لاہور پولیس ۔ قانون کس کے اشارے پر چلے گا؟ یونس باٹھ
مہمان کالم
لاہور میں ایک مشہور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی دو بہنوں کو مبینہ طور پر گاڑی کی نمبر پلیٹ درست نہ ہونے اور پولیس ناکے پر پیش آنے والے واقعہ کے بعد حراست میں لیا گیا، مقدمہ درج ہوا، لیکن پھر کہانی نے ایسا رخ اختیار کیا جس نے لاہور پولیس کے نظام، سیاسی مداخلت اور قانون کی بالادستی سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دئیے۔ اطلاعات کے مطابق، ندیم نانی والا موقع پر پہنچے، اپنا اثرورسوخ استعمال کیا اور حکمران جماعت کے ایک رکن صوبائی اسمبلی کی مداخلت کے ذریعے دونوں خواتین گھر پہنچ گئیں۔ سوال یہ نہیں کہ ندیم نانی والا کون ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں قانون کا راستہ بھی شہرت اور سیاسی تعلقات دیکھ کر بدل جاتا ہے؟ ایف آئی آر کے مطابق ڈیفنس بی کے علاقے میں پولیس ناکے پر ایک آڈی گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا گیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ گاڑی چلانے والی خاتون نے کانسٹیبل کو ٹکر مارنے کی کوشش کی، گاڑی زگ زیگ انداز میں بھگائی اور گاڑی پر نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی۔ بعدازاں پولیس نے گاڑی اور موبائل فون کو قبضے میں لینے کا ذکر بھی کیا۔ یہ الزامات ہیں، جن کا فیصلہ شواہد اور قانونی کارروائی کے مطابق ہونا چاہیے۔ تاہم مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزمہ کی رہائی اور اس میں مبینہ سیاسی مداخلت اس پورے واقعہ کا سب سے اہم پہلوہے۔اطلاعات کے مطابق جب ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے علم میں یہ معاملہ آیا تو انہوں نے ایس ایچ او ڈیفنس بی کو حکم دیا کہ ڈرائیور خاتون کو ہر صورت گرفتار کرکے تھانے لایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس ایچ او نے ندیم نانی والا سے رابطہ کرکے انہیں خواتین کو واپس تھانے لانے کے لئے راضی کرنے کی کوشش کی، لیکن بات نہ بنی۔ ایس ایچ او ان کے گھر کے باہر بھی پہنچے، مگر خواتین کو واپس تھانے لانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ او، محرر اور لیڈی کانسٹیبل کو معطل کرکے ایس ایس پی آپریشنز کو انکوائری کی ہدایت کردی۔ فیصل کامران کے اس اقدام کا ایک مثبت پہلو ضرور ہے: پولیس افسران کو یہ پیغام ملتا ہے کہ قانونی کارروائی کو دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ کوئی شخص کتنا ہی مشہور کیوں نہ ہو، اس کے سیاسی تعلقات کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ تاہم، اصل امتحان صرف ماتحت اہلکاروں کو معطل کرنا نہیں، بلکہ یہ معلوم کرنا بھی ہے کہ خواتین کو گھر جانے کی اجازت کس نے دی اور کس اختیار کے تحت دی گئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مقامی ایس ایچ او، محرر اور لیڈی کانسٹیبل اس معاملے میں اصل ذمہ دار نہیں تھے، بلکہ ایک رکن صوبائی اسمبلی کی ہدایت پر مقامی ایس پی نے خواتین کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر بنیادی ذمہ داری کا تعین بھی اسی تناسب سے ہونا چاہیے۔ حکم دینے والا افسر بری الذمہ اور اس حکم کے نتیجے میں کام کرنے والے ماتحت اہلکار سزا کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں؟ کیا پولیس میں احتساب کا مطلب صرف کمزور عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو قربانی کا بکرا بنانا رہ گیا ہے؟ اگر ایس پی نے واقعی سیاسی ہدایت پر خواتین کو چھوڑنے کا حکم دیا تھا تو انکوائری کا دائرہ ایس ایچ او سے آگے بڑھنا چاہیے۔ متعلقہ رکن صوبائی اسمبلی کے کردار کی بھی وضاحت ہونی چاہیے اور یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ فیصلے کا اختیار کس نے استعمال کیا۔ سیاسی نمائندے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے منتخب ہوتے ہیں، پولیس کے تفتیشی عمل میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے نہیں۔ ایم پی اے ہونا کسی شہری کو قانون سے رعایت دلوانے کا خصوصی پروانہ نہیں۔ اگر بااثر لوگوں کے لیے الگ قانون ہوگا تو پھر عام شہری سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کس اخلاقی بنیاد پر کیا جائے گا؟ فیصل کامران کو بھی چاہیے کہ انکوائری میں کسی عہدے یا سیاسی تعلق کو ملحوظ خاطر لائے بغیر حقائق سامنے لائیں۔ اگر ایس ایچ او نے احکامات کی خلاف ورزی کی تو اس کا جواب طلب کیا جائے، لیکن اگر اس نے اپنے افسر کے حکم پر عمل کیا تھا تو پھر ذمہ داری کا تعین بھی انصاف کے مطابق ہونا چاہیے۔ محض معطلی سے معاملہ حل نہیں ہوگا؛ اصل سوال کا جواب ضروری ہے کہ رہائی کس کے حکم پر ہوئی اور اس حکم کی قانونی حیثیت کیا تھی۔ دوسری طرف حکومت کو نمبر پلیٹوں کے معاملے میں اپنی پالیسی پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔ غیر قانونی نمبر پلیٹ، بغیر نمبر پلیٹ گاڑی اور نمبر پلیٹ سے چھیڑ چھاڑ یقیناً قابلِ توجہ معاملات ہیں، مگر ہر خلاف ورزی کا جواب فوراً گرفتاری اور مقدمہ ہونا ضروری نہیں۔ جہاں قانون اجازت دیتا ہو، وہاں کچھ مدت کے لیے وارننگ، مقررہ وقت میں نمبر پلیٹ درست کرنے کی مہلت اور خلاف ورزی کرنے والی گاڑی کے خلاف قانونی کارروائی کا طریقہ اپنایا جاسکتا ہے۔ البتہ جعل سازی، مجرمانہ سرگرمی یا کسی خطرناک جرم کے شواہد ہوں تو ان معاملات کو محض تنبیہ تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اس سخت کارروائی کی زد میں طلبہ بھی آتے ہیں۔ کسی طالب علم کے خلاف مقدمہ درج ہونے سے اس کا مستقبل، تعلیمی سفر اور ملازمت کے امکانات متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ والدین الگ پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اصلاح کا موقع دے، واضح مہلت مقرر کرے اور اس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کرے تو یہ بھی اچھی حکمرانی کی علامت ہوگی۔آخر میں سوال ندیم نانی والا سے بھی ہے اور مبینہ طور پر مداخلت کرنے والے ایم پی اے سے بھی: اگر قانون کے مطابق مقدمہ درج ہوا تھا تو پھر سیاسی اثرورسوخ استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر رہائی کا فیصلہ درست تھا تو اس کی قانونی بنیاد عوام کے سامنے کیوں نہ رکھی جائے؟ فیصل کامران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا پیغام قابلِ تحسین ہے، لیکن اس پیغام کی اصل سچائی تب ثابت ہوگی جب قانون کا اطلاق ماتحت اہلکاروں کے ساتھ ساتھ حکم دینے والے افسروں اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کرنے والوں پر بھی یکساں ہوگا۔ ورنہ سوال اپنی جگہ رہے گا: غریب شہری کو قانون پکڑتا ہے، لیکن بااثر شخص کے لیے قانون کا راستہ کون بدل دیتا ہے؟
واپس کریں