دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکہ ایران کشیدگی! بڑھتے انسانی دکھوں کا احساس کریں
No image ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمہ کی امریکی تجاویز پر پاکستان کے ذریعے ایران کا جواب بھجوا دیا گیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق اس مرحلے پر مذاکرات جنگ کے خاتمہ پر مرکوز ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک امریکی اخبار کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار ختم کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کیا ہے اس لیئے امریکی صدر نے بھی مذاکرات کے لیئے ایرانی شرائط قبول نہیں کیں۔ ایران نے اپنے جواب میں یورینیم افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم 20 سال تک یورینیئم افزودہ نہ کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ایران نے امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء ایران کے متحدہ فوجی کمانڈ کے سربراہ عبدللہی نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ دشمن کی طرف سے کسی بھی غلطی پر ایران کا ردعمل تیز، سخت اور فیصلہ کن ہو گا۔ علاوہ ازیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا ہرگز نہیں، ایران اپنے مضبوط مؤقف کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا تو وہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے خلاف یہ یتھیار استعمال کرتا چنانچہ ان کے لیئے ایران میں فوجی مداخلت کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ اس وقت بھی بہت امکان ہے کہ ہم ایران پر حملہ کر دیں۔ یہ حقیقت ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کرکے عملاً انسانیت کی بقا خطرے میں ڈال دی تھی جبکہ اس وقت سے اب تک امریکہ اور ایران میں جاری کشیدگی نے اقوام عالم کے سانس خشک کر رکھے ہیں اور عالمی معیشتیں ڈکمگا رہی ہیں جبکہ دنیا پر وحشت، بھوک، اشیاء کی قلت اور قحط کے طاری سنگین خطرات انسانی بربادی کے ڈنکے بجا رہے ہیں۔ امریکہ ایران کشیدگی آج پوری دنیا کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے۔ بے شک پاکستان خطے کے امن کے لیئے آج بھی سفارتی سطح پر متحرک ہے اور امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کے ذریعے ہی مراسلت کا سلسلہ جاری ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کرنے اور دوبارہ حملے کے امکان کا اظہار صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ اسی طرح ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، اس بحران کو ایک نئے اور خطرناک موڑ کی طرف لے جا سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ عراق، شام، فلسطین اور یمن کے المناک حالات ابھی تک عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان طاقت آزمائی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی کے نظام اور عالمی امن کو متاثر کر سکتی ہے۔ خلیجی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان جیسے معاشی مشکلات سے دوچار ملکوں کے لیے نئے بحران پیدا کر سکتا ہے۔ دنیا پہلے ہی غربت، بھوک، موسمیاتی تبدیلی، بیماریوں اور انسانی المیوں سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ اور ایران کا دھمکیوں کا تبادلہ عالمی امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اور ایران تحمل، بردباری اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں اور وہ ممالک جو کشیدگی کم کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، امریکہ اور ایران کے مابین مستقل جنگ بندی کے لیئے فعال کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دونوں ممالک میں مذاکرات کی راہ ہموار کرے۔ ایک دوسرے کی طاقت آزمانے کا یہ خطرناک کھیل اب بند ہونا چاہیے کیونکہ دنیا مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انسانیت کو تباہی نہیں بلکہ امن، استحکام اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔
واپس کریں