مہمان کالم
فلاحی ریاست میں سب سے زیادہ توجہ اِس نکتے پر دی جاتی ہے کہ لوگوں کو بے روزگار مل رہا ہے اگر نہیں مل رہا تو ریاست خود بے روزگاری الاؤنس دیتی ہے تاکہ زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔ہمارے ہاں یہ پہلو سرے سے حکومت کی نظر میں اہمیت ہی نہیں رکھتا۔ابھی کل ایک نوجوان نے اپنی اعلیٰ ڈگریاں ملتان کے ایک بارونق چوک میں جلائیں اور تیل چھڑک کر خود کشی کی کوشش کی جسے قریب موجود ٹریفک وارڈن نے بچا لیا۔زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی نوبت تک انسان اُس وقت پہنچتا ہے جب ساری اُمیدیں،ساری توقعات ختم ہو گئی ہوں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیتا ہے،وہ ایک باعزت روزگار بھی چاہتا ہے۔ یہ بہت افسانوی بات ہے کہ تعلیم روزگار کے لئے نہیں ہوتی،اچھا انسان بننے کے لئے حاصل کی جاتی ہے،اچھا انسان روزگار کے بغیر کیسے بن سکتا ہے؟ پھر یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ بڑھئی کا کام کر لیتا، الیکٹریشن یا پلمبر بن جاتا، خود کشی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کہنا آسان ہے، جب خود پر بیتے تو اُسے سہنا بہت مشکل ہے۔اب جو ایک بڑی تعداد ڈاکٹروں کی بیروزگار پھر رہی ہے، اُسے بھی ڈاکٹری چھوڑ کر پلمبری کرنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے؟ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ہاؤس جاب یا میڈیکل آفیسر کی چند آسامیاں آتی ہیں تو سینکڑوں ینگ ڈاکٹر جن میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے درخواستیں لیکر پہنچ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھیڑ چال کا تو دور ہمیشہ سے رہا ہے۔ تاہم دو شعبوں میں بہت لوٹ مچائی گئی۔ایک شعبہ طب اور دوسرا شعبہ وکالت۔اتنے زیادہ میڈیکل کالجز اور لاء کالجز کھولے گئے کہ یہ بھی کسی نے نہیں سوچا ان نوجوانوں کی کھپت کہاں ہو گی۔وکالت کے شعبے میں تو قدغن لگانے کی تدابیر کی گئیں اور ڈگری کا دورانیہ دو سال سے پانچ سال تک بڑھا دیا گیا، لیکن طب کے شعبے میں والدین کے خواب اُن کے لئے عذاب بن گئے۔ نجی میڈیکل کالجوں نے ناکافی سہولتوں اور اعلیٰ فیکلٹی کے بغیر ڈیڑھ کروڑ میں ڈاکٹر بنانے کا نسخہ پیش کیا۔دھڑا دھڑ داخلے کئے پھر جب سرکاری میڈیکل کالجوں اور ان نجی میڈیکل اداروں کے ڈاکٹر بڑے ریلے کی صورت ڈگریاں لے کر نکلے تو آگے کوئی جگہ ہی نہیں تھی، اچھے ادارے میں کام کرنے کا تجربہ نہ ہو تو ڈاکٹر کی پرائیویٹ پریکٹس بھی نہیں چلتی۔یہ اُس شعبے کا حال ہے، جس میں داخلہ لینے کے لئے صرف ایف ایس سی میں اعلیٰ نمبر ہی درکار نہیں ہوتے بلکہ ایم ڈی کیٹ جیسے مہنگے امتحان سے گذرنا بھی ضروری ہوتا ہے،جس کی تیاری کرانے والے ادارے لاکھوں روپے فیس وصول کرتے ہیں۔
بے روزگاری کی شرح بڑھنے کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت نہیں چل رہی۔ ہمارے خزانے یا پلاننگ کے وزراء بجٹ میں یہ تو بتائیں گے کہ معیشت کی نمو کتنی ہو گی یا تجارتی خسارے میں کتنی کمی آئے گی،مگر اس پہلو پر روشنی نہیں ڈالتے،روزگار کے مواقع کتنے بڑھیں گے، بے روزگاری کی شرح کتنی کم ہو گی،روز گار کا تعلق براہِ راست اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری سے ہے۔نئی صنعتیں لگیں گی، نئے کارخانے بنیں گے اور نئی انڈسٹری نمو پائے گی تو روزگار بڑھے گا،اس کے سوا تو اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے مگر اس حوالے سے تو ہمارے حالات کچھ اچھے نہیں۔دوسری طرف حکومتوں نے جاب دینے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ پنجاب میں ایک سال کے دوران ہزاروں آسامیاں ختم کی گئی ہیں، ماضی کے حکمران پاگل نہیں تھے کہ انہوں نے ہزاروں سرکاری ملازمتیں پیدا کی تھیں،جہاں بے روزگاری کی شرح بڑھ جائے وہاں ریاست کو ایسے کام کرنا پڑتے ہیں۔ آپ بے روزگاری الاؤنس نہیں دے سکتے تو اُن سے کام لو لے سکتے ہیں،مگر اب یہ نیا سلسلہ ہے کہ سرکاری محکمے اور سرکاری ملازمتیں ہی ختم کر دو۔پنجاب میں ہزاروں سکولز پرائیویٹائز کر دیئے گئے اور اساتذہ کو اُس نجی استحصالی مافیا کے سپرد کر دیا جو ایم فل تعلیم اُستاد کو بھی پندرہ بیس ہزار تنخواہ دیتا ہے، سب کچھ بچت کے نام پر کیا گیا۔کیسی بچت ہے جس نے بے روز گاری بڑھا دی، نوجوانوں کو خود کشیوں پر مجبور کیا۔دوسری طرف اپنی مراعات اور تنخواہوں میں کئی سو گنا اضافہ کر کے حساب برابر کر دیا۔اب آٹھ لاکھ روپیہ ماہانہ لینے والے وزراء بھی بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں مہنگائی کی وجہ سے گذارا نہیں ہوتا، دوسری طرف اُن سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان چند ہزار ماہانہ پر کام کر رہے ہیں۔کل ایک دوست محمد رفیق میرے پاس آئے۔اُن کی داستان سن کر میں سمجھ گیا کہ یہ صرف انہی کی داستان نہیں بلکہ گھر گھر کی کہانی ہے۔ انہوں نے بتایا دو بیٹیاں ایم فل کر کے گھر بیٹھی ہیں اور دو بیٹے بی ایس کر کے جاب ڈھونڈ رہے ہیں، چھوٹی موٹی جاب ملتی ہے، جیسے کسی شو سٹور پر سیلز مین کی جاب، مگر ایسی جاب کہیں نہیں مل رہی جو اُن کی تعلیم سے لگا کھاتی ہو، پھر انہوں نے ایسی بات کی جس پر میں چونکا،انہوں نے کہا بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دِلا کر میں نے اُن پر ظلم کیا ہے۔ میں نے کہا رفیق صاحب یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ تو بڑے روشن خیال انسان ہیں، بیٹیوں کی تعلیم تو اُن کا حق ہے۔ کہنے لگے آپ نہیں سمجھیں گے میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا نہیں،کھل کر بتائیں شاید کوئی حل نکل سکے۔انہوں نے کہا اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے بیٹیوں کے رشتے بھی نہیں آ رہے جو آتے ہیں وہ کمتر تعلیم کے حامل ہوتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اُن کے ناز نخرے اتنے ہیں کہ میرے جیسا غریب سفید پوش انہیں اُٹھا نہیں سکتا۔ان کی تعلیم ایف اے،بی اے ہوتی تو کم از کم ان کے معیار کا رشتہ تو مل جاتا۔ اب عمریں گذر رہی ہیں اور پریشانی بڑھتی جا رہی ہے انہیں کہیں جاب مل جاتی تو شاید اچھے ر شتوں کی راہ بھی نکل آتی۔
اب ایسے معاشرتی پہلوؤں پر غور کرنے کی ہمارے حکمرانوں کے پاس فرصت کہاں ہے؟انہیں عالمی مسائل سے فرصت نہیں یا پھر انہوں نے اپنے خلاف اُٹھنے والی آوازوں کو دبانا ہے۔آبادی کا عفریت تو بڑھ ہی رہا ہے لیکن اُس سے بھی زیادہ خطرناک بے روزگاری کا سیلاب ہے جس نے والدین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے کیونکہ جوان اولاد گھر فارغ بیٹھی ہو تو اُس کے خرچے بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ کوئی اپنی مدتِ ملازمت پوری کر کے ریٹائرڈ ہو چکا ہوتا ہے اور کسی نے چند مہینوں یا برسوں میں ریٹائر ہونا ہوتا ہے۔ایسے میں اگر فطرت کا یہ دائرہ رُک جائے کہ والدین بوڑھے ہوتے ہیں تو اولاد اُن کی جگہ کمانے لگتی ہے، تو یہ صورت ایک بڑے انتشار کا باعث بن جاتی ہے۔کاش ہمارے حکمرانوں کو اِن مسائل کی طرف دیکھنے کی توفیق ہو، کاش وہ بے روزگاری کے اِس لاوے کو دیکھیں جو اندر ہی اندر سے ہمیں کھوکھلا کر رہا ہے۔
واپس کریں