دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اربوں کا پیٹرول، شاہی پروٹوکول اور بھوکی ننگی عوام
No image میاں شمس۔85 ہزار پروٹوکول کی سرکاری گاڑیاں، اربوں کا پیٹرول اور بھوکی عوام ۔
ملک بھر میں اس وقت پروٹوکول کے لیے تقریباً 85 ہزار سرکاری گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ اگر فی گاڑی اوسطاً روزانہ 25 لیٹر پٹرول خرچ ہونے کا اندازہ لگایا جائے تو ایک گاڑی ماہانہ 750 لیٹر پٹرول استعمال کرتی ہے۔ بعض سرکاری گاڑیوں کو 600 لیٹر ماہانہ جبکہ کئی کو اس سے بھی زیادہ، حتیٰ کہ لامحدود پٹرول سرکاری خزانے سے فراہم کیا جاتا ہے۔ اسی اوسط کو بنیاد بنا کر حساب لگایا جائے تو 85 ہزار گاڑیاں روزانہ تقریباً 21 لاکھ 25 ہزار لیٹر پٹرول استعمال کرتی ہیں۔
اگر اسی استعمال کو ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ مقدار تقریباً 6 کروڑ 37 لاکھ 50 ہزار لیٹر پٹرول بنتی ہے۔ موجودہ پٹرول قیمت، جو تقریباً 415 روپے فی لیٹر کے قریب ہے، کے مطابق یہ خرچ اربوں روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو عوام کے ٹیکس سے حاصل کی جاتی ہے، جبکہ ملک کا ایک بڑا طبقہ غربت، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر صرف پروٹوکول اور شاہانہ اخراجات میں کمی کر دی جائے تو انہی وسائل سے کتنے اسپتال، اسکول، سڑکیں اور فلاحی منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ اگر اس پٹرول کے سالانہ اخراجات کا مکمل حساب لگایا جائے تو اعداد و شمار اتنے حیران کن ہوں گے کہ واقعی انسان دنگ رہ جائے۔
واپس کریں