دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کشمیری قوم پرامن ہے اپنی شناخت،عزت اور شہداء کے خون پر کوئی مصالحت نہیں کرے گی۔ خلیق الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ
No image اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) جموں کشمیر لبریشن لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل خلیق الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ جموں کشمیر لبریشن لیگ اس امر پر گہری تشویش اور شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے کہ غیر منتخب ریاستی عہدیداران اور بعض وفاقی وزراء کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کے آئینی و سیاسی مستقبل کے حوالے سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جو تاریخی حقائق، آئینِ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر اور انسپکٹر جنرل پولیس کی جانب سے ریاست کے مستقبل سے متعلق اظہارِ رائے آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 257 اور عبوری آئین 1974 کی روشنی میں ریاست جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے اور آزاد جموں و کشمیر پاکستان کا صوبہ نہیں بلکہ ایک عبوری انتظامی اکائی ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے مشروط ہے۔ کسی سرکاری ملازم کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ آئینی و قانونی پوزیشن کے برعکس یکطرفہ تعبیرات پیش کرے۔ ایسے بیانات مسئلہ کشمیر کے مسلمہ قانونی تشخص کو مجروح کرتے ہیں اور سفارتی سطح پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن لیگ ایسے تمام بیانات کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ریاستی عہدیداران اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے غیر ضروری و متنازع گفتگو سے اجتناب برتیں۔
سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا راولاکوٹ کے شہداء سمیت حقوق کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کے بارے میں یہ کہنا کہ "مجھے لگتا ہے یہ کشمیری ہی نہیں" حقائق کے منافی، غیر ذمہ دارانہ اور سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ رانا ثناء اللہ کی جانب سے بغیر کسی عدالتی یا تحقیقی ثبوت کے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دینا بھی قانونی اصولوں اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے بیانات کشمیری عوام کی تاریخی قربانیوں کی نفی اور پاکستان و ریاست جموں و کشمیر کے مابین کلمہ کی بنیاد پر استوار رشتے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا جموں کشمیر لبریشن لیگ دوٹوک مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کسی فرد، ادارے یا بند کمرے کی صوابدید پر نہیں بلکہ صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی اور حقِ خودارادیت کے ذریعے ہوگا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر آئین و قانون اور بین الاقوامی وعدوں سے متصادم گفتگو پر فوری رجوع کریں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اور رانا ثناء اللہ اپنے غیر محتاط، غیر مصدقہ اور دل آزار بیانات پر کشمیری قوم سے فی الفور غیر مشروط معذرت کریں۔
کشمیری قوم پرامن ہے مگر اپنی شناخت، عزت اور شہداء کے خون پر کوئی مصالحت نہیں کرے گی۔ بصورت دیگر پیدا ہونے والی صورتحال کی تمام آئینی، قانونی اور سیاسی ذمہ داری متعلقہ بیانات دینے والوں پر عائد ہوگی.
واپس کریں