو گا لیکن بار بار کے ذکر سے تاثر بنتا ہے کہ ہندوستان کی پہنچ کتنی دور کی ہے کہ وہاں سے پہاڑوں کے اوپر اور سمندر کے اس طرف سے جا کر ہمارا اصلی اور ازلی دشمن کے پی اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اتنی گڑبڑ پھیلا سکتا ہے۔ مؤقف ضرور بیان کیا جائے‘ احسن طریقے سے کیا جائے‘ لیکن ہندوستان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا جائے۔ احساسِ کمتری پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہ کوئی پالیسی یا حکمتِ عملی کی بات نہیں ڈرافٹنگ کا مسئلہ ہے۔ اسلوب کچھ بہتر ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
کے پی کا مسئلہ بھی گمبھیر بنا ہوا ہے۔ جانکاری رکھنے والے لوگ جو وہاں کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہیں وہ یہاں درج نہیں کیا جا سکتا۔ اعتراض اُٹھے گا لہٰذا تفصیل میں جانے سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ لیکن چیک پوسٹوں پر حملے ہو جائیں‘ قیمتی جانوں کا ضیاع ہو‘ فائرنگ کا تبادلہ گھنٹوں رہے پھر خبر چھپ تو نہیں سکتی۔ ایک روز کوہاٹ ہنگو روڈ پر واقع پولیس لائنز پر خونریز حملہ اور دوسرے روز کوہاٹ ٹَل روڈ پر فوجی کانوائے پر حملہ ہو جائے جس میں خاصا جانی نقصان ہو تو تشویش لازم ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ کتنی ہی وڈیوز نیٹ پر ملیں گی جن میں مسلح ٹی ٹی پی فائٹر سابقہ قبائلی علاقوں کے کسی بازار میں پھر رہے ہیں اور اعلانات بھی کر رہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم پنجاب میں بیٹھے اس گڑبڑ اور افراتفری کا صحیح احساس نہیں کر پا رہے۔ یہاں زیادہ تر معمول کے مطابق زندگی چل رہی ہے۔ دھماکوں اور حملوں کی خبریں لوگ دیکھ اور پڑھ لیتے ہیں۔ ٹی وی میں بھی سرخیاں آ جاتی ہیں لیکن گڑبڑ کیونکہ دور ہے اُس کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ ہاں‘ شہادت کسی گاؤں یا محلے سے متعلق ہو تو پھر تھوڑا گہرا احساس ہو جاتا ہے کہ سب ٹھیک نہیں ۔ چکوال کی مثال تھوڑی الگ ہے کیونکہ فوج سے قربت کی وجہ سے پورے ضلع میں کوئی ایک قبرستان نہ ہو گا جس میں شہیدوں کی قبریں نہ ہوں۔ اور یہ 65ء اور 71ء کے شہدا کی بات نہیں بلکہ موجودہ زمانے کی بات ہے۔ لیکن مجموعی طور پر پنجاب میں رویہ یہ ہے کہ گو دور گڑبڑ ہے ہنوز دلی دور اَست۔ افغانستان جنگ جاری تھی تو امریکی صدر بگرام ایئربیس اپنے فوجیوں کو منہ دکھانے آ جاتے تھے۔ کے پی اور بلوچستان میں اموات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔ گِن کر بتا دیں صدر یا وزیراعظم نے کتنی بار اُن علاقوں کا دورہ کیا ہے؟ ہر روز دیکھو کسی بیرونی دورے پر جا رہے ہوں گے۔ صوبائی حکام ہیں تو سرکاری جہاز پکڑے نجی دوروں پر جا رہے ہوں گے۔ دیدہ دلیری دیکھئے کہ پھر یہ طعنہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ بیرونی دہشت گردی سے زیادہ صوبائی دہشت گردی کا ڈر ہے۔ ہر موقع پر بات کرنا لازم نہیں ہوتا‘ لیکن بات کرنی ہی ہے تو کچھ سوچ سمجھ کے کی جائے۔ پنجاب میں حکمرانی کے انداز ایسے ہیں کہ قطعاً نہیں لگتا کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ لگتا ہے یہاں کوئی میلہ لگا ہوا ہے۔
دیگر باتیں رہنے دیجئے اس بات کا خیال رہے کہ یہ ایران والا معاملہ جلد ختم ہونے والا نہیں۔ باخبر تجزیہ کار تو یہ کہتے ہیں کہ تسکینِ قلب کیلئے امریکہ نے پھر کوئی جھَک مارنی ہے۔ ابھی تو صدر ٹرمپ کے سر پر مڈٹرم الیکشن ہیں لیکن جونہی ختم ہوتے ہیں تو دوبارہ سے حملوں کا منظر سامنے آ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر بات کہاں تک جاتی ہے اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ آج سے ایک ماہ پہلے کسی کو خیال تھا کہ یہ حوثیوں والا معاملہ اُٹھے گا؟ کسی نے سوچا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے ہو جائیں گے اور ریاض ایئرپورٹ حوثی میزائلوں کی زد میں آئے گا؟ ابھی تو حوثیوں والا معاملہ بھڑک رہا ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کہاں جا کر دم لے گا۔ ممکنہ خطرات میں کویت کا ذکر آتا ہے‘ بحرین کے استحکام کی بات ہوتی ہے۔ ہماری صورتحال ویسے ہی خاصی نازک ہے۔ وہاں حالات مزید بگڑے اور تیل کی قیمتوں کے ایک دو اور جھٹکے لگے تو ہم کہاں جائیں گے۔ کس سے مدد مانگیں گے؟ اب تو سعودیہ بھی مشکل میں ہے فوجی اور معاشی‘ دونوں اعتبار سے۔ سفارت کاری میں پاکستان اپنا حصہ ڈال رہا ہے لیکن وہاں کے حالات ہمارے کنٹرول میں تو نہیں۔ اب تو کسی کے کنٹرول میں نہیں۔ اس لیے زیادہ وجہ بنتی ہے کہ اندرونی حالات کی طرف دیکھا جائے۔ کچھ تو سوچ بچار ہو کہ یہ جو محاذگرم ہیں ان کے بارے میں کیا کیا جائے۔ کون سی حکمت عملی اپنائی جائے۔ کہاں گُم ہے ایسی سوچ اور کاوش؟
واپس کریں