
خیال محمد شہنشاہِ غزل، استاد الاساتذہ اور پشتو موسیقی کے ایک محبوب ہنرمند، مہمان نواز، مہربان، مشفق اور روایتی پشتون ہیں، جن کا پشاور شہر میں آباد حجرہ آج بھی دسترخوان پر مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔
خیال محمد صاحب جہاں معمر ہوچکے ہیں، وہاں بدقسمتی سے وہ ویل چیئر پر بھی آگئے ہیں۔ مگر اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان کے فرزندِ ارجمند اور سریلے گلوکار انور خیال بھی فالج کے باعث معذور ہوچکے ہیں۔ انور خیال میرے ذاتی دوست ہیں۔ خیال محمد صاحب کے دیگر برخورداران کے لیے تو میں چچا کا درجہ رکھتا ہوں، لیکن انور خیال کے ساتھ میری بے تکلف دوستی ہے۔
پچھلے دنوں ایک تقریب میں انہیں شرکت کی زحمت دی تھی، جہاں ملک لیاقت علی خان، مشیرِ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ، نے انہیں ایک جدید خودکار ویل چیئر تحفتاً پیش کی۔
انور خیال کی دلجوئی کے لیے میں نے انہیں ریڈیو کے اُس دور کی ایک بات یاد دلا دی جب ہم دونوں جوان تھے۔ اسی واقعے پر میں دل سے ہنس رہا ہوں اور انور خیال بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
انور خیال کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی وصال خیال بھی ہیں، جبکہ دوسری تصویر میں ملک لیاقت علی خان انور خیال اور ان کے خاندان کی خدمات کے اعتراف میں ان سے ملنے آئے ہیں۔
ملک لیاقت علی خان ایک پشتون طبع سیاستدان اور اچھے خُو بُو کے مالک ہیں۔
واپس کریں