خیبر پختونخوا کو فاتحِ اسلام آباد نہیں، سالارِ امن وزیراعلیٰ چاہیے

(پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ خیبرپختونخوا اس وقت کسی معمول کے سیاسی موسم سے نہیں گزر رہا۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں ایک طرف دہشت گردی کے خلاف پولیس اور سیکیورٹی اہلکار مسلسل اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور دوسری طرف صوبے کی سیاسی قیادت اسلام آباد کی طرف ایک بڑے سیاسی تصادم کی تیاری میں مصروف ہے۔ اس تضاد کو سمجھنا آج خیبرپختونخوا کے ہر شہری کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ محض ایک سیاسی جماعت، ایک حکومت یا ایک احتجاج کا معاملہ نہیں؛ یہ ریاستی ذمہ داری، حکمرانی کی ترجیحات اور عوام کی جان و مال کا سوال ہے۔
خاص طور پر جنوبی اضلاع کی صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو خطرے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ایک ایسی پٹی میں واقع ہیں جہاں دہشت گردی کا دباؤ مسلسل برقرار ہے۔ سکیورٹی کے معتبر اعداد و شمار بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پورے پاکستان میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق 774 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 475، یعنی 61 فیصد سے زیادہ، خیبرپختونخوا میں ہوئیں۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ صوبے میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں تشدد سے ہونے والی ہلاکتوں میں تقریباً 53 فیصد اضافہ ہوا اور صوبے کے 63 فیصد واقعات بنوں، لکی مروت، کرم اور باجوڑ میں وقوع پذیر ہوئے۔
یہ اعداد کسی سیاسی مخالف کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ ایک معروف پاکستانی سیکیورٹی تحقیقی ادارے کے ہیں۔ اس سے بھی پہلے 2024 کو دیکھا جائے تو خیبرپختونخوا میں تشدد سے متعلق 1,616 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں، جو پورے ملک میں سب سے زیادہ تھیں۔ اسی رپورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت سمیت سرحدی اور جنوبی اضلاع کو شدید متاثرہ علاقوں میں شمار کیا۔
اور کل، 3 ستمبر 2026 کو، صورتحال کی سنگینی کا ایک تازہ ثبوت شمالی وزیرستان سے سامنے آیا ہے، جہاں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 15 شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔ اطلاعات کے مطابق کارروائی اور فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 36 گھنٹے جاری رہا۔
یہ وہ خیبرپختونخوا ہے جس کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی ہیں۔ یہ وہ وزیراعلیٰ ہیں جن کے سامنے سب سے پہلی ذمہ داری صوبے کے عوام کا تحفظ، پولیس کی حوصلہ افزائی، دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی، انتظامیہ کی فعالیت اور ان علاقوں میں ریاست کی گرفت مضبوط کرنا ہونی چاہیے جہاں ایک پولیس اہلکار اپنی وردی پہن کر گھر سے نکلتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ واپسی ہوگی یا نہیں۔
خیبرپختونخوا کی پولیس نے گزشتہ برسوں میں جو قربانیاں دی ہیں، انہیں سیاسی نعروں کے شور میں دفن نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی اضلاع میں پولیس تھانوں، چوکیوں، گشت کرنے والی گاڑیوں اور اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنوری 2026 میں لکی مروت میں خودکش حملے میں ایک ہیڈ کانسٹیبل شہید اور پانچ اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ اسی روز بنوں میں ایک پولیس کانسٹیبل دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوا۔ جولائی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے ایک مطلوب دہشت گرد کو ہلاک کیا جو ایک سی ٹی ڈی اہلکار کے ٹارگٹ کلنگ کیس میں مطلوب تھا۔
اس پس منظر میں سوال یہ نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کو احتجاج کا حق ہے یا نہیں۔ یقیناً پرامن سیاسی احتجاج جمہوری حق ہے۔ کسی بھی حکومت، جماعت یا ریاست کو شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ سوال اس سے کہیں بڑا ہے: جب ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹو خود ایک بڑے سیاسی مارچ کی قیادت کرے تو اس کے منصب کی بنیادی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟
محمد سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کے لانگ مارچ کی تاریخ کو ’’حتمی اور ناقابلِ تبدیلی‘‘ قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ خود اس مارچ کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کارکنوں کو تیاری کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ وہ مقصد حاصل کیے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔ اس سے پہلے بھی وہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو آخری راستہ قرار دے چکے ہیں اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور اتحادی جماعتوں کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک سیاسی کارکن کے لیے اسلام آباد مارچ سیاسی جدوجہد ہو سکتی ہے، لیکن ایک وزیراعلیٰ کے لیے یہی فیصلہ ایک مختلف آئینی اور اخلاقی وزن رکھتا ہے۔ سیاسی جماعت کا کارکن اپنے سیاسی مقصد کے لیے سڑک پر نکل سکتا ہے؛ وزیراعلیٰ کو پہلے اس صوبے کی سڑکوں، تھانوں، بازاروں، سکولوں، ہسپتالوں اور سرحدی علاقوں میں امن قائم کرنا ہوتا ہے۔
سہیل آفریدی اگر صرف پی ٹی آئی کے رہنما ہوتے تو ان کے لانگ مارچ پر بحث کا معیار مختلف ہوتا۔ لیکن وہ خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ان کے ماتحت صوبائی انتظامیہ ہے، پولیس ہے، انسدادِ دہشت گردی کا نظام ہے اور لاکھوں شہریوں کی جان و مال کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی فیصلوں کو ایک عام سیاسی کارکن کے فیصلوں کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔
اس وقت صوبے کے جنوبی اضلاع میں سوال یہ نہیں کہ اگلا سیاسی جلسہ کہاں ہوگا؛ سوال یہ ہے کہ اگلا دہشت گرد حملہ کہاں ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ اسلام آباد میں کتنے لوگ جمع ہوں گے؛ سوال یہ ہے کہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے کسی تھانے پر اگلی رات کیا گزرے گی۔ سوال یہ نہیں کہ سیاسی نعرہ کتنا بلند ہوگا؛ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے پولیس اہلکار کو حکومت کی پشت پناہی کتنی مضبوط محسوس ہوتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا میں 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران ہی 475 تشدد سے متعلق ہلاکتیں ریکارڈ ہو چکی ہوں اور پورے پاکستان کی ایسی ہلاکتوں کا بڑا حصہ صوبے میں ہو، صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی سیاسی توانائی کا بڑا حصہ اسلام آباد کے سیاسی محاذ پر صرف ہونا ایک سنجیدہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
یہاں عوام کو ایک اور بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے مطالبے سے اختلاف کرنا اس جماعت کے کارکنوں سے دشمنی نہیں۔ حکومت سے سوال کرنا جمہوریت دشمنی نہیں۔ اور یہ کہنا کہ وزیراعلیٰ کو پہلے اپنے صوبے میں امن قائم کرنا چاہیے، کسی جماعت کے سیاسی حق کو ختم کرنا نہیں۔ یہ دراصل حکمرانی کی بنیادی منطق ہے۔
خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کا عذاب بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس صوبے کے شہریوں نے جنازے اٹھائے ہیں، بازار ویران دیکھے ہیں، سکولوں کے دروازے خوف کے باعث بند ہوتے دیکھے ہیں، پولیس اہلکاروں کو تابوتوں میں واپس آتے دیکھا ہے اور اپنے گھروں کے دروازوں پر دہشت کا سایہ محسوس کیا ہے۔ ایسے صوبے میں حکومت کا سب سے بڑا وعدہ سیاسی فتح نہیں، زندگی کا تحفظ ہونا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں لڑتی؛ اسے کمزور حکمرانی، سیاسی انتشار، انتظامی کمزوری، معاشی محرومی اور ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد سے بھی طاقت ملتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی خطے کے بارے میں سیکیورٹی مطالعات بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور افغانستان سے جڑے عسکری نیٹ ورکس نے خیبرپختونخوا کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔
ایسے حالات میں وزیراعلیٰ کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اسلام آباد میں کتنے لوگ لے کر پہنچتے ہیں۔ ان کی اصل کامیابی یہ ہونی چاہیے کہ وہ بنوں کے شہری کو یہ یقین دلا سکیں کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے، لکی مروت کے پولیس اہلکار کو یہ اعتماد دے سکیں کہ حکومت اس کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہے، ٹانک کے تاجر کو اطمینان ہو کہ بازار محفوظ ہے، ڈیرہ اسماعیل خان کے خاندان کو یقین ہو کہ اس کے بچے محفوظ ہیں اور وزیرستان کے باشندے کو محسوس ہو کہ وہ ریاست کے حاشیے پر نہیں بلکہ ریاست کے مرکز میں ہے۔
جمہوریت میں اختلاف ضروری ہے، احتجاج بھی ضروری ہے اور حکومتوں سے سوال بھی ضروری ہے۔ لیکن جمہوریت کا حسن یہ نہیں کہ اقتدار میں بیٹھا ہوا ہر شخص ہر وقت سڑک پر رہے؛ جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ اقتدار میں بیٹھا شخص اپنی طاقت کو عوام کی حفاظت اور اداروں کی مضبوطی کے لیے استعمال کرے۔
اس لیے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا اصل سوال یہ نہیں کہ اس میں کتنے لوگ شریک ہوں گے، کون سی جماعت ساتھ ہوگی یا اسلام آباد کی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خیبرپختونخوا کا چیف ایگزیکٹو اس وقت اپنے صوبے کی ضرورت پوری کر رہا ہے؟
میری نظر میں جواب صاف ہے: نہیں۔
سہیل آفریدی کو سیاسی کارکن بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، لیکن وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کی پہلی وفاداری اپنی جماعت کے سیاسی ایجنڈے سے پہلے اپنے صوبے کے عوام کے جان و مال سے ہونی چاہیے۔ جب جنوبی خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا دباؤ بڑھ رہا ہو، جب بنوں اور لکی مروت جیسے اضلاع مسلسل تشدد کی زد میں ہوں، جب ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں سیکیورٹی اہلکار نشانے پر ہوں اور جب شمالی وزیرستان میں کل ہی سرحد پار سے داخل ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف 36 گھنٹے طویل کارروائی کرنی پڑی ہو، تو وزیراعلیٰ کا سب سے طاقتور پیغام یہ ہونا چاہیے کہ میں اپنے صوبے کے ساتھ ہوں۔
اسلام آباد کی سیاست بعد میں بھی کی جا سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے شہید پولیس اہلکار واپس نہیں آ سکتے۔
یہی وہ لکیر ہے جہاں سیاسی وابستگی ختم اور ریاستی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہر شہری کو اپنی جماعت سے اوپر اٹھ کر سوچنا چاہیے۔ کیونکہ حکومتیں آتی جاتی ہیں، پارٹیاں اقتدار میں آتی اور باہر جاتی ہیں، سیاسی نعرے بدلتے رہتے ہیں، لیکن ایک ماں کا بیٹا جب دہشت گردی کے خلاف ڈیوٹی پر شہید ہوتا ہے تو اس کا نقصان کسی پارٹی کا نہیں، پورے صوبے کا ہوتا ہے۔
اور اس وقت خیبرپختونخوا کو اسلام آباد فتح کرنے والے وزیراعلیٰ سے زیادہ امن بحال کرنے والے وزیراعلیٰ کی ضرورت ہے۔
واپس کریں