دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یہ تجربہ بھی کر دیکھئے ۔ ڈاکٹرخالد جاوید جان
مہمان کالم
مہمان کالم
قیام پاکستان سے لے کر آج تک سیاسی نظاموں کے حوالے سے جتنے تجربے پاکستان میں کیے گئے ہیں شاید دنیا کے کسی اورملک میں نہیں کیے گئے۔یوں لگتا ہے کہ یہ وہ لیبارٹری ہے جسکے قیام کا مقصد ہی طرح طرح کے تجربات کرنا تھا ۔یہ اس لحاظ سے اور بھی حیرت انگیز لیبارٹری ہے کہ دوسری سائنسی لیبارٹریوں کے برعکس جہاں پرانے فرسودہ اور ناکام ثابت ہونے والے تجربات دہرائے نہیں جاتے اور صرف اس امید پر نئے تجربات کیے جاتے ہیں کہ وہ انسانوں کے مفادات کیلئے بہتر ثابت ہوں۔لیکن اس تجربہ گاہ میں تاریخی طور پر ناکام ثابت ہونے والے تجربے اس خوش فہمی کی بنیاد پر بار بار دہرائے جاتے ہیں کہ شاید وہ کبھی کامیاب بھی ثابت ہو جائیں لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا اور ہر تجربے نے پہلے سے زیادہ نقصان پہنچایا ۔یاد رہے کہ بڑے بڑے جاگیرداروں اور بعض مذہبی جماعتوں نے پہلے تو اس ملک کے قیام کی ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت کی ،اسی طرح سول اور ملٹری بیورکریسی کا تحریک پاکستان میں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ بوجوہ وہ اس ملک کو بننے سے نہیں روک سکتے تو اسٹیبلشمنٹ کے یہ چاروں کردار یعنی جاگیردار، مذہب پسند، سول اور ملٹری بیوروکریسی چھلانگ لگا کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھے۔اور ملک کو اپنے مقاصد کے تحت چلانے کیلئے قراردادِ مقاصد کے نام سے مذہب اور سیاست کے ملاپ کے تجربے کا آغاز کر دیا جو انسانی تاریخ میں مسترد ہو چکا تھا اور بانی پاکستان نے بھی ایک غیر مسلم قانون دان جوگندر ناتھ منڈل کو وزیر قانون بنا کر اس نظریے کی عملی مخالفت کر دی تھی کیونکہ انسانی تاریخ نے صدیوں کے خون خرابے کے بعد یہ ثابت کر دیا تھا کہ مذہبی معاملات میں عملی طور پر اجتہاد اور اجماع نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں اتحاد و یگانگت پیدا نہیںکی جا سکتی ہے بلکہ معاشرہ فرقہ واریت کا شکار ہو جاتا ہے۔ مگر آج تک ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہ پڑھنے والے پیشواؤںنے قراردادِ مقاصد کےاپنے مقاصد حاصل کر لیے جس کے تحت جمہوریت اور انسانی حقوق کے مطالبے کو غیر اسلامی اور وطن سے غداری قرار دے دیا گیا ۔اس سب کے باوجود جب عوامی مطالبات ان کے کنٹرول سے نکلنے لگے تو یہ سب ڈکٹیٹر ایوب خان کی قیادت میں اس کے ساتھ آ ملے۔ مارشل لاؤں کے جد امجد ایوب خان نے جمہوریت کو پاکستانی عوام کیلئے ناقابل عمل قرار دے کر فوجی ڈکٹیٹر شپ کے زیر سایہ بنیادی جمہوریتوں یعنی بی ڈی سسٹم کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور 10 سال اسے دنیا کا بہترین سیاسی نظام ثابت کرنے میں ضائع کر دئیے لیکن اس نظام نے مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان نفرت کے وہ بیج بوئے کہ چند ہی سال کے بعد جنرل یحییٰ خان ہے دنیا کے مسلمہ جمہوری نظام کے نتائج کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنے عوام پر فوج کشی کا تجربہ کیا لیکن نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا اور پاکستان دنیا کی تاریخ میں صرف 23 برس کی قلیل مدت میں ٹوٹنے والا پہلا ملک بن گیا۔ پاکستان کو اس مقام پر پہنچانے والے کسی کردار کو کوئی سزا نہیں دی گئی بلکہ انہیں قومی پرچم میں لپیٹ کر اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ چند سال کے فطری دور یعنی جمہوری دور کے بعد ایک اور"مفکر "نے اسلحے کے زور پر عوامی حقوق پر شب خون مارا اور اب کی بار اس لیبارٹری میں اسلامی نظام کا وہ تجربہ کیا جس کی سزا فرقہ واریت اور ہولناک تشدد کی شکل میں ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اس شخص نے بیسویں صدی میں عوام کو سرعام کوڑے مارے اور پھانسیوں کی سزائیں دے کر زندہ انسانوں کے معاشرے کو قبرستان میں تبدیل کر دیا اور غریب عوام کو عالمی طاقتوں کے بے رحمانہ تسلط میں دے دیا اس نے ہر صوبے ،ہر مذہب ،ہر مذہب کے ہر فرقے اور ذات برادریوں کی سطح تک عوام کو تقسیم کر دیا۔ جس میں جاگیرداروں مذہبی پیشواؤں اور افسر شاہی نے اس کا پورا پورا ساتھ دیا۔

اس کے تجربے کی ناکامی نے بھی اس کو اسی طرح کے مزید فرسودہ تجربات کرنے سے باز نہ رکھا ۔جنرل ضیا کے مذہبی تجربے کے برعکس جنرل پرویز مشرف نے وہی کچھ لبرلزم کے نام پر کیا اور ملک کو امریکی سامراج اور ایم ایم اے کے حوالے کر دیا۔ اس مرتبہ اس سیاسی تجربے کا نام ڈی جی سسٹم یعنی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ یعنی ضلعی حکومتی نظام رکھا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر تجربے کی ناکامی کے بعد یہ کہا گیا کہ اس تجربے پر اچھی طرح عمل نہیں کیا گیا اس لیے ناکام ہو گیا ہے۔

آج کل نئے صوبوں کے قیام کے نام پر پھر سیاسی عمل کو پامال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس طرح کسی وقت مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو ملا کر ون یونٹ بنایا گیا تھا اور اسے ایک بہت بڑا کارنامہ قرار دیا گیا تھا اور پھر اس کے بعد اس ون یونٹ کو توڑنا پڑا اسی طرح آج کل نئے صوبے بنانے کا شوشہ چھوڑا گیا ہے جو نجانے کس شکل میں اختتام پذیر ہوگا۔اسی طرح اب ایک نئے سیاسی نظام کا تجربہ کیا جا رہا ہے جسے ہائبرڈ سسٹم کہتے ہیں اس نظام کے تحت بننے والی پہلی حکومت یعنی عمران خان کی حکومت کو تو ختم کیا جا چکا ہے، آئندہ دیکھیے کیا ہوتا ہے ۔ ابھی تک اگر کسی چیز یا سیاسی فلسفے کا دیانتداری سے تجربہ نہیں کیا گیا تو وہ ہے پارلیمانی جمہوری نظام۔ ترقی یافتہ ممالک تو ایک طرف ہم سے علیحدہ ہونے والے پسماندہ ترین ملک بنگلہ دیش نے بھی خود کو سیکولر اور جمہوری ملک قرار دے کر ترقی کی وہ منازل طے کر لی ہیں کہ ہم سے کہیں آگے نکل گئے ہیں وہاں نہ تو اسلام خطرے میں پڑا ہے اورنہ مسلمان ۔کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے مقتدر حلقے اگرحقیقی معنوں میں اس ملک کی بقا اور استحکام چاہتے ہیں تو وہ بلا روک ٹوک اس تجربے کو جاری رہنے دیں جس میں ہر حالت میں منصفانہ جمہوری نظام چلتا رہے ۔ اپنے فرسودہ تجربات کے بعد یہ آخری تجربہ کر لینے میں کیا حرج ہے شاید ہم بھی کامیاب ہو جائیں کیونکہ ہم بھی اسی دنیا کے باسی ہیں کسی اور سیارے کی مخلوق نہیں۔
واپس کریں