دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
27 اکتوبر: سیاہ ترین دن،بھارتی فوجی مداخلت اور نامکمل وعدے
نجیب الغفور خان
نجیب الغفور خان
تاریخ کے بعض واقعات وقت گزرنے کے ساتھ ماضی کا حصہ بننے کے بجائے مزید اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ 27 اکتوبر 1947ء بھی جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایسا ہی دن ہے، جب بھارتی افواج ریاست میں داخل ہوئیں اور ایک ایسا تنازع شروع ہوا جس نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں، خطے کے امن اور جنوبی ایشیا کے سیاسی حالات کو متاثر کیا۔ اس واقعے کو 79 برس گزر چکے ہیں، لیکن کشمیری عوام کے مستقبل کا سوال آج بھی حل طلب ہے۔ اسی پس منظر میں دنیا بھر میں کشمیری 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو یاد دلایا جا سکے کہ اس تنازع کا بنیادی تقاضا اب بھی پورا نہیں ہوا۔ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے تھا، لیکن 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوج کی آمد نے صورتِ حال کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا۔ کشمیری عوام کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ غیر قانونی تسلط سے نہیں بلکہ ان کی آزادانہ رائے سے کیا جا سکتا ہے۔اس تنازع کے ابتدائی دور میں بھارتی قیادت کی جانب سے بھی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں عوامی رائے کی اہمیت تسلیم کرنے کے بیانات سامنے آئے۔ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے مختلف مواقع پر یہ مؤقف ظاہر کیا کہ ریاست کے مستقبل کا تعین وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے حوالے سے بھی الحاق کے معاملے میں عوامی خواہشات کو ملحوظ رکھنے کی بات کی گئی۔ ان وعدوں اور بیانات نے کشمیر کے مستقبل کے سوال کو مزید اہمیت دی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کشمیری عوام کی رائے معلوم کرنے کا وعدہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت اس وقت حاصل ہوئی جب بھارت خود اسے اقوامِ متحدہ میں لے کر گیا۔ سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے تنازع کے حل کے لیے مختلف قراردادیں منظور کیں۔ 13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کی قراردادیں اس سلسلے میں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان میں جنگ بندی اور دیگر انتظامات کے ساتھ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے کرنے کے اصول کو شامل کیا گیا۔ ان قراردادوں نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر ایک ایسے تنازع کے طور پر نمایاں کیا جس کے حل میں کشمیری عوام کی رائے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ان قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونا آج بھی عالمی سفارت کاری کے سامنے ایک اہم سوال ہے۔ اگر بین الاقوامی ادارے تنازعات کے حل کے لیے اصول اور طریق? کار طے کریں، لیکن ان پر پیش رفت نہ ہو، تو متاثرہ عوام کے مسائل برقرار رہتے ہیں۔ کشمیر کے معاملے میں بھی یہی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے منتظر ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو محض تاریخی تنازع سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، بلکہ اس کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں کریں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بھی مسلسل توجہ کی متقاضی ہے۔ مختلف ادوار میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، آزادیِ اظہار پر پابندیوں اور صحافیوں کو درپیش مشکلات سے متعلق رپورٹس اور شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان حالات کے اثرات عام شہریوں، نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور متاثرہ خاندانوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، ذمہ دار افراد کا احتساب اور شہریوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ مقبوضہ علاقے کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے اصولوں کے مطابق مؤثر کردار ادا کریں۔5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق دفعات کو غیر مؤثر کرنے اور ریاست کو دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کرنے کے اقدامات کیے۔ ان فیصلوں نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ پاکستان اور کشمیری قیادت نے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے منافی قرار دیا۔ اس کے بعد زمینوں کے حقوق، علاقے کی شناخت، آبادیاتی تناسب اور سیاسی اختیار سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ان کے سیاسی مستقبل کے سوال کو سنجیدگی سے لیا جائے۔یومِ سیاہ کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی اجتماعات، ریلیاں، سیمینارز اور آگاہی مہمات منعقد کی جاتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، انسانی حقوق کی صورتِ حال اور کشمیری عوام کے مطالبات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان میں بھی سیاسی و سماجی تنظیمیں، طلبہ، وکلا، صحافی اور سول سوسائٹی کے نمائندگان ان سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان اجتماعات کا مقصد عالمی رائے عامہ کو متوجہ کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کو نظرانداز کرکے ممکن نہیں۔ جموں و کشمیر لبریشن سیل نے بھی یومِ سیاہ کے موقع پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام کیا ہے۔ مظفرآباد میں احتجاجی ریلی اور جلسے کے ذریعے بھارتی فوجی مداخلت کے خلاف احتجاج اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے، جبکہ اسلام آباد میں بھی اس دن کی مناسبت سے مختلف پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ جموں و کشمیر لبریشن سیل، کشمیر سنٹر راولپنڈی کے زیرِ اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سیمینار اور دستخطی مہم کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے، جس کا مقصد میڈیا، سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کی توجہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، انسانی حقوق کی صورتِ حال اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جانب مبذول کرانا ہے۔ لبریشن سیل کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ اور کشمیر سنٹرز کے ذریعے بھی مختلف شہروں میں آگاہی سرگرمیاں جاری ہیں، تاکہ مستند معلومات اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر اجاگر کیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور عوام بھی مقبوضہ علاقے کے باشندوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ تاہم، مسئلے کے پائیدار حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو مذاکرات، سفارت کاری، انسانی حقوق کے تحفظ اور کشمیری عوام کی رائے کو اہمیت دینے کی راہ ہموار کریں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اپنے اصولی مؤقف اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا کے امن و استحکام سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی خطے کی معاشی ترقی، عوامی فلاح اور باہمی تعاون کے امکانات کو متاثر کرتی ہے۔ کسی بڑے فوجی تصادم کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تنازعات کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ تاہم، مسئلہ کشمیر پر پائیدار پیش رفت اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے معاملے میں بنیادی فریق تسلیم کیا جائے اور ان کی آزادانہ رائے کو اہمیت دی جائے۔27 اکتوبر کا دن صرف ماضی کے ایک واقعے کی یاد نہیں، بلکہ عالمی اداروں اور طاقتور ممالک کے لیے ایک سوال بھی ہے کہ کشمیری عوام کے مستقبل سے متعلق وعدوں پر عملی پیش رفت کب ہوگی؟ 79 برس کی تاریخ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے تنازعات کو مستقل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دیرپا امن کے لیے انصاف، حقوق کا تحفظ اور عوامی خواہشات کا احترام ناگزیر ہے۔آج یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کے مستقبل کو عالمی سفارت کاری کے غیر معینہ انتظار میں نہ چھوڑا جائے۔ اقوامِ متحدہ اپنی متعلقہ قراردادوں اور عالمی برادری انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق مؤثر کردار ادا کرے، تاکہ اس دیرینہ تنازع کے حل کی جانب حقیقی پیش رفت ممکن ہو۔ کشمیر میں امن کی راہ اسی وقت ہموار ہوگی جب وہاں کے عوام کو خوف، جبر اور غیر یقینی سے نکل کر اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا۔ یہی وہ بنیادی تقاضا ہے جسے نظرانداز کرکے نہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس تاریخی تنازع کا منصفانہ حل ممکن ہے۔
واپس کریں