دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی تنازعات اور معاشی چیلنجز
No image وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی تنازعات کے اثرات کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ وزیر خزانہ کے خدشات عالمی حالات کے معاشی اثرات سے خبردار کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ صورتحال زیادہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ توانائی کے ایک بڑے حصے اور صنعتی خام مال کیلئے درآمدات پر انحصار ہے اور علاقائی کشیدگی‘ بے یقینی اور بحری گزرگاہوں کی بندش عالمی منڈیوں میں قیمتوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ وزیر خزانہ کا یہ کہنا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود پاکستان میں معاشی بہتری کا سفر جاری ہے‘ اپنی جگہ اہم ہے لیکن معاشی استحکام کی کامیابی کو اسی وقت تسلیم کیا جا سکتا ہے جب اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ معاشی اشاریوں میں بہتری‘ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ‘ مالیاتی نظم وضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے دعوے خوش آئند ہیں مگر عوام کیلئے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس پیشرفت سے ان کی روزمرہ زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔اگر بجلی‘ گیس‘ پٹرول‘ آٹا‘ چینی‘ گھی‘ ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں مسلسل بڑھتی چلی جائیں تو معاشی بہتری کا احساس محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ عالمی تنازعات کئی طرح سے مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں مگر صرف اسی صورتحال کو مہنگائی کی واحد وجہ قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ معاشی پالیسیوں‘ ٹیکسوں کے نظام‘ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اور منڈیوں میں کارٹلائزیشن کا بھی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے؛ چنانچہ صرف بیرونی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے حکومت کو اندرونی مسائل پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ اگر عالمی منڈی میں کسی شے کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے لیکن جہاں قیمتوں میں بلاجواز اضافہ یا مصنوعی قلت پیدا کی جائے وہاں مؤثر نگرانی اور قانون پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ توانائی کیلئے ہمارا کلیدی انحصار درآمدی وسائل پر ہے تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے اس انتخاب کی حساسیت کو واضح کر دیا ہے۔ اگرچہ اس سال بھر میں ملک میں پٹرول‘ ڈیزل کا بحران پیدا نہیں ہوا‘ کہیں بھی صارفین کو اس کیلئے لائنوں میں نہیں لگنا پڑا اور نہ ہی پٹرول‘ ڈیزل کی راشننگ کی نوبت آئی‘ تاہم عالمی اثرات نے درآمدی وسائل کی قیمتوں اور مہنگائی میں جو اضافہ کیا‘ وہ اپنی جگہ موجود ہے۔ان حالات سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ توانائی کی ضروریات میں ملکی وسائل اور ماحول دوست ری نیو ایبل انرجی کا حصہ بڑھایا جائے۔ یہی حکمت عملی خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی پیداوار میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ‘ قابلِ تجدید توانائی کا فروغ‘ صنعتی پیداواری صلاحیت میں بہتری اور برآمدات میں اضافہ ایسے اقدامات ہیں جو پاکستان کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے محفوظ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ عالمی بحرانوں کا بوجھ کم آمدنی والے طبقات پر غیر متناسب انداز میں نہ پڑے۔ مہنگائی کے دباؤ میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور‘ محدود تنخواہوںوالے ملازمین‘ چھوٹے کاروباری افراد اور بیروزگار سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان طبقات کیلئے مالی معاونت حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت کی پٹرول سبسڈی سکیم نے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے جس سے‘ بقول وزیر پٹرولیم‘ نوے لاکھ سے زائد افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
عالمی تنازعات اور ان کے اثرات ہمارے اختیار میں نہیں لیکن ان سے نمٹنے کی تیاری‘ وسائل کا مؤثر استعمال اور بروقت فیصلے حکومت کی ذمہ داری ہیں۔وزیر خزانہ کا مہنگائی کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرنا ایک اہم تنبیہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تنبیہ کو مؤثر معاشی حکمت عملی میں تبدیل کیا جائے تاکہ عالمی بحران کے اثرات کم سے کم ہوں۔ بشکریہ دنیا نیوز
واپس کریں