چاکلیٹی لیڈر شفیع جان کی وضاحت: یار! یہ پی ٹی آئی والے اچھے لوگ ہیں

(پشاور) رپورٹ، خالد خان: جس طرح آج کی نوجوان نسل کو نہیں معلوم کہ اس کے گھر والے کیسے لوگ ہیں، ویسے مجھے پی ٹی آئی نامی مخلوق کا بھی پتہ نہیں کہ یہ کس قماش کے لوگ ہیں۔ جس طرح شارک مچھلی سمندر میں زیرِ آب بچھائی ہوئی انٹرنیٹ کی کیبل کو چبا کر کبھی کبھار نوجوان نسل کو اپنے گھر والوں سے جان پہچان کا موقع فراہم کرتی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ اسی طرح بھلا کرے ہمارے سیاسی شارکوں احمد کنڈی، ارباب عثمان اور ثوبیہ شاہد کا کہ اپنے گروہی مفادات کے تحت پی ٹی آئی کے ساتھ محمود و ایاز بن کر ایک صف میں کھڑے ہو کر ہمیں پی ٹی آئی کو جاننے کا موقع دے دیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں گروہی مفادات کے لیے نئی قانون سازی ہوئی، جس پر نابالغ روایتی میڈیا اور شتر بے مہار ڈیجیٹل میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا دیا کہ جیسے پی ٹی آئی نے کوئی انہونی کر دی ہے۔
اللہ ہمتِ مرداں وحید مراد ثانی کو عطا فرمائے، جو ہماری سیاست کے چاکلیٹی لیڈر ہیں کہ انہوں نے میرے دل میں پی ٹی آئی کی الفت کا پودا لگا دیا۔ شفیع جان، جو پی ٹی آئی کے ترجمان کے علاوہ بھی بہت کچھ ہیں، نے حزبِ اختلاف کے ستاروں کے جھرمٹ میں اس نئی قانون سازی پر خوب روشنی ڈال دی۔
نئے قانون کے مطابق اراکینِ اسمبلی کے لیے بلیو پاسپورٹ، خودکار بندوقوں کے اجازت نامے، قومی املاک میں دو روزہ مفت قیام و طعام اور اس نوع کی کئی دیگر اشرافیائی مراعات شامل تھیں، پر بھوکا پیاسا میڈیا اور ترسے ہوئے دانشور خوامخواہ معترض تھے اور اسے گویا قومی دولت پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دے رہے تھے۔
شفیع جان نے میڈیا کی مجلس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے پارلیمنٹیرین سندھ، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین سے کم تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔ ہماری اور ان کی تنخواہوں میں چار، ساڑھے چار لاکھ ماہانہ کا فرق ہے۔
پاکستان میں کل ملا کر ایک ہزار اراکینِ پارلیمنٹ ہوں گے، لیکن 56 ہزار بلیو پاسپورٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ اگر ہم پر انگلی اٹھاتے ہیں تو ذرا ہمت کرکے 56 ہزار کی فہرست بھی پڑھئے۔
شفیع جان نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے کم مراعات کا ڈرافٹ منظور کرکے اسمبلی میں پیش کیا، اور اضافی مراعات پھر اراکینِ اسمبلی نے بااتفاق اور باجماعت ہو کر متعارف کرائیں۔
اس موقع پر احمد کنڈی، ارباب عثمان اور ثوبیہ شاہد، جن کا تعلق بالترتیب پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے، نے رطب اللسان ہو کر پی ٹی آئی کا مقدمہ خوب لڑا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر کے پارلیمانی مراعات میں ہم آہنگی ہونی چاہیے اور ہمیں بھی وہ سب کچھ ملنا چاہیے جو دوسرے صوبوں اور وفاق کے پارلیمنٹیرین لے رہے ہیں۔ ان کا اصرار تھا کہ جنگ زدہ صوبہ ہونے کی وجہ سے انہیں خصوصی مراعات کا پیکیج دیا جائے۔
شفیع جان نے بار بار وضاحت کی کہ ہم کوئی نیا قانون لے کر نہیں آئے، بلکہ پہلے سے موجود مختلف ایکٹس سے چیدہ چیدہ نکات نکال کر اسے ملک بھر کے پارلیمانی اراکین کو ملنے والی مراعات سے ہم آہنگ کرنے کی نیک کوشش کی ہے۔
صحافتی مجلس کو یہ بھی بتایا گیا کہ بھلے بلیو پاسپورٹ اور دیگر مراعات سے عوام کو کون سا نقصان اور کون سی تکلیف ہے کہ خوامخواہ آپ لوگ چیختے جا رہے ہیں۔
مجھے چودھری اللہ دتہ نے کہا کہ سجنا، شکر الحمدللہ، حکمران جماعت اور اپوزیشن کا اتفاق و اتحاد ہو چکا ہے، اور شیر و شکر ہونے کے بعد اب خیبر پختونخوا دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا اور عوام کی تقدیر بدل جائے گی۔
میں نے کہا چودھری اللہ دتہ، تم اس ہاتھی کے کان میں سوئے ہوئے ہو جو 24 گھنٹے بجلی نہ ہونے کے باوجود بھی سویا رہتا ہے۔ بھلے آدمی، یہ اتفاق صوبے اور عوام کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہے بلکہ یہ اشرافیہ کے اپنے گروہی مفادات کے لیے ہے۔
دیکھو اور سمجھو کم عقل چودھری۔ پاکستان میں دو طبقے ہیں۔ حاکم اور محکوم، آقا اور غلام، مالک اور نوکر، بادشاہ اور رعایا۔ ہم عوام ہیں اور اشرافیہ خواص ہیں۔ یہ ایک ہی لوگ ہیں۔ ایک ہی طبقہ ہے۔ یہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
یہ جماعتی فرق پہچان کے لیے ہے، جیسے گاڑیوں کے نمبر اور کرم بورڈ کے ٹیکیوں کے رنگ۔ کیا سمجھے؟
چودھری اللہ دتہ نے کہا کہ وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے اختیار ولی تو اپنے ہی جماعت کی مخالفت میں کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ وہ تو کہہ رہا ہے یہ غلط ہوا اور یہ پی ٹی آئی نے اس لیے کیا کہ حکومت ختم ہوتے ہی بلیو پاسپورٹ پر یورپ بھاگیں، سیاسی پناہ لیں اور حرام کمائی کو ہضم کریں۔
میں نے کہا چودھری، تم اشرافیہ کے ڈراموں کو نہیں جانتے۔ یہی شخص اختیار ولی سائیکل پر بیٹھ کر اور پیٹ پر پتھر اینٹیں باندھ کر کبھی اسمبلی آتا تھا کہ آٹا مہنگا ہوا ہے۔ آج کیوں چپ ہے جب زندگی مہنگی ہوئی ہے؟
چودھری اللہ دتہ نے کہا، سجنا، اس سے ثابت کیا ہوا؟
میں نے کہا، یہی کہ پی ٹی آئی والے بہت اچھے اور بھلے مانس لوگ ہیں، بس تھوڑے تھوڑے عقل، اخلاق اور صلہ رحمی سے پیدل ہیں۔
واپس کریں