دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نئے صوبوں سے نیا پاکستان؟
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ریاست محض نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں، دارالحکومتوں اور انتظامی اکائیوں کا مجموعہ نہیں؛ ریاست دراصل شہری اور اقتدار کے درمیان قائم اس عہد کا نام ہے جس کی بنیاد عدل، امانت، مساوات، تحفظ اور احساسِ شراکت پر ہوتی ہے۔ جب یہ عہد کمزور پڑنے لگے، جب شہری کو اپنے ہی نظام میں اجنبیت اور بے بسی محسوس ہونے لگے، تو مسئلہ نقشے کی لکیروں سے کہیں زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ پاکستان آج اسی بنیادی سوال سے دوچار ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بل، تعلیم و صحت کی مشکلات اور سکڑتی ہوئی قوتِ خرید عام آدمی کی زندگی کو گھیرے ہوئے ہیں، دوسری طرف نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی تشکیلِ نو کی بحث نے سیاسی فضا میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ حالیہ ’ایپساس‘ (Ipsos) جائزوں میں ملکی سمت کے بارے میں نسبتاً بہتر احساس ضرور سامنے آیا ہے، مگر مہنگائی، روزگار اور معاشی بے یقینی اب بھی عوامی اضطراب کے بڑے اسباب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے وقت میں ریاست کی پہلی ترجیح کیا ہونی چاہیے: نیا نقشہ یا نئی حکمرانی؟

نئے صوبوں کا تصور اپنی ذات میں نہ غیر جمہوری ہے اور نہ ناقابلِ عمل۔ دنیا کی متعدد ریاستوں نے آبادی کے پھیلاؤ، جغرافیائی وسعت، انتظامی ضرورت اور بہتر نمائندگی کے لیے اپنی داخلی ساخت میں تبدیلیاں کی ہیں۔ پاکستان میں بھی جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور دیگر علاقوں کی انتظامی تشکیلِ نو کی آوازیں نئی نہیں۔ مگر صوبہ بنانا محض نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچ دینا نہیں؛ یہ وسائل، اختیارات، محصولات، پانی، ملازمتوں، اداروں، دارالحکومتوں اور سیاسی نمائندگی کی ازسرِنو تقسیم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ایک نئی اکائی کے ساتھ ایک نیا انتظامی بوجھ بھی پیدا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ سوال بھی کہ اس بوجھ کو اٹھانے کی معاشی استطاعت کہاں سے آئے گی۔

اس لیے قومی فیصلے جذبات کے جوش میں نہیں، تحقیق کے نور میں ہونے چاہئیں۔ آبادی کتنی ہے؟ معاشی بنیاد کیا ہے؟ انتظامی اخراجات کتنے ہوں گے؟ وسائل کہاں سے آئیں گے؟ مقامی آبادی کی حقیقی خواہش کیا ہے؟ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی توازن پر کیا اثر پڑے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں نظرانداز کرکے کی جانے والی اصلاح کہیں اصلاح کے بجائے ایک نئے انتشار کا دروازہ نہ کھول دے۔ ستمبر 2026 میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے 12 سے 15 نئے صوبوں یا متبادل طور پر 160 بااختیار ضلعی حکومتوں کی تجویز نے اس بحث کو ایک بار پھر قومی منظرنامے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ مگر اس تجویز کے پس پردہ اصل سوال صوبوں کی تعداد نہیں، حکمرانی کی کیفیت ہے۔

اگر موجودہ صوبائی اور بلدیاتی ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوں، اگر مالی وسائل چند مراکز میں مرتکز رہیں، اگر فیصلہ سازی عوام سے دور ہو اور اگر منتخب نمائندوں کے پاس حقیقی اختیار نہ ہو تو نئے صوبے بھی پرانے انتظامی کلچر کی نئی عمارتیں بن جائیں گے۔ نئے سیکریٹریٹ بن سکتے ہیں، نئے عہدے پیدا ہوسکتے ہیں، نئی فائلیں گردش کر سکتی ہیں، مگر اگر نظامِ فکر وہی رہا تو شہری کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کہاں سے آئے گی؟ قرآن کا اصول ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۔ قوموں کی حالت محض ظاہری تبدیلیوں سے نہیں بدلتی؛ تبدیلی کے لیے فکر، کردار، ادارہ اور طرزِ حکمرانی کا بدلنا ضروری ہے۔

سندھ میں نئے صوبوں کے تصور پر پیدا ہونے والی حساسیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صوبائی حدود صرف جغرافیہ نہیں ہوتیں۔ ان کے ساتھ تاریخ، تہذیب، زبان، شناخت، سیاسی نمائندگی اور وسائل کی تقسیم کے احساسات وابستہ ہوتے ہیں۔ یہی صورتِ حال ملک کی دوسری اکائیوں میں بھی مختلف درجات کے ساتھ موجود ہے۔ اس لیے اگر کبھی نئی انتظامی اکائیوں کی تشکیل ناگزیر قرار پائے تو اسے کسی سیاسی قوت کی فتح اور کسی صوبے کی شکست کے طور پر نہیں، بلکہ قومی اتفاقِ رائے کے ثمر کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ جو فیصلہ اعتماد کو مجروح کرکے کیا جائے، وہ انتظامی اصلاح سے زیادہ وفاقی بداعتمادی کو جنم دے سکتا ہے۔

آئینِ پاکستان نے بھی اس معاملے میں واضح راستہ متعین کر رکھا ہے۔ آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی اکثریت درکار ہے، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری لازم ہے۔ یہ محض قانونی تکلف نہیں بلکہ وفاقی نظام کے توازن اور صوبائی اعتماد کی آئینی ضمانت ہے۔ آئینی راستے کو نظرانداز کرکے کوئی سیاسی شارٹ کٹ اختیار کرنا وقتی طور پر آسان دکھائی دے سکتا ہے، مگر ریاستیں عارضی سیاسی سہولتوں سے نہیں، آئینی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔

اگر واقعی مقصد اقتدار کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے تو اس کا سب سے فوری راستہ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام ہے۔ کراچی کے شہری کو پانی، صفائی، نکاسیِ آب اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے لیے ہر مرتبہ صوبائی دارالحکومت کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملک کے دوسرے شہروں میں بھی شہری حکومتوں کو واضح اختیارات، مستقل مالی وسائل اور مؤثر احتساب حاصل ہونا چاہیے۔ اختیار جتنا عوام سے دور ہوگا، حکومت اتنی ہی بے چہرہ محسوس ہوگی؛ اختیار جتنا عوام کے قریب ہوگا، ریاست اتنی ہی قابلِ اعتماد بنے گی۔

آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی کا بحران نقشے کا بحران نہیں۔ غریب آدمی کے لیے نئی صوبائی سرحد سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آٹا مہنگا کیوں ہے، بجلی کا بل آمدن سے کیوں بڑھ گیا ہے، بچے معیاری تعلیم سے محروم کیوں ہیں اور بیمار کو بروقت علاج کیوں نہیں ملتا۔ نوجوان کے لیے نئی انتظامی اکائی سے زیادہ اہم باعزت روزگار ہے، کسان کے لیے نئی سرحد سے زیادہ اہم پانی، منڈی اور مناسب قیمت ہے۔ کسی خاندان کے معاشی اضطراب کو نقشے کی نئی لکیر تسکین نہیں دے سکتی۔

لہٰذا نئے صوبوں کی بحث کو نہ جذباتی طور پر مسترد کرنا چاہیے اور نہ اسے ہر مرض کا نسخہ سمجھنا چاہیے۔ اگر تحقیق، اعداد و شمار، انتظامی ضرورت اور عوامی مفاد کسی نئی ساخت کا تقاضا کریں تو اس پر کھلے ذہن سے غور ہونا چاہیے؛ مگر وسیع سیاسی مشاورت، قومی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے بغیر کوئی تبدیلی دیرپا استحکام نہیں لا سکتی۔ پاکستان کو اس وقت صرف نئے صوبے نہیں، نئی حکمرانی درکار ہے؛ صرف نئی سرحدیں نہیں، نیا ادارہ جاتی شعور درکار ہے؛ صرف اختیارات کی نئی تقسیم نہیں، عوام کے اعتماد کی تجدید درکار ہے۔ نقشے بدلنے سے ریاستیں عظیم نہیں بنتیں؛ ریاستیں اس وقت عظیم بنتی ہیں جب عدل ان کی روح، قانون ان کی بنیاد، ادارے ان کا بازو اور عوام ان کی ترجیح بن جائیں۔
واپس کریں