دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سٹیٹ بینک کا مہنگائی بڑھنے کا اعتراف
No image سٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سٹیٹ بنک کے مطابق اجلاس میں 10 میں سے 7 ارکان نے فیصلے کی حمایت کی۔ کمیٹی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعہ میں شدت کے باعث بلند عالمی اجناس کی قیمتوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے معاشی غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔اگست میں مجموعی مہنگائی جولائی کی 9.2 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی، تاہم بنیادی مہنگائی توقعات سے معمولی کم رہی۔ بیرونی کھاتے پر دباؤ قابو میں رہا، جبکہ ترسیلات زر اور مالیاتی آمدنی میں اضافہ ہوا۔ کمیٹی کے مطابق موجودہ زری پالیسی درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے موزوں ہے۔پاکستان نے یورو بانڈز کے ذریعے عالمی کیپٹل مارکیٹ سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے، جبکہ سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ستمبر میں مہنگائی کی توقعات بڑھنے کے ساتھ کاروباری طبقات و صارف کے اعتماد میں کمی آئی۔ جون میں بڑی صنعتوں کی پیداوار 3.5 فیصد کم ہوئی، تاہم مالی سال 2026ء میں صنعتی نمو 5 فیصد رہی۔کمیٹی کے مطابق مالی سال 2026ء میں مالیاتی استحکام بجٹ ہدف سے بہتر رہا اور جولائی، اگست میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں ہدف کے مطابق رہیں۔ بیرونی شعبے میں جولائی کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑی حد تک توقعات کے مطابق رہا، کیونکہ درآمدات میں اضافہ برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے سے زیادہ رہا۔مہنگائی جس سطح پر پہنچ چکی ہے، اس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ مانیٹری پالیسی میں جس حد تک مہنگائی ہے، اس کا اظہار نہیں ہوتا۔ برآمدات اور درآمدات میں توازن بھی نہیں ہے۔ جس طرح پاکستان سے برین ڈرین ہو رہا ہے، اس کے مطابق تو ترسیلات زر میں معتدبہ اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو جواز کے طور پر بیان کیا گیا ہے، لیکن اس کشیدگی سے پہلے کون سا عام آدمی مہنگائی کی چکی میں نہیں پس رہا تھا؟آج کی حکومت پی ڈی ایم کی حکومت ہی کا تسلسل ہے۔ اس کی طرف سے کڑے فیصلے کرکے یقین دلایا جاتا رہا کہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی مگر ایسا ابھی تک تو نہیں ہو سکا۔ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ جب سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے، تب سے عالمی مارکیٹ کے مطابق پاکستان میں بھی قیمتوں میں کمی بیشی کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں بڑھا دی جاتی ہیں، اور اگر کم ہوتی ہیں تو عالمی مارکیٹ میں کم ہونے والی قیمتوں کے تناسب سے بہت ہی کم۔ لیوی، جس کا جواز ہی نہیں بنتا، اس میں بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی مسلسل پٹرولیم نرخوں میں اضافے اور لیوی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے، مگر حکومت اسے پرِکاہ کی بھی حیثیت نہیں دے رہی۔وزیراعظم کی جانب سے بائیکس، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی والی گاڑیوں کے لیے پٹرولیم نرخوں میں 100 روپے فی لٹر ریلیف دے کر مہنگائی میں ریلیف کا تاثر دیا گیا ہے، جبکہ پٹرولیم نرخ روزانہ بڑھانے کی پالیسی برقرار رکھ کر مہنگائی کو مزید گھمبیر بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ شب بھی پٹرول کے نرخ ساڑھے چار روپے اور ڈیزل کے نرخ 6.10 روپے فی لٹر بڑھائے گئے۔ یہ حکومتی پالیسی عام آدمی کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جس طبقے کو پٹرولیم نرخوں میں معمولی ریلیف دیا گیا ہے، وہ طبقہ مہنگائی میں کمی کے حوالے سے کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ حکومت ان کو ریلیف دینے سے پہلے ان کو دیے گئے ریلیف کی وصولی دیگر صارفین سے کر لے گی۔ پٹرولیم نرخ جتنے بڑھتےچلے جائیں گے، مہنگائی میں اضافے سے پٹرولیم پر معمولی ریلیف لینے والے بھی متاثر ہوں گے۔سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی تسلسل سے بڑھ رہی ہے تو عوام کو ریلیف دینے کے حکومتی دعوے چہ معنی دارد؟ عوام تنگ آکر احتجاج کے لیے سڑکوں پر ہی نکلیں گے۔
واپس کریں