دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
فنکاروں کو گزشتہ 13 سال میں نظر انداز کیا گیا، گورنر راج میں ان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، سعیدہ خان
No image پشاور (نیوز ڈیسک) آل آرٹسٹ ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی صدر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کلچر ونگ کی صوبائی صدر سعیدہ خان نے عالمی یومِ فنکار کے موقع پر کہا ہے کہ فنکار کسی بھی معاشرے کا ثقافتی سرمایہ اور قومی شناخت کا اہم حصہ ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں فنکار برادری طویل عرصے سے معاشی مشکلات، بے روزگاری اور حکومتی عدم توجہی کا سامنا کر رہی ہے۔
اپنے بیان میں سعیدہ خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومتوں نے فنکاروں کے مسائل کو مناسب اہمیت نہیں دی، جس کے باعث فنکار برادری کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ بہت سے سینئر فنکار بیماری، مالی تنگ دستی اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کے باعث پریشان ہیں، جبکہ نئے فنکاروں کے لیے بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور فن کو بطور پیشہ اپنانے کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فنونِ لطیفہ کسی بھی معاشرے کی تہذیبی شناخت، تاریخی ورثے اور زبان و ثقافت کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی پشتو موسیقی، ڈرامہ، تھیٹر اور دیگر فنون نے صوبے کی ثقافت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا ہے، لیکن ان شعبوں سے وابستہ افراد کی معاشی اور سماجی مشکلات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
سعیدہ خان نے کہا کہ موجودہ گورنر راج میں فنکار برادری کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جانی چاہیے۔ گورنر اور متعلقہ حکام فنکاروں کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے نمائندہ اجلاس بلائیں، مستحق اور بیمار فنکاروں کے لیے ماہانہ مالی امداد مقرر کریں، ہیلتھ کارڈ اور علاج معالجے کی سہولت فراہم کریں اور فنکاروں کو روزگار دینے کے لیے ثقافتی سرگرمیوں، تھیٹر، موسیقی اور ڈرامہ پروڈکشن کی بحالی کے عملی اقدامات کریں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فنکاروں کی فلاح کے لیے مختص وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے اور آل آرٹسٹ ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا، جو ایک منتخب فنکار تنظیم ہے کے مشاورت سے ایک جامع پالیسی تشکیل دی جائے، تاکہ امداد حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے اور نوجوان فنکاروں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں۔
سعیدہ خان نے کہا کہ فنکاروں کی عزت، معاشی تحفظ اور فنی سرگرمیوں کی بحالی محض حکومتی احسان نہیں بلکہ ثقافت کے تحفظ اور قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ عالمی یومِ فنکار کا حقیقی پیغام اسی وقت پورا ہو گا جب فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ان کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔
واپس کریں