دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران پر حملے کے قوی امکانات ہیں۔ عالمی میڈیا
No image احتشام الحق شامی:عالمی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق، 23 اکتوبر 2026 تک ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے نئے حملوں کا خطرہ موجود ہے، لیکن نئے حملے کی حتمی منظوری یا اس کے آغاز کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اہم پیش رفت یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ ایرانی حکام کسی نئے حملے کی صورت میں زیادہ سخت جوابی کارروائی کی تیاری کا عندیہ دے رہے ہیں۔رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک جلسے کے دوران کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے نہ حملے کی تاریخ بتائی، نہ اہداف واضح کیے۔ اس سے پہلے وہ کہہ چکے تھے کہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملہ نہیں کیا جائے گا۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے انتخابات کے بعد ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں جن میں ایٹمی تنصیبات، میزائلوں، ڈرونز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ اہداف بتایا گیا ہے۔
رائٹرز نے دو سینئر ایرانی سکیورٹی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبے تیار کیے ہیں، اگر امریکہ اور اسرائیل دوبارہ حملہ کریں۔ ایرانی حکام نے فوجی اڈوں اور امریکی مفادات سے منسلک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی ممکنہ اہداف کے طور پر پیش کیا ہے۔
جنگی ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے ایسے خطرات کا مقصد امریکہ کو نئے حملوں سے باز رکھنا اور خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنا بھی ہو سکتا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا خیال ہے کہ واشنگٹن دوبارہ بمباری کر سکتا ہے، اس لیے تہران فوری معاہدے کے بجائے مذاکرات کو جاری رکھنے پر آمادہ ہے۔ دونوں جانب اختلافات میں ایران کا جوہری پروگرام، امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہیں۔
گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکا جلد ہی ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کےبعد ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ بنالیا ہے، دونوں ممالک کی افواج ممکنہ حملوں کی مشقیں بھی تیز کرچکی ہیں، ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائل اور ڈرونز ذخائرشامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم نے ایران کو بری طرح نشانہ بنایا ہے اور ممکن ہے کہ ہم مزید کچھ کارروائی بھی کریں۔
گویاایران پرحملے کا خطرہ موجود ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کے تازہ بیان اور فوجی منصوبہ بندی کی اطلاعات اس خطرے کو سنجیدہ بناتی ہیں۔
3 نومبر اہم تاریخ ہے، امریکی انتخابات سے پہلے حملہ نہ کرنے کا ٹرمپ کا بیان موجود ہے لیکن بعد از انتخابات کارروائی کے منصوبوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
دستیاب رپورٹس میں حملے کی مصدقہ تاریخ، ٹرمپ کی حتمی منظوری یا کسی نئے امریکی اسرائیلی حملے کے آغاز کی تصدیق نہیں ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے، اور انتخابات کے بعد کا وقت خاص توجہ کا مرکز ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ حملہ لازماً 3 نومبر کے بعد ہوگا، موجودہ شواہد سے آگے بڑھ کر نتیجہ اخذ کرنا ہوگا۔
واپس کریں