سروں کی گنتی نے بندوق کی گنتی کو شکست دی ہے۔ فاروق طارق

جموں کشمیر جائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی موجودہ تحریک ایک منفرد اور تاریخی نوعیت کی ہے۔ یہ تحریک اپنے مقاصد میں کامیاب ہو یا اس کے مطالبات فوری نہ مانیں جائیں، اس کی مثالیں عمر بھر دنیا کے مختلف ملکوں میں چلنے والی تحریکوں میں دی جاتی رھے گی۔
دو ھفتوں سے کشمیر بند ہے، پورے راولاکوٹ میں ایک مصالحتی وفد کو صرف دو افراد نظر آئے۔ پورا کشمیر ابلا ہوا ہے عورتیں قیادت میں پیش پیش ہیں۔
یہ پرامن تحریک اب پاکستان کے پارلیمانی ایوانوں کو جھٹکا دے رہی ہے۔ اس سے نگاہیں چرانے والے اب اس کی مخالفت یا حق میں باتیں کرنے پر مجبور ہیں۔
ریاستی جبر کی تمام شکلیں ناکام ہو گئی ہیں ان کا پروپیگنڈا کہ یہ دھشت گرد ہیں، یہ بھارتی ایجنٹ ہیں۔ کوئی ماننے کو تیار نہیں ہے۔
ساؤتھ ایشیا میں مختلف اوقات میں چلنے والی عوامی تحریکوں سے کہیں زیادہ پرامن لیکن ملیٹنٹ تحریک مستقبل میں ایک مثبت مثال بن کر ابھرے گی۔ عوامی ایکشن کمیٹی جس کی قیادت کو روائتی سرمایہ دار سیاسی پارٹیاں غیر سیاسی کہ کر رد کر رہی تھیں،
اس نے عزم، ہمت، جرات، بہادری اور مستقل مزاجی کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ اس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
یہ تحریک پوری دنیا کے کشمیریوں کے دل و دماغ کو جیت چکی ہے۔ ملک سے باھر کشمیری عوام کے تاریخی یک جہتی مظاہرے ہوئے ہیں۔
اس تحریک نے کشمیر کی روائتی سیاسی قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے۔وہ مخمصے میں کہ کس کا ساتھ دیں۔ ریاست کے نام پر جبر کر کے دیکھ لیا ہے۔ مگر عوام کا جم غفیر کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
یہ قیادت مسلح جدوجہد کے خلاف بات کر کے ریاست کو انہیں کچلنے کا موقع نہیں دے رھی۔ یہ قیادت دو ہفتوں سے راولاکوٹ کو چاروں طرف سے پرامن طور پر گھیرے ہوئے ہے۔ شہر کے اندر کرفیو اور باھر عوامی جتھے۔
وہ قیادت جسے دھشت قرار دیا گیا وہ راولاکوٹ کے باھر چند میلوں کے فاصلے پر عوام میں موجود ہے۔ اسے گرفتار کرنے کی کسی بھی کوشش کو بھرپور عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کے مطالبات عوامی شعور کی غمازی کرتے ہیں۔ یہ تحریک اس حد تک عوامی ہے کہ تاجر بھی اپنی دوکانیں کھولنے کو تیار نہیں اور تحریک کی حمایت کر رھے ہیں۔
کشمیری پولیس اندر سے ٹوٹ چکی ہے باھر سے بھیجی گئی رینجرز بھی حیران پریشان ہیں کہ کیا کریں۔ گولیاں برسا کر بھی دیکھ لیا۔ ان کا خیال تھا لوگ واپس چلے جائیں گے۔
لیکن راولاکوٹ کے چاروں اطراف ہزاروں افراد موجود ہیں۔ جو صرف بیٹھے ہیں، ان کی موجودگی ہی تحریک کی کامیابی کی علامت بن گئی ہے۔ سروں کی گنتی نے بندوقوں کی گنتی کو مات دے دی ہے۔ یہ ہے عوامی طاقت کا بھرپور اظہار۔
اور یہ عوامی ایکشن کمیٹی اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی۔ یہ مطالبات کی پیداوار ہے،
مطالبات منوانے کا ڈھنگ یہ خوب جانتے ہیں۔ پہلے بجلی تین روپے فی یونٹ کروا چکے ہیں ایک آمرانہ قانون واپس کرا چکے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں مسلم لیگی وزراء بار بار کہ رھے ہیں کہ ہم انہیں تین روپے فی یونٹ بجلی دے رھے ہیں۔ یہ آپ نے کہاں دی رضاکارانہ؟ یہ تو جدوجہد کی دین تھا، آپ مجبور ہوئے۔ جب بھی یہ مجبوری تھوڑی کم ہوئی تو آپ پھر اسے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
اب بھی وقت ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے پابندی اٹھائیں، شہیدوں اور زخمیوں کو compensate کریں۔ گرفتار افراد رھا کریں، مقدمات واپس لیں۔ مطالبات پر بات کریں۔ اگر 38 میں سے 36 مان لئے ہیں تو دو اور بھی مان لیں۔ یہ آپ کی شکست نہیں ہوگی۔
فاروق طارق ۔صدر حقوق خلق پارٹی پاکستان
واپس کریں