
23 ستمبر کو پشتون کلچر ڈے منایا جاتا ہے۔ اس روز پشتون اپنی زبان، لباس، شاعری، موسیقی، حجرے، جرگے، روایات اور تہذیبی شناخت کا ذکر کرتے ہیں۔ اپنی ثقافت سے محبت اور اپنے تاریخی ورثے پر فخر ہر قوم کا فطری حق ہے۔ مجھے بھی پشتو زبان، پشتون تاریخ، ادب اور تہذیبی روایات سے محبت ہے، لیکن آج اسی محبت کے ساتھ ایک سوال اٹھانا ضروری سمجھتا ہوں. کیا کسی قوم کا مستقبل اس بات سے محفوظ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کو یاد کرتی رہے، یا مستقبل کے لیے اسے علم، سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں نئی دنیا پیدا کرنا ہوگی؟
میرے نزدیک ثقافت کسی قوم کی مستقل اور منجمد چیز کا نام نہیں۔ ثقافت دراصل انسان کے رہن سہن، خوراک، لباس، زبان، کام، سفر، رہائش، رابطے اور اجتماعی زندگی کا مجموعہ ہے۔ جب انسان کی زندگی بدلتی ہے تو ثقافت بھی بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس چیز کو ہم آج روایتی ثقافت کہتے ہیں، اس کا بڑا حصہ بھی کبھی اپنے زمانے کی نئی ٹیکنالوجی تھا۔
ذرا زراعت کو دیکھیے۔ کبھی بیل اور ہل کھیتی باڑی کی بنیادی ضرورت تھے۔ بیل کے ساتھ ہل تھا، ہل کے ساتھ کسان کا مخصوص طرزِ زندگی تھا اور اس پورے نظام کے ساتھ بے شمار معاشرتی روایات وابستہ تھیں۔ پھر ٹریکٹر آیا، زرعی مشینری آئی، جدید آبپاشی آئی اور فصل کی پیداوار کا طریقہ بدل گیا۔ کیا ہم نے بیل اور ہل کو اس لیے محفوظ رکھا کہ وہ ہماری ثقافت کا حصہ تھے؟ نہیں، کیونکہ نئی ٹیکنالوجی نے زیادہ تیزی، زیادہ پیداوار اور کم انسانی مشقت کے امکانات پیدا کیے۔ پرانی زرعی ثقافت کا بڑا حصہ خاموشی سے تاریخ کا حصہ بن گیا۔
سفر اور نقل و حمل کی مثال اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ گھوڑا، گدھا، خچر، اونٹ، تانگہ، بیل گاڑی اور کشتی کبھی انسان کے سفر اور نقل و حمل کے بنیادی ذرائع تھے۔ ان کے ساتھ پورا معاشرتی نظام وابستہ تھا۔ گھوڑوں کے اصطبل تھے، تانگے تھے، کوچوان تھے، راستوں کی اپنی دنیا تھی۔ پھر موٹر گاڑی آئی، بس آئی، ٹرک آیا، ریل آئی، میٹرو آئی اور جہاز آیا۔ فاصلے سکڑ گئے اور وقت کی قدر بدل گئی۔ آج دنیا کے بیشتر حصوں میں تانگہ، گھوڑا اور خچر روزمرہ آمدورفت کی ضرورت نہیں رہے۔ ٹیکنالوجی نے ایک پورا طرزِ زندگی بدل دیا۔
روشنی کو دیکھیے۔ کبھی دیا، چراغ اور لالٹین انسانی زندگی کا لازمی حصہ تھے۔ پھر بجلی آئی، بلب آیا، برقی روشنی آئی، ایل ای ڈی آئی اور اب سولر توانائی عام ہوتی جا رہی ہے۔ اسی طرح پانی ٹھنڈا رکھنے کے لیے مٹی کا مٹکا کبھی گھروں کی بنیادی ضرورت تھا، آج ریفریجریٹر نے اس ضرورت کا طریقہ بدل دیا ہے۔ گرمی سے بچنے کے لیے دستی پنکھا تھا، پھر برقی پنکھا آیا اور اب اے سی نے گھروں، دفاتر اور کام کرنے کے ماحول کو بدل دیا ہے۔
باورچی خانے میں لکڑیوں کا چولہا کبھی گھر کی زندگی کا مرکز تھا۔ دھواں، لکڑی، آگ اور روایتی برتن اس طرزِ زندگی کا حصہ تھے۔ پھر گیس کے چولہے آئے، بجلی کے چولہے آئے، انڈکشن اور دوسرے جدید برقی آلات آئے۔ اس تبدیلی نے صرف کھانا پکانے کا ذریعہ نہیں بدلا بلکہ وقت، محنت، صفائی اور گھریلو زندگی کے پورے معمول کو متاثر کیا۔
رابطے کی دنیا بھی دیکھ لیجیے۔ کبھی پیغام پہنچانے کے لیے قاصد، خط اور کبھی دوسرے روایتی ذرائع استعمال ہوتے تھے۔ پھر ٹیلی فون آیا، موبائل آیا، انٹرنیٹ آیا، ویڈیو کال آئی اور آج چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رابطہ ممکن ہے۔ اس تبدیلی نے صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بدلا بلکہ خاندان، کاروبار، تعلیم، سیاست، صحافت اور سماجی تعلقات تک کے انداز بدل دیے۔
یہ مثالیں ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھاتی ہیں کہ ٹیکنالوجی صرف چیزیں نہیں بدلتی، زندگی بدلتی ہے؛ اور جب زندگی بدلتی ہے تو کلچر بھی بدل جاتا ہے۔
اس لیے ثقافت کو کسی شیشے کے مرتبان میں بند کرکے محفوظ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو آج بیل، ہل، تانگہ، لالٹین، دستی پنکھا، مٹی کا چولہا اور بے شمار دوسری چیزیں ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انسان نے آسانی، رفتار، پیداوار اور سہولت کے لیے نئی ٹیکنالوجی اختیار کی اور اس کے ساتھ پرانا طرزِ زندگی بدلتا چلا گیا۔
یہاں سے اصل سوال پشتون ثقافت کے بارے میں پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنی زبان، شاعری، ادب، حجرے، جرگے، لباس، موسیقی اور روایات پر فخر کرتے ہیں۔ بالکل کریں۔ لیکن کیا ہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ ہماری نئی نسل سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق، صنعت، تجارت اور معیشت میں کیا پیدا کر رہی ہے؟
کوئی قوم صرف اس لیے ترقی نہیں کرتی کہ اس کے ماضی میں بڑے شاعر، بہادر جنگجو یا عظیم شخصیات گزری ہیں۔ ماضی عزت کا سرمایہ ہوسکتا ہے، لیکن مستقبل کی ضمانت نہیں۔ اگر ایک نسل صرف یہ کہتی رہے کہ ہمارے آباؤ اجداد بڑے تھے، انہوں نے یہ کیا، انہوں نے وہ کیا، تو یہ ماضی کا احترام ضرور ہے مگر مستقبل کی تعمیر نہیں۔ پدرم سلطان بود سے قومیں آگے نہیں بڑھتیں؛ انہیں خود بھی کچھ پیدا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بات زبان پر بھی پوری طرح لاگو ہوتی ہے۔ کسی زبان کی طاقت صرف اس کے شاعروں کی تعداد سے نہیں ناپی جاسکتی۔ شاعری زبان کا حسن ہے، ادب اس کی روح ہے، لیکن جدید دنیا میں زبان کی قوت کا ایک بڑا پیمانہ یہ بھی ہے کہ وہ سائنس، طب، انجینئرنگ، کمپیوٹر، قانون، تجارت، معیشت اور جدید تحقیق کی کتنی بڑی زبان ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پشتو ایک مضبوط اور بااثر زبان بنے تو ہمیں پشتو میں صرف شاعری نہیں، جدید علم بھی پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں سائنس کی کتابیں لکھنی ہوں گی، تحقیق کرنی ہوگی، نئی اصطلاحات پیدا کرنی ہوں گی، ٹیکنالوجی کے میدان میں کام کرنا ہوگا، کاروبار کرنا ہوگا اور اپنی زبان کو علم اور معیشت کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
ذرا تصور کیجیے، اگر کمپیوٹر پشتون سائنس دانوں نے ایجاد کیا ہوتا تو اس کے سینکڑوں اجزا، آلات، پروگرام اور بے شمار اصطلاحات کے نام پشتو میں پیدا ہوتے۔ اگر کسی عالمی سطح کی ٹیکنالوجی، مشین یا صنعتی نظام کی ایجاد پشتونوں نے کی ہوتی تو اس کے ساتھ پشتو کے الفاظ بھی دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچتے۔ یہی کسی زبان کی حقیقی عالمی پذیرائی کا ایک راستہ ہے۔
اس کے مقابلے میں محض دوسری زبانوں سے نئی اصطلاحات کا لفظی ترجمہ کرکے اپنی زبان میں داخل کرنا محدود اثر رکھتا ہے۔ زبان میں سب سے طاقتور نئے الفاظ اکثر اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اسی زبان کے بولنے والے خود علم، صنعت اور ایجاد میں نئی چیز پیدا کرتے ہیں۔
اس لیے مجھے ثقافت سے مسئلہ نہیں؛ مجھے اس وقت مسئلہ پیدا ہوتا ہے جب ثقافت کو ترقی کا متبادل سمجھ لیا جائے۔ اپنی پگڑی، چپل، لباس، موسیقی، اتنڑ، شاعری اور روایات پر فخر اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ ہمیں یونیورسٹی، تجربہ گاہ، صنعت، جدید سکول، تحقیق، کاروبار اور ٹیکنالوجی بھی چاہیے۔
ہمیں حجرہ بھی چاہیے اور جدید تعلیمی ادارہ بھی۔ ہمیں شاعری بھی چاہیے اور سائنس بھی۔ ہمیں اپنی تاریخ بھی یاد رکھنی چاہیے اور نئی تاریخ بھی بنانی چاہیے۔ ہمیں اپنی زبان سے محبت بھی کرنی چاہیے اور اسے جدید علوم کی زبان بنانے کے لیے عملی کام بھی کرنا چاہیے۔
اصل بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی ثقافت کو چھوڑ کر ترقی نہیں کرتیں، بلکہ ترقی کرتے ہوئے اپنی ثقافت کو بھی نئے حالات میں ڈھالتی ہیں۔ جب معیشت مضبوط ہوتی ہے تو ادب کے لیے وسائل پیدا ہوتے ہیں، جب تعلیم بڑھتی ہے تو زبان میں نئے علمی موضوعات آتے ہیں، جب سائنس آگے بڑھتی ہے تو زبان میں نئی اصطلاحات پیدا ہوتی ہیں اور جب قوم عالمی تجارت میں جگہ بناتی ہے تو اس کی زبان اور ثقافت بھی دنیا کے سامنے زیادہ طاقت کے ساتھ آتی ہے۔
اس لیے 23 ستمبر کو اگر ہم واقعی پشتون کلچر ڈے منانا چاہتے ہیں تو اس دن صرف یہ نہ کہیں کہ ہماری ثقافت عظیم ہے۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم آج کیا عظیم پیدا کر رہے ہیں؟
ہماری آنے والی نسل صرف یہ نہ کہے کہ ہمارے آباؤ اجداد بڑے شاعر تھے؛ وہ یہ بھی کہے کہ ہمارے لوگوں نے نئی دوا بنائی، نئی مشین ایجاد کی، نئی ٹیکنالوجی پیدا کی، عالمی کمپنی بنائی، نئی تحقیق کی اور دنیا کے علم میں اضافہ کیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ثقافت اور ترقی ایک دوسرے کے مخالف نہیں رہتے۔ قوم معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہے تو اس کا ادب بھی پھیلتا ہے، اس کی زبان بھی طاقتور ہوتی ہے، اس کے فنون بھی ترقی کرتے ہیں اور اس کی ثقافت بھی دنیا میں زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنا مقام بناتی ہے۔
مجھے پشتون ثقافت سے محبت ہے، اسی لیے میں اسے صرف ماضی کی یادگار کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ پشتون ثقافت ایک ایسی زندہ اور متحرک قوم کی ثقافت ہو جو علم پیدا کرے، سائنس میں آگے بڑھے، ٹیکنالوجی ایجاد کرے، معیشت مضبوط کرے اور دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر کھڑی ہو۔
اپنی زبان سے محبت کریں، اپنی تاریخ کو یاد رکھیں، اپنی ثقافت پر فخر کریں، مگر ماضی میں مت رکیں۔ مستقبل ایجاد کریں۔
کیونکہ ثقافت کو زندہ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ نہیں کہ ہم ہمیشہ پرانے زمانے کو دہراتے رہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسی نئی زندگی تخلیق کریں جس کی اپنی نئی ثقافت، نئی زبان، نئی اصطلاحات، نئی روایات اور نئی تاریخ ہو۔
واپس کریں