دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نقشے نہیں، ریاستی منطق بدلنے کی ضرورت
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
کسی نظام کی خرابی ہمیشہ اس مقام پر آشکار نہیں ہوتی جہاں اس کا کوئی پرزہ بظاہر ناکارہ دکھائی دے رہا ہو؛ بسا اوقات اصل خلل اُن پوشیدہ رشتوں میں سرایت کر جاتا ہے جو نظام کے مختلف اجزا کو باہم مربوط رکھتے ہیں۔ پاکستان میں صوبائی حدود، نئے صوبوں، انتظامی تقسیم، مرکزیت اور عدمِ مرکزیت کی جو بحث آج پھر شدت اختیار کر رہی ہے، اس کے پس پردہ بھی ایک ایسا ہی بنیادی سوال موجود ہے۔ ہم نئی حدبندیاں، نئے صوبے، نئے اضلاع اور نئے انتظامی مراکز بنانے کی بات تو کرتے ہیں، مگر اس سے پہلے یہ سوال پوری دیانت سے نہیں کرتے کہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ محض جغرافیہ نہیں رہتا بلکہ ’’حکمرانی کی حکمت‘‘ اور ریاستی منطق کا سوال بن جاتا ہے۔

سیاسی گفتگو میں یہ جملہ کثرت سے سنائی دیتا ہے کہ ’’نظام ناکام ہو چکا ہے‘‘۔ مگر ناکامیِ نظام کی حقیقت کیا ہے؟ کیا ایک بڑے صوبے کو دو یا تین اکائیوں میں تقسیم کر دینے سے تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان، ٹیکس وصولی اور شہری سہولتوں کے مسائل ازخود تحلیل ہو جائیں گے؟ کیا نقشے پر کھینچی گئی نئی لکیر انتظامی کمزوری، معاشی بدحالی اور ادارہ جاتی بے سمتی کو بھی مٹا سکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی تاریخ میں ہر انتظامی بحران کا علاج صرف نئی حدبندی سے ممکن ہو جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ اکثر اختیار کی مقدار سے زیادہ اختیار کے مصرف، سمت اور جواب دہی کا ہوتا ہے۔ کہیں اقتدار اس قدر مرتکز ہے کہ مقامی ضرورت مرکز کی فائلوں میں گم ہو جاتی ہے اور کہیں اختیار اس قدر منتشر کہ ناکامی کی ذمہ داری کسی ایک دروازے پر دستک نہیں دیتی۔

ریاست کی اصل قوت محض دفاتر، عہدوں، قوانین اور انتظامی احکامات میں نہیں ہوتی۔ اس کی حقیقی بنیاد آئین، قانون، ادارہ جاتی تسلسل، عدل اور شہری اعتماد کے اس باہمی میثاق میں ہوتی ہے جس کے بغیر اقتدار تو قائم رہ سکتا ہے، مگر اقتدار کو اخلاقی جواز حاصل نہیں ہوتا۔ قرآن کا اصول ہے: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ۔ یعنی ریاستی نظم کی روح محض حکم رانی نہیں بلکہ عدل و احسان ہے۔ اگر آئینی اصول فیصلہ سازی کے مرکز سے پسِ پشت چلے جائیں تو انتظامی اصلاحات بھی محض ظاہری آرائش بن جاتی ہیں۔ نئے سیکریٹریٹ، نئی حدبندیاں اور نئے عہدے ریاست کا حجم تو بڑھا سکتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ اس کی کارکردگی، شفافیت اور عوامی اعتماد بھی اسی تناسب سے بڑھ جائے۔ عمارت کی منزلیں بڑھانے سے پہلے بنیاد کا استحکام دیکھنا ہی عقلِ حکمرانی ہے۔

اس کے بعد معیشت کا سوال سامنے آتا ہے، اور یہ سوال کسی بھی ریاست کے وجودی سوالات سے کم نہیں۔ پاکستان کی مشکل صرف یہ نہیں کہ ریاست کم ٹیکس وصول کرتی ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسا معاشی ماحول پوری طرح تشکیل نہیں پا سکا جس میں سرمایہ محفوظ ہو، پیداوار میں وسعت آئے، کاروبار اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے اور سرمایہ کاری وقتی سرگرمی کے بجائے مسلسل معاشی روایت بن جائے۔ رسمی معیشت کے بعض حصوں تک ریاست کی رسائی ضرور بڑھی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، دستاویزی کاروبار اور بجلی کے صارفین نسبتاً آسانی سے ریاستی وصولی کے دائرے میں آ جاتے ہیں، مگر غیر رسمی معیشت، سیاسی اثرورسوخ اور مقامی طاقت کے پیچیدہ ڈھانچے اب بھی ریاستی دسترس کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔

یہاں حکمرانی کا ایک نہایت اہم اصول سامنے آتا ہے۔ جہاں ریاست نے وصولی کے نظام کو غیر شخصی، خودکار اور قواعد پر مبنی بنایا، وہاں صوابدید کی گنجائش کم ہوئی اور انتظامی صلاحیت نسبتاً بہتر دکھائی دی۔ بجلی کا بل کسی اہلکار کے ذاتی مزاج کا محتاج نہیں ہوتا اور ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام شہری اور ریاست کے درمیان براہِ راست مالی تعلق قائم کرتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں کسی اہلکار کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ طے کرے کون سا کاروبار دستاویزی ہے، کس جائیداد کی کیا حیثیت ہے یا کس شخص پر کون سا ضابطہ لاگو ہوگا، وہاں صوابدید کے ساتھ سفارش، دباؤ اور ذاتی منفعت کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ یوں بدعنوانی محض فرد کا اخلاقی انحراف نہیں رہتی؛ کبھی کبھی خود نظام اس کے لیے دروازے کھول دیتا ہے۔

لیکن یہی مرکزیت جب ریاستی خدمات کی فراہمی پر مسلط ہوتی ہے تو اس کے نتائج مختلف ہو جاتے ہیں۔ تعلیم، صحت، صفائی، نکاسیِ آب، مقامی سڑکیں، پانی اور شہری سہولتیں ایسے معاملات ہیں جن کی حقیقت فائلوں سے زیادہ زمین پر لکھی جاتی ہے۔ ایک دور افتادہ اسکول کی اصل مشکل مرکزی دفتر کے اعداد و شمار سے زیادہ وہ استاد جانتا ہے جو روزانہ بچوں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ ایک بنیادی مرکزِ صحت کی ضرورت اُس ڈاکٹر یا نرس سے زیادہ کون جان سکتا ہے جو روزانہ مریضوں کے مسائل دیکھتا ہے؟ کسی بستی کے پانی، سیوریج یا سڑک کا مسئلہ بھی اسی سطح پر زیادہ واضح ہوتا ہے جہاں لوگ اسے اپنی زندگی میں جھیل رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان کا انتظامی تجربہ بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب مقامی اداروں کو وسائل، اختیار اور ترجیحات طے کرنے کی نسبتاً زیادہ گنجائش ملی تو بعض شعبوں میں خدمات اور شہری بنیادی ڈھانچے کے نتائج بہتر ہوئے۔ 2002ء سے 2008ء کے دوران مقامی حکومتوں کے ذریعے ترقیاتی ترجیحات اور وسائل کی تقسیم نے بعض علاقوں میں قابلِ ذکر اثرات مرتب کیے، جبکہ 2011ء کے بعد صوبائی سطح پر مرکزیت کے دوبارہ مضبوط ہونے کے ساتھ بعض شعبوں میں پیش رفت کی رفتار سست پڑی۔ یہ تجربہ کسی جامد تاریخی قانون کا درجہ نہیں رکھتا، مگر اتنا ضرور بتاتا ہے کہ ’’قریب تر حکومت‘‘ کا اصول محض انتظامی اصطلاح نہیں بلکہ مؤثر خدمت رسانی کی ایک اہم شرط ہے۔

یہاں ایک بنیادی امتیاز سمجھنا ہوگا: ریاست کے ہر کام کے لیے ایک ہی انتظامی نسخہ کارآمد نہیں ہو سکتا۔ جہاں ریاست کو وسائل وصول کرنے ہوں وہاں نظام جتنا غیر شخصی، خودکار اور شفاف ہوگا، اتنا ہی سفارش اور صوابدید کا دائرہ محدود ہوگا؛ لیکن جہاں ریاست کو شہری کو خدمت فراہم کرنی ہو وہاں اختیار اُس مقام کے قریب ہونا چاہیے جہاں مسئلہ جنم لیتا ہے۔ اختیار کے ساتھ وسائل ہوں، وسائل کے ساتھ ذمہ داری ہو اور ذمہ داری کے ساتھ واضح جواب دہی ہو۔ یہی نظمِ حکومت کی وہ مثلث ہے جس کے بغیر عدمِ مرکزیت بھی بے معنی اور مرکزیت بھی بوجھ بن جاتی ہے۔

اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو صرف نقشہ بدلنے کی مشق بنا دینا اصل مسئلے سے گریز کے مترادف ہے۔ نئے صوبے بنیں، انتظامی اکائیاں بڑھائی جائیں یا موجودہ صوبائی ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے، فیصلہ کسی سیاسی نعرے کے بجائے نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ سوال یہ نہیں کہ صوبہ کتنا بڑا ہے؛ سوال یہ ہے کہ ریاست شہری تک کتنی جلد، کتنی دیانت اور کتنی مؤثر صورت میں پہنچتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سیکریٹریٹ کتنے ہیں؛ سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو اپنے جائز کام کے لیے کتنے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔

قرآن ہمیں فساد فی الارض سے اجتناب اور امانت کی ادائیگی کا درس دیتا ہے۔ ریاست بھی ایک امانت ہے؛ اس کا اقتدار ملکیت نہیں، ذمہ داری ہے۔ اگر ایک بچے کا اسکول بہتر نہیں ہوتا، اگر ایک مریض کو بروقت علاج نہیں ملتا، اگر شہری کو صاف پانی میسر نہیں آتا، اگر گلی کا نکاسیِ آب کا مسئلہ برسوں حل نہیں ہوتا اور اگر ایک کاروباری شخص قانون کے مطابق کام کرنے کے باوجود سفارش کا محتاج رہتا ہے تو محض نئے صوبے، نئے دفاتر اور نئی حدبندیاں ریاستی اصلاح کا ثبوت نہیں بن سکتیں۔

پاکستان کو شاید ’’زیادہ ریاست‘‘ یا ’’کم ریاست‘‘ کی فرسودہ بحث سے آگے بڑھ کر ’’بہتر ساخت والی ریاست‘‘ کا تصور اختیار کرنا ہوگا؛ ایسی ریاست جو وسائل وصول کرتے وقت غیر شخصی اور مؤثر ہو، خدمات فراہم کرتے وقت مقامی اور جواب دہ ہو، قانون نافذ کرتے وقت یکساں ہو اور شہری کی آواز سنتے وقت اس سے دور نہ ہو۔ اصل اصلاح نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے نہیں، ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی ٹوٹی ہوئی کڑی جوڑنے سے ہوگی۔ کیونکہ ریاست کی کامیابی کا آخری پیمانہ اس کا نقشہ نہیں، شہری کی زندگی ہے۔ اگر نقشہ بدل جائے مگر زندگی نہ بدلے تو صرف جغرافیہ تبدیل ہوا ہے؛ نظام نہیں۔ اور اگر شہری کی زندگی بدل جائے تو ممکن ہے نقشہ وہی رہے، مگر ریاست کی روح واقعی بدل چکی ہو۔
واپس کریں