دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا طاقتور ریاست واقعی اصلاحِ احوال چاہتی ہے؟ خالد خان
No image پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کے مسائل کی سنگینی کے ساتھ امکانات کی وسعت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی، معاشی مشکلات، غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، بدعنوانی، ناانصافی اور ادارہ جاتی کمزوریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان مسائل نے ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو متاثر کیا ہے، لیکن ان کا وجود اس حقیقت کو ختم نہیں کرتا کہ پاکستان کے پاس وسائل، صلاحیتیں، جغرافیائی اہمیت اور انسانی سرمایہ موجود ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان صلاحیتوں کو قومی ترقی کے لیے کس طرح بروئے کار لایا جائے۔
پاکستان کی ریاست کمزور نہیں۔ اس کے پاس منظم مسلح افواج، جوہری دفاعی صلاحیت، وسیع انتظامی ڈھانچہ اور بڑے فیصلے نافذ کرنے کی قوت موجود ہے۔ اس کے باوجود بنیادی عوامی مسائل کا برقرار رہنا ایک سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ریاستی طاقت کو ہمیشہ درست ترجیحات کے مطابق استعمال کیا گیا؟ کیا ماضی میں اصلاحات کے نام پر کیے گئے اقدامات نے ایسے ادارے اور نظام تشکیل دیے جو افراد اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اپنا کام جاری رکھ سکیں؟
پاکستان میں مختلف ادوار کے حکمرانوں نے نظام کی اصلاح، بدعنوانی کے خاتمے، انتظامی بہتری اور قومی ترقی کے وعدے کیے۔ بعض شعبوں میں پیش رفت بھی ہوئی، لیکن بہت سی اصلاحات پائیدار ثابت نہ ہو سکیں۔ اس ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیا مسئلہ نیت کا تھا، اہلیت کا، ناقص منصوبہ بندی کا، غلط مشاورت کا یا ایسے نظام کا جو اصلاحات کو مستقل ادارہ جاتی شکل اختیار کرنے نہیں دیتا؟ ان امکانات کو شواہد کی بنیاد پر الگ الگ سمجھنا ہوگا۔ ہر ناکامی کو بددیانتی قرار دینا بھی درست نہیں اور ہر ناکامی کو محض نااہلی کہہ کر ذمہ داری سے بچ نکلنا بھی قابلِ قبول نہیں۔
آج پاکستان کے لیے ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات کو اصلاحات کے ایک سنجیدہ موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ ملک کو درپیش سلامتی کے خطرات، معاشی دباؤ اور سیاسی بے یقینی فوری توجہ چاہتے ہیں۔ اس وقت عالمی طاقت کا بدلتا توازن، علاقائی تجارت کے امکانات اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن مواقع خودبخود کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتے۔ ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے اندرونی استحکام، قانون کی حکمرانی، معاشی پیش بینی، مؤثر انتظامیہ اور عوامی اعتماد ناگزیر ہیں۔
اگر ریاست واقعی بنیادی تبدیلی چاہتی ہے تو اسے صرف احکامات جاری کرنے یا انتظامی ڈھانچے میں ردوبدل کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فیصلے کون کر رہا ہے، ان فیصلوں کی بنیاد کیا ہے، متعلقہ شعبے کے ماہرین سے کس حد تک مشاورت کی جاتی ہے اور نتائج کی ذمہ داری کون قبول کرتا ہے۔ تعلیم، صحت، معیشت، صنعت، زراعت، توانائی، ماحولیات اور انتظامی اصلاحات ہر ایک مخصوص علم اور تجربے کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایک ہی طرز کی عمومی انتظامی سوچ سے ان تمام شعبوں کے پیچیدہ مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔
پاکستان میں قابل افراد کی کمی نہیں۔ جامعات، تحقیقی اداروں، پیشہ ورانہ شعبوں اور سماجی زندگی میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے برسوں کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد سیاسی وابستگی، ذاتی تعلقات، مالی وسائل یا فیصلہ ساز حلقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث قومی سطح پر اپنا کردار ادا نہیں کر پاتے۔ ریٹائرڈ اساتذہ، محققین، ماہرینِ معیشت، صحت عامہ کے پیشہ ور افراد، انجینئرز، سماجی سائنس دانوں اور تجربہ کار منتظمین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک شفاف اور مؤثر طریقۂ کار تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
ضرورت صرف یہ نہیں کہ چند معروف نام کسی مشاورتی کونسل میں شامل کر دیے جائیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر شعبے کے لیے واضح اہداف مقرر ہوں، متعلقہ مہارت کی بنیاد پر افراد منتخب کیے جائیں، مفادات کے ٹکراؤ سے بچا جائے، وسائل اور اختیارات کی حدود واضح ہوں اور کارکردگی کو قابلِ پیمائش نتائج کے ذریعے جانچا جائے۔ ماہرین کو محض مشورہ دینے کے لیے بلانا کافی نہیں؛ ان کی تجاویز پر غور، فیصلوں کی وجوہات کی وضاحت اور نتائج کی جانچ کا نظام بھی ہونا چاہیے۔
اسی طرح اصلاحات کو صرف ریاستی اداروں کا اندرونی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ قوم کی ذہنی اور اخلاقی تیاری بھی ضروری ہے۔ عوام کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ملک کے مسائل کی نوعیت کیا ہے، ان کے حل کے لیے کن ترجیحات پر عمل ہوگا، شہریوں سے کیا توقعات وابستہ ہیں اور ریاست خود کن ذمہ داریوں کو پورا کرے گی۔ لیکن عوامی شعور بیدار کرنے کا مطلب یک طرفہ سرکاری تشہیر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک دوطرفہ عمل ہونا چاہیے جس میں ریاست اپنی ترجیحات واضح کرے اور شہریوں کی شکایات، تجاویز اور جائز اختلاف کو بھی جگہ ملے۔
عوام سے قانون کی پابندی، ٹیکسوں کی ادائیگی، قومی ذمہ داری اور اجتماعی قربانی کا مطالبہ اس وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب ریاست بھی اپنے طرزِ عمل سے مثال قائم کرے۔ قانون کا نفاذ بلاامتیاز ہو، سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت ہو، بدعنوانی کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں اور طاقت ور افراد بھی جواب دہ ہوں۔ سیاسی اختلاف، پُرامن احتجاج، بنیادی حقوق اور قانونی عمل کا احترام اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد ریاست کی بنیاد ہیں۔
پاکستان کو ماضی کی غلطیوں کا جائزہ ضرور لینا چاہیے، لیکن ماضی کی ناکامیوں کو مستقبل کی ناامیدی کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔ اگر سابقہ کوششیں پائیدار نتائج نہ دے سکیں تو ان کے تجربات سے سیکھ کر طریقۂ کار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر کسی ادارے میں صلاحیت موجود ہے مگر نتائج نہیں مل رہے تو وسائل، ترجیحات، قیادت اور جواب دہی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر اہل افراد دستیاب ہیں مگر نظام تک ان کی رسائی نہیں تو انتخاب اور مشاورت کے طریقوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا اصلاحات کے لیے کوئی ایسا قومی طریقۂ کار تشکیل نہیں دیا جا سکتا جس میں فوری مسائل کے حل کے ساتھ طویل مدتی ادارہ جاتی تبدیلیوں کو بھی جگہ ملے؟ ابتدائی مرحلے میں تعلیم، صحت، امن و امان، مالی نظم و ضبط، سرکاری خدمات اور بدعنوانی کے انسداد کے لیے واضح اہداف مقرر کیے جائیں۔ ہر شعبے میں موجودہ صورتِ حال کی بنیاد پر پیمانے طے ہوں، پیش رفت باقاعدگی سے شائع کی جائے اور ناکامی کی صورت میں وجوہات سامنے لائی جائیں۔ اس طرح اصلاحات شخصیات کے وعدوں کے بجائے قابلِ جانچ کارکردگی سے وابستہ ہو سکیں گی۔
پاکستان کو ایک ایسے قومی ماحول کی ضرورت ہے جس میں اہل لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، تنقید کو اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے اور ریاستی وفاداری کا مطلب خاموشی اختیار کرنا نہ ہو۔ ملک سے محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے اداروں کو بہتر بنانے کے لیے دیانت دارانہ سوالات اٹھائے جائیں اور قابلِ عمل حل پیش کیے جائیں۔
معاشروں کی بہتری صرف حکمرانوں کی خواہش یا عوام کی امید سے ممکن نہیں ہوتی؛ اس کے لیے علم، دیانت، اجتماعی کوشش اور مسلسل احتساب درکار ہوتا ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ باصلاحیت لوگوں کو تلاش کرے اور انہیں قومی خدمت کے مواقع فراہم کرے، جبکہ شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تنقید اور تجاویز کو حقائق، دلیل اور قومی مفاد سے وابستہ رکھیں۔
آج ضرورت مایوسی اور خوش فہمی کے درمیان کسی مصنوعی راستے کی نہیں، بلکہ حقیقت پسندانہ امید کی ہے۔ ہمیں مسائل کی شدت سے آنکھیں نہیں چرانیں، لیکن اپنی موجود صلاحیتوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کے پاس وسائل ہیں، تجربہ ہے، جغرافیائی اہمیت ہے اور قابل افراد کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سب کو ایک واضح قومی سمت، مؤثر ادارہ جاتی نظام اور قانون کی حکمرانی کے تحت یکجا کیا جائے۔
ریاست اگر اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے اہل لوگوں کی تلاش، درست مشاورت، شفاف انتخاب، عوامی اعتماد اور قابلِ پیمائش نتائج کو اپنی ترجیحات بنانا ہوگا۔ قوم کو بھی ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے مستقبل کی تعمیر میں حصہ لینا ہوگا۔
گلاس آدھا خالی نہیں، آدھا بھرا ہوا ہے۔ لیکن باقی آدھا صرف امید سے نہیں بھرے گا۔ اس کے لیے درست فیصلے، اہل افراد، مضبوط ادارے اور مسلسل محنت درکار ہے۔ پاکستان کے پاس آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے؛ اب اصل امتحان اس صلاحیت کو قومی بہتری میں تبدیل کرنے کا ہے۔
واپس کریں