دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
چراغ کربلا ۔ ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
No image تاریخ کے وسیع و عریض عجائب خانے میں بعض لمحے ایسے بھی محفوظ ہیں جو وقت کے زنگ سے کبھی متاثر نہیں ہوتے۔ وہ صدیوں کے فاصلے کے باوجود انسانی شعور کے دریچوں پر اسی شدت سے دستک دیتے رہتے ہیں جیسے ابھی ابھی وقوع پذیر ہوئے ہوں۔ مدینے کی ایک ایسی ہی دوپہر تھی جب سورج صرف زمین پر نہیں، ضمیر کے آسمان پر بھی دہک رہا تھا۔ بظاہر ایک حکمران کی بیعت کا مطالبہ سامنے تھا، مگر درحقیقت یہ سوال اس سے کہیں بڑا تھا۔ اقتدار ایک دستاویز پر دستخط چاہتا تھا، جبکہ تاریخ انسان کے باطن سے ایک فیصلہ طلب کر رہی تھی۔ دربار کے مشیر، مصلحت کے سوداگر اور عافیت کے فلسفی اپنے اپنے ترازو لیے کھڑے تھے۔ ہر ایک کے پاس بقا کا ایک نسخہ تھا، ہر زبان پر احتیاط کی نصیحت تھی اور ہر دلیل کا حاصل یہ تھا کہ طاقت کے سامنے سر جھکا دینا ہی دانش مندی ہے۔ مگر بعض اوقات تاریخ کا دھارا محفوظ راستوں سے نہیں بدلتا بلکہ ایک ایسا انکار اسے نئی سمت دیتا ہے جو بظاہر نقصان اور حقیقت میں آنے والی نسلوں کی نجات ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب حق اور مصلحت آمنے سامنے کھڑے تھے؛ ایک طرف وقتی سکون تھا اور دوسری طرف دائمی صداقت۔ مدینے کی اس تپتی فضا میں جو فیصلہ صادر ہوا، اس نے ثابت کر دیا کہ بعض شخصیات اپنی زندگی نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کا ضمیر بچانے کے لیے میدان میں اترتی ہیں۔
اس منظر کو اگر ایک تمثیلی افسانے کی صورت میں دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک وسیع بازار آباد ہو جہاں ضمیر خریدنے اور بیچنے والے ہزاروں دکانیں سجائے بیٹھے ہوں۔ کہیں اقتدار کے سکے چمک رہے ہیں، کہیں منصب کے تاج آویزاں ہیں اور کہیں مستقبل کے سنہرے خواب رعایتی نرخوں پر فروخت ہو رہے ہیں۔ اس ہجوم میں کچھ لوگ اپنی روحوں کو گروی رکھ کر آسائش خرید رہے ہیں اور کچھ اپنی خاموشی کے بدلے امن کے سرٹیفکیٹ حاصل کر رہے ہیں۔ انہی گلیوں میں ایک شخص ایسا بھی ہے جس کے سامنے پوری دنیا رکھی گئی ہے مگر وہ اپنی بصیرت کا سودا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ دوسری جانب وہ کردار ہیں جو اقتدار کے ایک پروانے کے لیے اپنے ضمیر کے چراغ بجھا دیتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ طاقت ہمیشہ زندہ رہے گی اور حق کی آواز ریت میں دفن ہو جائے گی، مگر وقت کا غیر مرئی مورخ ان کے لیے ایک اور فیصلہ لکھ چکا ہوتا ہے۔ چند برس بعد محل کھنڈر بن جاتے ہیں، فتوحات خاک میں مل جاتی ہیں اور طاقت کے وہ تمام نشان مٹ جاتے ہیں جنہیں لوگ ابدی سمجھ بیٹھے تھے۔ باقی رہ جاتی ہے تو صرف وہ آواز جس نے خوف کے موسم میں سچ بولنے کا حوصلہ کیا تھا۔ کربلا اسی لیے ایک جنگ سے زیادہ ایک فکری تجربہ گاہ ہے جہاں انسان یہ سیکھتا ہے کہ اقتدار کی عمر کیلنڈر سے ناپی جاتی ہے جبکہ اصول کی عمر صدیوں سے۔
پھر وقت کا دریا حجاز سے نکل کر سندھ، ملتان اور تصوف کی وادیوں تک پہنچتا ہے تو اس داستان کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ یہاں ریت کے ذروں سے زیادہ دلوں کی دھڑکنیں بولتی ہیں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، روحل فقیر اور بیدل فقیر اس واقعے کو محض ایک تاریخی سانحہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے انسان کی باطنی آزادی کا استعارہ بنا دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کربلا تلواروں کی جھنکار سے زیادہ ضمیر کی بیداری کا نام ہے۔ ان کی شاعری میں حسینؓ ایک فرد نہیں بلکہ ایک دائمی رویہ بن جاتے ہیں؛ ایسا رویہ جو باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے خواہ اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیانہ فکر نے کربلا کو ماتم کے بجائے شعور کی معراج میں تبدیل کر دیا۔ یہاں خون سرخی نہیں بلکہ روشنی بن جاتا ہے، زخم کمزوری نہیں بلکہ وقار کا استعارہ بن جاتے ہیں اور قربانی شکست کے بجائے معنوی فتح کی علامت قرار پاتی ہے۔ ان صوفیانہ تعبیرات نے کربلا کو کسی مخصوص عہد یا گروہ کی میراث نہیں رہنے دیا بلکہ اسے پوری انسانیت کی مشترکہ اخلاقی میراث بنا دیا۔
آج کا زمانہ اگرچہ ڈیجیٹل سلطنتوں، مصنوعی ذہانت، میڈیا بیانیوں اور معاشی جبر کے نئے آلات سے آراستہ ہے، مگر انسان کے سامنے کھڑا بنیادی سوال وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا۔ آج بھی اقتدار اپنے جواز تلاش کرتا ہے، آج بھی مصلحت اپنی دلیلیں تراشتی ہے اور آج بھی ضمیر سے کہا جاتا ہے کہ وقتی فائدے کی خاطر خاموش ہو جاؤ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب نیزوں کی جگہ بیانیے اور لشکروں کی جگہ ادارے کھڑے ہیں۔ مگر تاریخ کا قانون نہیں بدلا۔ وقت کی عدالت میں وہی آواز معتبر سمجھی جاتی ہے جو خوف سے آزاد ہو۔ کربلا اسی ابدی اصول کا نام ہے کہ انسان کی اصل کامیابی جسم کی بقا نہیں بلکہ ضمیر کی حفاظت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی طاقت کے تخت اجڑ چکے ہیں مگر انکار کا وہ چراغ بدستور روشن ہے جو مدینے کی ایک تپتی دوپہر میں جلایا گیا تھا۔ وہ چراغ آج بھی انسان کو یاد دلاتا ہے کہ بعض اوقات تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ تلوار اٹھانا نہیں بلکہ مصلحت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرنا ہوتا ہے، کیونکہ یہی انکار آنے والی نسلوں کی آزادی کا پہلا منشور بنتا ہے۔
واپس کریں