دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام، وبائی پھیلاؤ، اموات اور تدارک
No image رپورٹ خالد خان ۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ اب محض ایک طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسا خاموش عوامی صحت کا بحران بن چکا ہے جس کے اثرات گھر، خاندان، معیشت اور آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ہیپاٹائٹس سی کے بارے میں ہے کیونکہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں اور پاکستان دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ بوجھ والے ممالک میں شامل ہے۔ اسی طرح ملک میں تقریباً 38 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ مسئلے کی سنگینی یہ ہے کہ بہت سے متاثرہ افراد کو برسوں تک معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے جگر میں ایک خطرناک بیماری خاموشی سے بڑھ رہی ہے۔
ہیپاٹائٹس دراصل جگر کی سوزش کو کہتے ہیں۔ جگر ہمارے جسم کا نہایت اہم عضو ہے جو خون کو صاف کرنے، خوراک کو قابل استعمال بنانے، توانائی ذخیرہ کرنے اور جسم سے بہت سے نقصان دہ مادوں کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب وائرس یا کسی دوسرے سبب سے جگر میں سوزش پیدا ہوتی ہے تو اسے ہیپاٹائٹس کہا جاتا ہے۔ دنیا میں پانچ بڑے وائرس ایسے ہیں جو انسانی جسم میں وائرل ہیپاٹائٹس کا سبب بنتے ہیں، جنہیں ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور ای کہا جاتا ہے۔ اگرچہ پانچوں کا تعلق جگر سے ہے، لیکن ان کے پھیلنے کے طریقے، خطرات، بچاؤ اور علاج ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
سب سے پہلے ہیپاٹائٹس سی کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں اس کا بوجھ غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر متاثرہ خون کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچتا ہے۔ آلودہ سرنج یا سوئی کا دوبارہ استعمال، غیر محفوظ طبی آلات، مناسب طریقے سے جراثیم سے پاک نہ کیے گئے آلات، غیر محفوظ خون کی منتقلی اور بعض صورتوں میں منشیات کے لیے استعمال ہونے والی مشترکہ سوئیوں کے ذریعے یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں نئے انفیکشنز کے حوالے سے عالمی ادارۂ صحت نے غیر محفوظ طبی انجیکشن اور خون کی منتقلی کو ایک بڑا ذریعہ قرار دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مریض کو دیکھ کر یہ سمجھ لینا کہ وہ کسی غلط عادت کی وجہ سے بیمار ہوا ہے، نہ صرف غلط بلکہ سماجی طور پر بھی نقصان دہ رویہ ہے۔ ایک شخص کو برسوں پہلے کسی غیر محفوظ انجیکشن، دانتوں کے علاج، جراحی کے عمل، خون کی منتقلی یا غیر محفوظ طبی طریقے سے وائرس منتقل ہوسکتا ہے اور اسے خود بھی اس کا علم نہ ہو۔
ہیپاٹائٹس سی کی سب سے خطرناک بات یہی ہے کہ یہ اکثر خاموش رہتا ہے۔ بہت سے مریضوں میں ابتدا میں کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔ جب علامات ظاہر ہوں تو تھکن، کمزوری، بھوک میں کمی، متلی، پیٹ میں تکلیف، جوڑوں میں درد، پیشاب کا رنگ گہرا ہونا، آنکھوں یا جلد کا زرد ہونا جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ لیکن صرف علامات کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ کسی شخص کو ہیپاٹائٹس سی ہے یا نہیں۔ اس کے لیے خون کا معائنہ ضروری ہے۔
یہ بیماری اگر طویل عرصے تک جسم میں موجود رہے تو جگر کو آہستہ آہستہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جگر میں سختی پیدا ہوسکتی ہے جسے جگر کا تلیف کہا جاتا ہے، پھر بیماری بڑھ کر جگر کے شدید ناکارہ ہونے یا جگر کے سرطان تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس سی سے ہونے والی اموات کی بڑی وجہ جگر کا تلیف اور جگر کا سرطان ہیں۔
لیکن یہاں ایک امید کی بات بھی ہے اور اسے ہر پاکستانی تک پہنچانا ضروری ہے: ہیپاٹائٹس سی آج لاعلاج بیماری نہیں رہی۔ منہ کے ذریعے استعمال ہونے والی جدید ادویات، جنہیں براہ راست وائرس پر اثر کرنے والی ادویات کہا جاتا ہے، زیادہ تر مریضوں کو مکمل طور پر صحت یاب کرسکتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ان ادویات سے علاج کی کامیابی کی شرح 95 فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے اور عام طور پر علاج چند ہفتوں سے چند ماہ میں مکمل ہوجاتا ہے۔
اس لیے ہیپاٹائٹس سی کا مطلب موت کا پروانہ نہیں ہے۔ اصل خطرہ بیماری سے زیادہ اس بات میں ہے کہ انسان کو بیماری کا علم ہی نہ ہو، یا تشخیص کے باوجود علاج شروع نہ کرے۔ جتنا جلد مرض کی تشخیص ہوگی، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ جگر کو مستقل نقصان پہنچنے سے پہلے بیماری کو ختم کیا جاسکے۔
یہاں ایک غلط فہمی بھی دور کرنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس سی کا علاج لازماً انتہائی مہنگا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید علاج نے ہیپاٹائٹس سی کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابل علاج اور قابل رسائی بنا دیا ہے اور کم آمدنی والے ممالک میں عام ادویات کی قیمتیں بھی بہت کم ہوئی ہیں۔ تاہم تشخیص، خون کے مختلف معائنے، جگر کی حالت جانچنے کے مراحل، ڈاکٹر کی فیس اور اگر بیماری بہت بڑھ چکی ہو تو جگر کی پیچیدگیوں کا علاج غریب خاندان کے لیے پھر بھی بھاری پڑ سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کی ذمہ داری صرف دوا فراہم کرنا نہیں بلکہ بروقت اور کم خرچ تشخیص کو بھی عام کرنا ہے۔
اب ذرا ہیپاٹائٹس بی کو سمجھیں۔ یہ بھی جگر کو متاثر کرنے والا خطرناک وائرس ہے لیکن اس کا پھیلاؤ ہیپاٹائٹس سی سے کچھ مختلف ہے۔ یہ متاثرہ خون اور جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوسکتا ہے۔ پیدائش کے وقت متاثرہ ماں سے بچے میں منتقلی، غیر محفوظ طبی آلات، متاثرہ خون، جنسی تعلق اور بعض صورتوں میں گھر کے اندر خون یا جسمانی رطوبت سے رابطہ اس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ہیپاٹائٹس بی کے معاملے میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی امید ویکسین ہے۔ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسین موجود ہے اور عالمی ادارۂ صحت نومولود بچے کو پیدائش کے پہلے 24 گھنٹوں کے اندر پہلی خوراک دینے کی سفارش کرتا ہے، جس کے بعد مقررہ شیڈول کے مطابق مزید خوراکیں دی جاتی ہیں۔
ہیپاٹائٹس بی بھی کئی لوگوں میں ابتدا میں خاموش رہ سکتا ہے۔ بعض افراد میں تھکن، متلی، بھوک کی کمی، پیٹ کی تکلیف، گہرا پیشاب اور آنکھوں یا جلد کا زرد ہونا ہوسکتا ہے۔ اگر بیماری مستقل شکل اختیار کرلے تو جگر میں سختی، جگر کا ناکارہ ہونا اور جگر کا سرطان پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن ہر مریض کو ایک ہی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض افراد کو صرف باقاعدہ نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بعض کو طویل مدت تک وائرس کو دبانے والی دوا دی جاتی ہے۔ اس لیے کسی غیر مستند شخص کے مشورے پر دوا شروع یا بند نہیں کرنی چاہیے۔
ہیپاٹائٹس ڈی نسبتاً کم معروف لیکن اہم بیماری ہے۔ اس وائرس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ اکیلا اپنی بیماری کا مکمل چکر نہیں چلا سکتا اور عموماً ہیپاٹائٹس بی کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ دراصل ہیپاٹائٹس ڈی سے بچاؤ بھی ہے۔ اگر کسی شخص کو ہیپاٹائٹس بی ہو تو ڈاکٹر کی نگرانی میں ہیپاٹائٹس ڈی کی موجودگی کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
ہیپاٹائٹس اے کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ زیادہ تر آلودہ پانی یا آلودہ خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ناقص صفائی، گندا پانی، ہاتھ نہ دھونا اور حفظان صحت کے ناقص انتظامات اس کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس اے اکثر ایک وقتی بیماری ہوتی ہے اور بہت سے مریض مکمل صحت یاب ہوجاتے ہیں، لیکن بعض حالات میں یہ شدید جگر کی ناکامی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ صاف پانی، ہاتھوں کی صفائی، مناسب نکاسی آب اور محفوظ خوراک اس سے بچاؤ کے بنیادی طریقے ہیں۔
ہیپاٹائٹس ای بھی بڑی حد تک آلودہ پانی اور خوراک سے پھیلتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں بعض علاقوں میں صاف پانی، نکاسی آب اور صفائی کے مسائل موجود ہیں، وہاں اس بیماری کی روک تھام صرف ہسپتالوں سے نہیں بلکہ پورے شہری نظام کی بہتری سے وابستہ ہے۔ زیادہ تر مریض خود بخود صحت یاب ہوجاتے ہیں، تاہم حاملہ خواتین اور بعض کمزور افراد میں یہ بیماری خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔
عام آدمی کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر وہ خود کو کیسے محفوظ رکھے۔ سب سے پہلے غیر ضروری انجیکشن سے بچیں۔ ہر بخار، درد یا معمولی بیماری کے لیے انجیکشن لگوانا علاج کی علامت نہیں بلکہ بعض حالات میں خطرے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر انجیکشن ضروری ہو تو نئی اور محفوظ سرنج استعمال ہونی چاہیے۔ استعمال شدہ سوئی کبھی دوبارہ استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری اہم احتیاط خون کی منتقلی ہے۔ خون ہمیشہ ایسے مرکز سے لیا جائے جہاں خون کی مناسب جانچ کا قابل اعتماد نظام موجود ہو۔ دانتوں کے علاج، جراحی اور جسم میں داخل ہونے والے طبی آلات کے معاملے میں بھی اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ آلات مناسب طریقے سے جراثیم سے پاک کیے گئے ہوں۔
حجام کی دکان بھی معمولی معاملہ نہیں۔ استرا یا ایسی چیز جو جلد کو کاٹ سکتی ہو، ایک شخص کے بعد دوسرے شخص پر استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ذاتی استرا، ناخن کاٹنے کے اوزار اور خون سے آلودہ ہونے والی دوسری اشیا دوسروں کے ساتھ مشترکہ استعمال نہ کی جائیں۔
اگر کسی شخص کو ہیپاٹائٹس بی یا سی ہے تو اسے نفرت یا سماجی بائیکاٹ کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ ہاتھ ملانے، ساتھ بیٹھنے، ساتھ کھانا کھانے یا عام سماجی میل جول سے ہیپاٹائٹس سی نہیں پھیلتا۔ اصل مسئلہ خون اور مخصوص جسمانی رطوبتوں سے متعلق منتقلی ہے۔ مریض کو تنہا کرنا بیماری کا علاج نہیں بلکہ ایک انسانی ناانصافی ہے۔
ہیپاٹائٹس اے اور ای کے لیے صاف پانی، صاف ہاتھ اور محفوظ خوراک بنیادی دفاع ہیں۔ کھانے سے پہلے اور بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد صابن سے ہاتھ دھونا معمولی کام معلوم ہوتا ہے لیکن یہ کئی بیماریوں سے بچانے والی بنیادی عادت ہے۔ گندا پانی صرف پیٹ کی بیماری نہیں لاتا بلکہ ہیپاٹائٹس اے اور ای سمیت متعدد بیماریوں کا راستہ بن سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کرے؟ حکومت کو ہیپاٹائٹس کے خلاف صرف تشہیری مہم نہیں بلکہ مستقل قومی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ہر ضلع میں کم خرچ اور قابل اعتماد تشخیصی سہولت، حاملہ خواتین اور خطرے میں موجود افراد کی مناسب جانچ، محفوظ خون کی فراہمی، طبی آلات کی جراثیم کشی کی سخت نگرانی، غیر محفوظ انجیکشن کے خلاف مؤثر کارروائی، بنیادی مراکز صحت میں تربیت، ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کی مکمل دستیابی اور ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے لیے آسان اور سستا علاج یقینی بنانا ہوگا۔
حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ نجی طبی مراکز، چھوٹے مطب، حجام کی دکانیں اور غیر رسمی علاج کے مراکز میں مریضوں کی صحت کے ساتھ کس طرح کے خطرات پیدا ہورہے ہیں۔ صرف بڑے ہسپتالوں میں سہولت فراہم کرکے ہیپاٹائٹس پر قابو نہیں پایا جاسکتا، کیونکہ وائرس معاشرے میں بہت پہلے داخل ہوچکا ہوتا ہے اور اس کی روک تھام گھر، گاؤں، محلے، بازار، مطب اور بنیادی مرکز صحت سے شروع ہوتی ہے۔
پاکستان میں اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ بیمار ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کتنے لوگ بیمار ہیں اور انہیں اس کا علم نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد اپنی بیماری سے آگاہ نہیں، جس کے باعث تشخیص اور علاج میں تاخیر ہوتی ہے۔ یہی خاموشی اس بیماری کو مزید پھیلنے کا موقع دیتی ہے۔
اس لیے ہر بالغ پاکستانی کو کم از کم اپنی زندگی میں ایک مرتبہ ہیپاٹائٹس کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرکے مناسب جانچ کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے، خاص طور پر اگر اسے کبھی غیر محفوظ انجیکشن، خون کی منتقلی، غیر محفوظ طبی عمل، مشترکہ سوئی، غیر محفوظ حجامت یا کسی دوسرے خطرے کا سامنا رہا ہو۔ حاملہ خواتین، طبی کارکنوں، متاثرہ افراد کے قریبی اہل خانہ اور دیگر خطرے والے گروہوں میں جانچ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
لیکن ایک بات ہر شخص یاد رکھے کہ صرف علامات دیکھ کر ہیپاٹائٹس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، اور صرف ایک رپورٹ دیکھ کر بھی اپنے طور پر علاج شروع نہیں کرنا چاہیے۔ مناسب تشخیص، ڈاکٹر کا مشورہ اور مرض کی نوعیت کے مطابق علاج ضروری ہے۔ کسی عطائی، غیر مستند نسخے یا سوشل ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والے گھریلو علاج کے بھروسے پر جگر کی بیماری کو نظر انداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ صرف حکومت یا ڈاکٹروں کی جنگ نہیں۔ یہ ہر گھر کی جنگ ہے۔ والدین بچوں کو صفائی اور ویکسین کی اہمیت بتائیں، نوجوان غیر محفوظ انجیکشن اور مشترکہ سوئی سے بچیں، طبی مراکز محفوظ طریقہ کار اپنائیں، خون کے مراکز مکمل جانچ کریں، حجام صفائی کے اصول اپنائیں، حکومت سستی تشخیص اور علاج فراہم کرے اور عوام بیماری کو چھپانے کے بجائے بروقت جانچ کرائیں۔
ہیپاٹائٹس سی آج بڑی حد تک قابل علاج ہے، ہیپاٹائٹس بی سے مؤثر ویکسین کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے، ہیپاٹائٹس اے اور ای کے خلاف صاف پانی، صفائی اور محفوظ خوراک بنیادی ہتھیار ہیں اور ہیپاٹائٹس ڈی سے بچاؤ میں ہیپاٹائٹس بی کی روک تھام بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ موجود ہے اسے ہر انسان تک کتنی سنجیدگی، دیانت اور آسانی سے پہنچایا جاتا ہے۔
ایک کروڑ ہو یا اس سے زیادہ یا کم، ہر عدد کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک زندگی ہے۔ اس لیے ہیپاٹائٹس کو صرف ایک طبی اصطلاح سمجھنے کے بجائے اسے قومی صحت کا مسئلہ سمجھنا ہوگا۔ بیماری چھپانے سے ختم نہیں ہوتی، جانچ سے سامنے آتی ہے، بروقت علاج سے قابو میں آتی ہے اور احتیاط سے پھیلنے سے روکی جاسکتی ہے۔
واپس کریں