حالات کی مہربانی کے طفیل ہم فارغ البال تو نہ ہو سکے لیکن فارغ الروزگار ضرور ہو چکے ہیں۔ فراغت اور ہاضمے کی خرابی میں شیطانی خیالات ہی آئیں گے، کوئی روحانی تجربات تھوڑے ہوں گے۔ اچانک دھیان زبان، الفاظ، حروفِ تہجی اور لسانی نزاکتوں کی طرف چلا گیا۔ پہلی بار عجیب سا احساس ہوا کہ گویا یہ پاکستان اور پاکستانیوں کا دوسرا جنم ہے۔ یہ ملک اور زندگی پرانے زمانے کے ٹیپ ریکارڈر کی کیسٹ ہے اور 14 اگست 1947 کو قائداعظم محمد علی جناح نے اسے ریوائنڈ کیا ہے۔ یا ہم مر چکے ہیں، قیامت گزر چکی ہے اور ہم بحیثیتِ ہجوم جہنم کے ڈی کلاس میں سزا بھگت رہے ہیں اور گزرے ہوئے حالات کو جہنم میں بھی آنکھ مچولی کی طرح ’’پاکستان پاکستان‘‘ کھیل رہے ہیں۔ اس خیال سے وحشت ہوئی اور فوراً سے پیشتر ادبیات کی طرف متوجہ ہوا۔ بعض الفاظ کے آخری حصے عجیب سے لگے۔ عجیب اس لیے کہ اس میں بعض بہت واضح صوتی اشارے تھے جو بعینہٖ ہمارے حالات پر منطبق ہوتے ہیں۔ پہلے ان آخری الفاظی حصوں کو بریکٹس میں بند کرتے ہیں، جو (ٹر) اور (نر) ہیں، اور پھر شمسی توانائی کے سہارے اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔
آئینے شروعات سبزیوں سے کرتے ہیں اور صرف دو سبزیوں ’’مٹر‘‘ اور ’’ٹماٹر‘‘ کو لیتے ہیں۔ دونوں کے آخر میں ’’ٹر‘‘ آتا ہے۔ اس ’’ٹر‘‘ کی تفصیلات آپ طبِ یونانی میں تلاش کر سکتے ہیں۔ اگر مشینری پر غور کیا جائے اور صرف دو الفاظ ’’موٹر‘‘ اور ’’ٹریکٹر‘‘ منتخب کیے جائیں تو کیا حسنِ اتفاق ہے کہ دونوں کا آخری حصہ ’’ٹر‘‘ بنتا ہے۔ اب اس ’’ٹر‘‘ کو جناب میاں شہباز شریف صاحب، وزیرِاعظم پاکستان کے روزانہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ملا کر دیکھئے تو آپ کو ’’معاشی ٹر‘‘ کی سمجھ آ جائے گی۔ بہت غور و خوض کے بعد میں نے لفظ انسپکٹر اور ڈاکٹر کے ’’ٹر‘‘ پر خاموشی اختیار کی کہ پشتون شیخ فرید کے مطابق خاموشی بہترین عمل ہے۔
لغت پر گرفت کی سبب میں ’’ٹر‘‘ اور ’’نر‘‘ پر سیر حاصل گفتگو کر سکتا ہوں، لیکن طوالت کے پیشِ نظر اسے سیاست کی طرف موڑ کر اختتام کرتے ہیں۔ سیاست اور حکومت چاہے جمہوری ہو، فارمی ہو، عسکری ہو یا حقیقی ہو، مینڈکوں کو تولنے یا پرانے آرگینک کچالو کھانے کے مانند ہوتا ہے۔ جو بھی حکومت ہو، لیکن اس میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہوتی ہے۔ اشرافیہ بدہضمی کے شکار ہوتے ہیں اور عوام فاقہ مستی کے تجربات حاصل کرتے ہیں، مگر تجربات کے باوجود بھی سیکھتے نہیں بلکہ خود اور ملک کو لیبارٹری بناتے ہیں۔ ہر حکومت ’’چیف منسٹر‘‘ سے شروع ہوتی ہے اور ’’گورنر‘‘ راج کی راج کماری پر ختم ہوتی ہے۔ اب یہ راز اللہ جانے یا لقمان حکیم اس بارے کچھ بتا سکیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ ’’چیف منسٹر‘‘ کے آخر میں ’’ٹر‘‘ اور ’’گورنر‘‘ کے آخر میں ’’نر‘‘ آتا ہے۔
نوٹ: سیاسی یا حالاتی مماثلت کسی خاص واقعے، حالات، تبدیلی، راج اور ’’ٹر‘‘ سے ’’نر‘‘ تک محض اتفاقیہ ہوگی، جس کے لیے ادارہ ذمہ دار نہیں، بالکل اس طرح جیسے پی ٹی آئی کی تباہی کے لیے پی ٹی آئی ذمہ دار نہیں۔
دھنے واد
واپس کریں