
ایک عرب خاتون زائرہ نے حضرت امام رضآ علیہ السلام کے حرم مطہر میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سامراج کے مقابلے میں استقامتی محاذ اورثبات قدم کا راستہ مذہبی قائدین کی شہادت سے رکتا نہيں ہے
آستان نیوز کے مطابق لبنان کی خاتون محترمہ فاطمہ حسن نے جو قائد شہید امت حضرت آيت اللہ سید علی خامنہ ای ( رحمت اللہ علیہ) کی تشییع جنازہ اور تدفین میں شرکت کے لئے مشہد آئي ہوئي تھیں کہا کہ امریکی اور صیہونی دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ مذہبی قیادت کو شہید کرکے استقامت کے راستے کو روک دے گا لیکن استقامت اور مقاومت بدستور زندہ ہے اور اپنا راستہ جاری رکھے ہوئے ہے
انہوں نے کہا کہ آيت اللہ خامنہ ای ( رحمت اللہ علیہ ) کی خبرشہادت سن کر میں غم سے نڈھال ہوگئي تھی اور میرا دل جیسے ٹوٹ گيا ہو، وہ امت کے باپ تھے ، دشمن نے ہمارے باپ کو شہید کیا اور ہم ان کے خون کا بدلہ لے کر رہیں گے ۔
لبنانی خاتون فاطمہ حسن نے کہا کہ اس اقدام سے دشمن کا مقصد استقامتی محاذ کو ختم کرنا تھا لیکن استقامت ایک ایسا راستہ ہے جس نے حضرت امام حسین علیہ السلام سے الہام اور درس لیا ہے اور اس طرح کی شہادتوں سے یہ راستہ رکنے والا نہيں ہے
ان کا کہنا تھا کہ ہم آيت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای ( حفظہ اللہ ) کی قیادت میں استقامت کا راستہ جاری رکھیں گے اور خدا وندمتعال سے ان کے لئے نصرت و توفیق کی دعا کرتے ہیں
لبنانی خاتون زآئرہ نے شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رحمت اللہ علیہ ) سے ملاقات کے اپنے اشتیاق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری ہمیشہ یہ آرزو تھی کہ انہيں قریب سے دیکھوں لیکن مجھے یہ توفیق حاصل نہيں ہوسکی تاہم اس کے باوجود میں اپنے شہید قائد کی راہ اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عہد کرتی ہوں ۔
واپس کریں