دنیا کو کون کنٹرول کرتا ہے: پیٹرو ڈالر، جنگی صنعت، مالیاتی ادارے یا دوا ساز کمپنیاں؟

(پشاور) خصوصی رپورٹ، خالد خان ۔ دنیا کی طاقت کا ذکر ہو تو عموماً چار بڑے نام سامنے آتے ہیں: تیل، جنگی صنعت، مالیاتی ادارے اور دوا ساز کمپنیاں۔ کہا جاتا ہے کہ جس کے پاس تیل ہو وہ توانائی کو کنٹرول کرتا ہے، جس کے پاس جدید ترین جنگی صنعت ہو وہ جنگ اور امن کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے، جس کے پاس عالمی مالیاتی نظام کی کنجی ہو وہ پوری دنیا کی معیشتوں کو متاثر کرسکتا ہے، اور جس کے پاس انسانی صحت اور بیماری کے علاج کا نظام ہو وہ انسان کی زندگی کے سب سے بنیادی معاملے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی اصل طاقت صرف پیٹرو ڈالر، جنگی صنعت اور مالیاتی اداروں کے پاس ہے، یا دوا ساز کمپنیاں بھی عالمی فیصلوں پر اتنا ہی گہرا اثر رکھتی ہیں؟
یہ سوال کسی سازشی کہانی سے نہیں بلکہ ایک سادہ حقیقت سے پیدا ہوتا ہے۔ بیماری انسان کی مجبوری ہے، دوا اس مجبوری کا جواب ہے، اور جس صنعت کے پاس بیماری کے علاج کی مصنوعات ہوں اس کے پاس ایک ایسی مارکیٹ ہوتی ہے جس میں گاہک اپنی مرضی سے نہیں بلکہ ضرورت کے تحت آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی صحت کا کاروبار صرف تجارت نہیں، طاقت کا بھی معاملہ ہے۔ خود عالمی ادارۂ صحت ادویات کی قیمت، پیٹنٹ، مارکیٹ میں مقابلے، قیمتوں کی شفافیت اور مفادات کے تصادم کو صحت عامہ کے اہم مسائل قرار دیتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں اور قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار میں شفافیت عوامی احتساب اور قابلِ رسائی علاج کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
یہاں ڈاکٹر میتھیاس راتھ کا نام سامنے آتا ہے۔ جرمن ڈاکٹر اور محقق راتھ نے کئی دہائیوں تک یہ مؤقف پیش کیا کہ جدید صحت کا نظام بیماری کو ختم کرنے کے بجائے اسے ایک مستقل کاروباری منڈی میں تبدیل کر چکا ہے۔ وہ اسے “فارما کارٹیل” اور “بیماری کے ساتھ کاروبار” جیسے الفاظ میں بیان کرتے رہے۔ ان کے مطابق ایسی غذائی اور قدرتی مداخلتیں جو سستی ہوں، آسانی سے دستیاب ہوں اور جن پر پیٹنٹ نہ ہوسکے، بڑی دوا ساز کمپنیوں کے تجارتی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
راتھ کا سب سے مشہور سائنسی دعویٰ قلبی امراض کے بارے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں وٹامن سی کی کمی خون کی نالیوں کی دیوار کو کمزور کرتی ہے، کولیجن کی تشکیل متاثر ہوتی ہے اور جسم اس نقصان کی تلافی کے لیے لیپوپروٹین اے جیسے مادوں کو استعمال کرتا ہے؛ اسی نظریے کو انہوں نے لینس پالنگ کے ساتھ مل کر سائنسی تحریروں میں پیش کیا۔
راتھ یہاں رکنے کے بجائے ایک بہت بڑا سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر قلبی امراض کے بڑے حصے کو غذائی اجزا، خصوصاً وٹامن سی، کے ذریعے روکا یا تبدیل کیا جاسکے تو پھر مہنگی، پیٹنٹ شدہ قلبی ادویات کی بہت بڑی مارکیٹ متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کی اپنی تحریروں میں یہ الزام موجود ہے کہ دوا ساز صنعت اس قسم کی معلومات کو دبانے میں مالی مفاد رکھتی ہے۔ یہ راتھ کا مؤقف ہے، اور اسے اسی حیثیت سے سمجھنا چاہیے۔
لیکن قلبی امراض کا کاروبار صرف گولیوں تک محدود نہیں۔ دل کی بیماری ایک ایسی وسیع طبی مارکیٹ بن چکی ہے جس میں تشخیص، خون کے ٹیسٹ، مہنگے آلات، ادویات، انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، سٹنٹس، دل کے بائی پاس آپریشن، دل کے والو کی مرمت اور تبدیلی، پیس میکر، مصنوعی والوز اور بعض صورتوں میں دل کی پیوند کاری تک شامل ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ یہ علاج ضروری نہیں۔ بہت سے مریضوں کے لیے یہ طریقے زندگی بچانے والے ہوتے ہیں۔ سوال اس سے پہلے کا ہے: ہم اس مقام تک پہنچتے ہی کیوں ہیں؟
اگر بیماری کو اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے روکنے، اس کے بنیادی اسباب ختم کرنے اور انسان کو مستقل مریض بننے سے بچانے پر وہی شدت، سرمایہ اور تحقیقی توجہ صرف کی جائے جو بیماری کے بعد علاج پر صرف ہوتی ہے تو کیا نتیجہ مختلف نہیں ہوگا؟
یہاں راتھ کا سب سے بنیادی سوال سامنے آتا ہے: اگر بیماری جڑ سے ختم ہوجائے تو بیمار کہاں سے آئیں گے، اور اگر بیمار ہی نہ رہیں تو بیماری کے علاج کی مستقل مارکیٹ کہاں سے آئے گی؟
یہ سوال الزام نہیں بلکہ پورے صحت کے کاروباری ماڈل کا سوال ہے۔ ایک ایسی دوا جو مریض کو ہمیشہ دوا استعمال کرنے کا محتاج رکھتی ہے، اس کا کاروباری ماڈل اس دوا سے مختلف ہے جو بیماری کے بنیادی سبب کو ختم کرکے مریض کو دوبارہ صحت مند اور دوا سے آزاد کردے۔ اسی طرح بیماری کی روک تھام ایک مختلف معاشی تصور ہے، کیونکہ کامیاب روک تھام کا سب سے بڑا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مریض پیدا ہی نہ ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں “بیماری سے کاروبار” کا تصور سنجیدہ بحث کا موضوع بنتا ہے۔ کیا تحقیق کا بڑا حصہ ان بیماریوں کے مستقل علاج کی طرف جاتا ہے جن سے مسلسل ادویات، آلات اور طبی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے، جبکہ بنیادی غذائی، ماحولیاتی اور طرزِ زندگی کے اسباب پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے؟ اور اگر کوئی ایسا علاج سامنے آئے جو سستا، غیر پیٹنٹ شدہ اور بیماری کو جڑ سے روکنے والا ہو تو کیا اس کے لیے وہی تجارتی دلچسپی پیدا ہوگی جو ایک اربوں ڈالر کی دوا کے لیے پیدا ہوتی ہے؟
یہاں ایک اور بنیادی مسئلہ ہے: تحقیق خود ہمیشہ مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی۔
دنیا میں طبی تحقیق کا بڑا حصہ صنعت، نجی سرمایہ، دوا ساز کمپنیوں اور تجارتی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صنعتی تحقیق جھوٹی ہے یا ہر دوا غیر ضروری ہے۔ لیکن جب تحقیق کا سرمایہ کسی ایسے فریق سے آئے جس کا کسی مخصوص نتیجے میں مالی مفاد ہو تو مفادات کے تصادم کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے باقاعدہ طور پر دوا سازی کے شعبے میں مفادات کے تصادم سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ ایسے تصادم عوامی بجٹ، مریضوں کے ذاتی اخراجات، عوامی اعتماد اور صحت کے فیصلوں کی دیانت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف دنیا کے امیر ممالک تک محدود نہیں۔ پاکستان میں بھی ایک تحقیقی مطالعے نے دوا ساز کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے درمیان مالی مراعات اور ان کے نسخہ لکھنے کے عمل پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا ہے، اور اس شعبے میں مفادات کے تصادم کو صحت کے نظام کے لیے اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔
اور یہاں ایک انتہائی اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ امریکا میں 2013 سے 2022 تک دوا ساز اور طبی مصنوعات کی صنعت نے 826,313 ڈاکٹروں کو مجموعی طور پر 12.13 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کیں۔ اس عرصے میں صنعت کی طرف سے ڈاکٹروں کو 8 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ادائیگیاں کی گئیں، جن میں سے 93.8 فیصد کسی نہ کسی دوا یا طبی مصنوعات سے وابستہ تھیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہر ڈاکٹر یا ہر ادویہ تجویز کرنے والا مالی مفاد سے متاثر ہوتا ہے، لیکن یہ ضرور دکھاتے ہیں کہ دوا ساز اور طبی مصنوعات کی صنعت اور طبی پیشے کے درمیان مالی تعلق کس قدر وسیع ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال باقی رہتا ہے: اگر تحقیق ہی تجارتی مفادات سے مکمل طور پر آزاد نہ ہو تو ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کے سستے راستوں پر واقعی اتنی ہی تحقیق ہوئی ہے جتنی مستقل علاج، مہنگی ادویات اور طبی آلات پر ہوئی ہے؟
یہ وہ سوال ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ دوا ساز کمپنیاں ہر ایسی تحقیق کو لازماً روک دیتی ہیں جو کسی بیماری کو جڑ سے ختم کرسکتی ہو۔ اس دعوے کے لیے ہر مخصوص بیماری اور ہر مخصوص تحقیق کے بارے میں براہِ راست شواہد درکار ہوں گے۔ زیادہ مضبوط اور قابلِ دفاع سوال یہ ہے کہ کیا تجارتی مفادات تحقیق کی ترجیحات، اس کے مالی وسائل، نتائج کی تشہیر اور صحت کی پالیسی پر اثر ڈال سکتے ہیں؟ عالمی ادارۂ صحت کی اپنی دستاویزات اس سوال کو سنجیدہ سمجھتی ہیں۔ خود عالمی ادارۂ صحت تسلیم کرتا ہے کہ نجی شعبہ طبی تعلیم اور تحقیق کی مالی معاونت کے ذریعے تحقیق کی سمت اور مقدار پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور بعض حالات میں اعداد و شمار تجارتی مفادات کے حق میں جھک سکتے ہیں۔
وٹامن سی اسی بحث کی ایک مثال ہے۔
وٹامن سی انسانی جسم کے لیے ضروری ہے اور کولیجن کی تیاری سمیت کئی اہم حیاتیاتی عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر راتھ کا مؤقف ہے کہ وٹامن سی کی کمی اور شریانوں کی کمزوری کے درمیان تعلق قلبی بیماری کو سمجھنے کی ایک بنیادی کنجی ہے۔ لیکن موجودہ طبی شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا ابھی درست نہیں کہ عام قلبی بیماری بنیادی طور پر صرف وٹامن سی کی کمی کا نتیجہ ہے یا وٹامن سی موجودہ قلبی علاج کا متبادل ہے۔ ایک منظم جائزے میں 15,445 افراد پر مشتمل آٹھ آزمائشوں کا جائزہ لیا گیا اور قلبی امراض سے بچاؤ میں وٹامن سی کے اضافی استعمال کا واضح فائدہ ثابت نہیں ہوا۔
مگر یہاں پھر وہی بنیادی سوال واپس آتا ہے: اگر کسی سستے غذائی یا احتیاطی طریقے میں واقعی بڑی بیماریوں کو روکنے کی صلاحیت ہو تو کیا اسے اتنی ہی تحقیق، سرمایہ اور عالمی توجہ ملتی ہے جتنی ایک قابلِ فروخت دوا کو ملتی ہے؟
اس سوال کا جواب صرف دوا ساز کمپنیوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں ملے گا۔ اس کے لیے آزاد تحقیق، کھلے اعداد و شمار، تمام طبی آزمائشوں کے نتائج کی اشاعت اور تجارتی مفادات سے آزاد سائنسی اداروں کی ضرورت ہے۔ مگر جب عالمی ادارۂ صحت خود دوا سازی کے شعبے میں مفادات کے تصادم، شفافیت اور احتساب کے لیے باقاعدہ نظام بنانے کی ضرورت تسلیم کررہا ہو تو اس سوال کو سازشی سوچ کہہ کر دفن بھی نہیں کیا جاسکتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دوا ساز کمپنیوں کی طاقت کو سمجھنا ضروری ہوجاتا ہے۔
دنیا میں طاقت صرف فوج اور ہتھیار سے نہیں آتی۔ طاقت اس وقت بھی پیدا ہوتی ہے جب کسی صنعت کے پاس اربوں انسانوں کی بنیادی ضرورت سے وابستہ مصنوعات، تحقیق، پیٹنٹ، قیمتیں، مارکیٹنگ، طبی آلات اور عالمی منڈیاں موجود ہوں۔
پیٹرو ڈالر نے توانائی کو طاقت بنایا۔ جنگی صنعت نے جنگ اور دفاع کو طاقت بنایا۔ مالیاتی اداروں نے سرمائے، قرض، سرمایہ کاری اور عالمی مالیاتی گردش کو طاقت بنایا۔ دوا ساز کمپنیوں نے انسانی صحت کو ایک بہت بڑی عالمی معیشت میں تبدیل کردیا۔
تیل صرف ایک شے نہیں؛ یہ نقل و حمل، صنعت، توانائی اور عالمی معیشت کی بنیاد ہے۔ اسی طرح جنگی صنعت صرف ہتھیار نہیں؛ وہ ریاستی طاقت، دفاعی پالیسی، تحقیق اور جنگی معیشت کا حصہ ہے۔ 2025 میں دنیا کے فوجی اخراجات تقریباً 2.887 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے اور یہ مسلسل گیارہواں سال تھا جب عالمی فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا۔
مالیاتی ادارے اس پورے نظام کو سرمایہ، قرض، سرمایہ کاری، ادائیگیوں اور مالیاتی منڈیوں کے ذریعے حرکت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں طاقت کا سوال صرف اس بات سے نہیں طے ہوتا کہ کس کے پاس تیل یا ہتھیار ہیں، بلکہ اس بات سے بھی کہ سرمایہ کس کے پاس ہے، وہ کہاں جاتا ہے، کس کاروبار کو قرض ملتا ہے، کس صنعت میں سرمایہ کاری ہوتی ہے اور عالمی مالیاتی فیصلوں پر کس کا اثر ہے۔
اور دوا صرف ایک گولی نہیں؛ اس کے پیچھے تحقیق، پیٹنٹ، تشخیص، آلات، ہسپتال، ڈاکٹر، بیمہ، مارکیٹنگ اور مسلسل علاج کا پورا نظام موجود ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اسی لیے ادویات کی قیمتوں اور قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرتا ہے، کیونکہ غیر شفاف قیمتیں احتساب اور منصفانہ قیمتوں کے نظام کو متاثر کرسکتی ہیں۔
تو پھر اصل طاقت کس کے پاس ہے؟
شاید اس سوال کا جواب کسی ایک لفظ میں نہیں دیا جاسکتا۔ دنیا کو صرف تیل والے نہیں چلاتے، صرف جنگی صنعت بھی نہیں چلاتی، صرف مالیاتی ادارے بھی نہیں چلاتے اور صرف دوا ساز کمپنیاں بھی نہیں۔ اصل طاقت ان نظاموں کے باہمی تعلق میں پیدا ہوتی ہے۔ تیل معیشت کو توانائی دیتا ہے، مالیاتی نظام اسے سرمایہ اور گردش دیتا ہے، جنگی صنعت ریاستی طاقت کو سہارا دیتی ہے اور صحت کی صنعت انسانی زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت، یعنی صحت، کو ایک وسیع معاشی نظام میں تبدیل کرتی ہے۔
یہاں ڈاکٹر میتھیاس راتھ کی آواز ہمیں ایک بے آرام کردینے والا سوال سناتی ہے۔ اگر ایک بیماری کا علاج زندگی بھر جاری رہنے والی دوا پر منحصر ہو تو کمپنی کے لیے مستقل مریض ایک مستقل مارکیٹ بھی ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی مؤثر احتیاطی طریقہ بیماری کو شروع ہی نہ ہونے دے تو معاشی ماڈل مختلف ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دوا ساز کمپنی بیماری پھیلانا چاہتی ہے یا ہر دائمی بیماری مصنوعی طور پر پیدا کی گئی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ صحت کے نظام میں مالی مفادات موجود ہیں، اور جہاں اربوں ڈالر کا کاروبار ہو وہاں ان مفادات کی نگرانی ضروری ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں کہ “دوا ساز کمپنیاں دنیا کو کنٹرول کرتی ہیں یا نہیں؟” بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی بھی ایسی صنعت کو، جو انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت سے اربوں ڈالر کماتی ہو، اتنی طاقت دی جاسکتی ہے کہ اس کے تجارتی مفادات عوامی صحت کی ترجیحات پر اثر انداز ہونے لگیں؟
اس سوال کا جواب نہ راتھ کی ہر بات کو مان کر ملے گا، نہ ان کی ہر بات کو سازش کہہ کر رد کرنے سے۔ جواب شفاف قیمتوں، آزاد تحقیق، واضح سائنسی شواہد، مضبوط نگرانی، سستی اور معیاری متبادل ادویات، مفادات کے تصادم کی مکمل وضاحت اور سب سے بڑھ کر مریض کو مرکز بنانے سے ملے گا۔
پیٹرو ڈالر، جنگی صنعت، مالیاتی ادارے اور دوا ساز کمپنیاں—یہ چاروں دنیا کی طاقت کے الگ الگ دروازے ہیں۔ تیل کے ذریعے توانائی، جنگی صنعت کے ذریعے عسکری قوت، مالیاتی اداروں کے ذریعے سرمایہ اور مالیاتی گردش، اور دوا ساز کمپنیوں کے ذریعے انسانی صحت کے نظام پر اثر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن سب سے خطرناک طاقت وہ ہوگی جو ان سب کو ایک دوسرے سے جوڑ دے۔
اور شاید آنے والے وقت کا اصل سوال یہی ہوگا:
دنیا کو کون کنٹرول کرتا ہے—وہ جو ہماری توانائی بیچتا ہے، وہ جو جنگی صنعت چلاتا ہے، وہ جو ہمارے سرمائے کی گردش کو کنٹرول کرتا ہے، یا وہ جو ہماری بیماری کا علاج بیچتا ہے؟
واپس کریں