جائزہ: مکہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ اور قومی مفادات ۔ خالد خان

کسی بھی دفاعی معاہدے کا جائزہ لیتے وقت اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس پر دستخط کرنے والے ممالک کتنے طاقتور ہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس معاہدے سے ملک کے اپنے قومی مفادات کس حد تک محفوظ ہوتے ہیں، اس کی سلامتی کو کیا فائدہ پہنچتا ہے اور اس کے بدلے اسے کن خطرات اور ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے مکہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کا جائزہ بھی اسی اصول کے تحت لیا جانا چاہیے، کیونکہ قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں کے اثرات صرف حکمرانوں یا ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
پاکستان اس وقت پہلے ہی کئی داخلی اور خارجی چیلنجوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان میں مسلح شورش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی کارروائیاں ہیں، تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات، بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازع اور کمزور معیشت قومی سلامتی کے لیے مستقل آزمائش بنے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی نئے دفاعی بندوبست کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا وہ پاکستان کے موجودہ خطرات کم کرے گا یا اسے ایسے تنازعات میں بھی شریک ہونے کی ذمہ داری سے دوچار کر سکتا ہے جن کا براہ راست تعلق اس کی اپنی سرزمین اور سلامتی سے نہیں۔
دفاعی معاہدوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ دوست ممالک کے درمیان تعاون، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کسی بھی ریاست کے جائز مقاصد ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہر معاہدے کی افادیت اس کی شرائط، دائرۂ کار، عملی ذمہ داریوں اور ممکنہ نتائج سے متعین ہوتی ہے۔ محض دوستی، مذہبی قربت یا مشترکہ مفادات کے عمومی دعوے کسی معاہدے کو قومی مفاد کے مطابق ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔
مکہ معاہدے پر 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دستخط کیے۔ اس کے سولہ آرٹیکلز ہیں اور اس کا بنیادی تصور اجتماعی دفاع ہے۔ معاہدے کے آرٹیکل 2 کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور دوسرے ممالک اپنی دستیاب صلاحیتوں اور وسائل کے مطابق اس کی مدد کریں گے۔ یہ شق بظاہر تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی قوت کو مضبوط بناتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کن حالات میں، کس نوعیت کی مدد فراہم کرنے کا پابند ہوگا اور اس مدد کی حدود کیا ہوں گی؟
معاہدے کے حامیوں کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ مشترکہ دفاع کا اعلان کسی ممکنہ حملہ آور کو کارروائی سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کرے گا۔ پاکستان کو ترکیہ کی دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور عسکری تجربے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاشی اور تزویراتی امکانات بھی موجود ہیں۔ لیکن یہ ممکنہ فوائد اسی وقت قومی مفاد میں تبدیل ہوں گے جب ان کی شرائط، مالی پہلوؤں، عملی صورتوں اور پاکستان کو ملنے والی ضمانتوں کی وضاحت ہو۔ محض امکانات کو حاصل شدہ فوائد سمجھ لینا درست نہیں ہوگا۔
اس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس تقرری کے تحت پاکستانی نمائندے کو اتحاد کے ادارہ جاتی امور، رابطہ کاری اور دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ملنے کی توقع ہے۔ یہ پاکستان کے لیے سفارتی اہمیت کا حامل موقع ہے، لیکن اس عہدے کی حقیقی افادیت کا تعین اس کے اختیارات، فیصلہ سازی میں کردار اور پاکستان کے قومی مفادات کے لیے حاصل ہونے والے عملی نتائج سے ہوگا۔ محض کسی عہدے پر پاکستانی شہری کی تقرری کو کامیابی قرار دینے کے بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور علاقائی سلامتی کو کیا قابلِ پیمائش فائدہ پہنچتا ہے۔
اس معاہدے کا ایک اہم پہلو اس کا جغرافیائی اور تزویراتی پس منظر ہے۔ سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے اور اکتوبر میں معاہدے کے تحت دفاعی تعاون اور فوری عسکری صلاحیتوں کی تعیناتی کے اقدامات پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا اس کی دفاعی ذمہ داری صرف کسی واضح بیرونی مسلح حملے کے جواب تک محدود رہے گی یا وقت کے ساتھ اس کا دائرہ سعودی عرب کے وسیع تر علاقائی تنازعات تک بھی پھیل سکتا ہے؟
یہاں ایران کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور علاقائی استحکام کے معاملات براہ راست پاکستان کے اپنے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی کشیدگی، علاقائی رقابت اور یمن کا تنازع موجود ہے۔ اگر پاکستان کا دفاعی تعاون کسی ایسی صورت حال میں اسے سعودی عرب کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے جس میں ایران براہ راست یا بالواسطہ فریق بن جائے، تو پاکستان کے لیے اس کے نتائج محض سفارتی اختلاف تک محدود نہیں رہیں گے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ معاہدے کے متن میں ایران کو دشمن قرار دیا گیا ہے یا اس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم قومی مفادات کا جائزہ صرف تحریری الفاظ تک محدود نہیں رہ سکتا؛ ممکنہ حالات اور ان کے نتائج کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ کسی دفاعی معاہدے کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب رکن ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہونے لگیں یا ان میں سے کسی ایک کا علاقائی تنازع دوسرے ممالک کی سلامتی کو متاثر کرنے لگے۔
پاکستان کی داخلی صورت حال اس خطرے کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ ملک میں ایک بڑی شیعہ آبادی موجود ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی اپنی تاریخ ہے۔ اگر پاکستان کسی ایسے علاقائی تنازع میں ملوث ہوتا ہے جسے یہاں فرقہ وارانہ زاویے سے دیکھا جائے، تو اس کے داخلی امن، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور ملک کے اندرونی استحکام کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔
اس معاہدے کا ایک اور بنیادی پہلو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کا تحفظ ہے۔ آرٹیکل 1 میں تینوں ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تسلیم شدہ سرحدوں کے تحفظ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس شق کی اہمیت یہ ہے کہ یہ رکن ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو درپیش خطرات کے مقابلے میں تعاون کا اصول بیان کرتی ہے۔ تاہم اس کی عملی تشریح کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ معاہدے کے تحت کس نوعیت کے خطرے پر کیا ذمہ داری عائد ہوگی اور اس کا اجتماعی دفاع سے متعلق آرٹیکل 2 کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
پاکستان کے لیے اس شق کی اہمیت کشمیر اور ڈیورنڈ لائن کے تناظر میں بھی زیرِ بحث آنی چاہیے۔ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، جبکہ ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ معاہدے میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تحفظ کا ذکر پاکستان کو کشمیر یا ڈیورنڈ لائن کے معاملات میں خودکار یا غیر مشروط فوجی مدد کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے لیے معاہدے کی متعلقہ شقوں اور فریقین کی باقاعدہ تشریحات کو سامنے رکھنا ہوگا۔ دوسری طرف یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر پاکستان کی تسلیم شدہ سرحدوں یا علاقائی سالمیت کو بیرونی خطرہ لاحق ہو تو سعودی عرب اور ترکیہ کس نوعیت کی مدد فراہم کرنے کے پابند ہوں گے؟ اس بارے میں واضح سرکاری تشریح ضروری ہے تاکہ معاہدے کی حقیقی ضمانتوں اور اس سے وابستہ توقعات میں فرق کیا جا سکے۔
دوسری طرف پاکستان کو بھارت کے ساتھ اپنی سلامتی کے مسائل اور افغانستان کی جانب سے پیدا ہونے والے سرحدی و دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مکہ معاہدہ ان خطرات کے مقابلے میں پاکستان کو کون سی نئی اور قابلِ عمل ضمانت فراہم کرتا ہے؟ کیا ترکیہ اور سعودی عرب پاکستان کے ان مخصوص مسائل میں ایسی مدد دینے کے پابند ہوں گے جو ان کی اپنی سلامتی اور علاقائی ترجیحات سے بھی آگے جاتی ہو؟ اور اگر پاکستان کو مستقبل میں کسی ایسے تنازع کا سامنا ہو جس میں دوسرے دونوں ممالک براہ راست ملوث نہ ہونا چاہیں تو مشترکہ دفاع کا وعدہ عملی طور پر کس شکل میں سامنے آئے گا؟ ان سوالات کے واضح جوابات کے بغیر معاہدے کو پاکستان کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
معاہدے کے آرٹیکل 3 سے 10 تک دفاعی صنعت، انٹیلی جنس کے تبادلے، مشترکہ تربیت، فوجی مشقوں، لاجسٹک تعاون اور دیگر شعبوں میں اشتراک کی گنجائش موجود ہے۔ یہ پہلو پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً اگر ان کے نتیجے میں دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی صنعت میں سرمایہ کاری اور پاکستانی ماہرین کی تربیت کے مواقع پیدا ہوں۔ لیکن ان امکانات کی حقیقت جانچنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سے منصوبے طے پاتے ہیں، ان کی مالی شرائط کیا ہیں، پاکستان کو کتنی ٹیکنالوجی منتقل ہوتی ہے اور ان سے ملکی معیشت و دفاعی صلاحیت کو کیا قابلِ پیمائش فائدہ پہنچتا ہے۔
معاہدے کے حوالے سے ترکیہ کی پارلیمان میں اس کی پیشی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اکتوبر 2026 میں معاہدے کو ترکیہ کی پارلیمان میں توثیق کے لیے پیش کیا گیا، جہاں اس کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر کارروائی شروع ہوئی۔ یہ پیش رفت اس سوال کو اہم بناتی ہے کہ پاکستان میں معاہدے کی شرائط، ممکنہ فوائد، مالی ذمہ داریوں اور دفاعی مضمرات پر پارلیمانی بحث کس حد تک ہوئی ہے۔ اگر کسی دوسرے رکن ملک میں معاہدے کو پارلیمانی جانچ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے تو پاکستان میں بھی اس کی شرائط اور ممکنہ نتائج پر واضح بحث اور عوامی آگاہی ہونی چاہیے۔ دفاعی معاہدے کی حساسیت اپنی جگہ، لیکن قومی مفاد کے تحفظ کے لیے پارلیمانی نگرانی اور ذمہ داریوں کی وضاحت ضروری ہے۔
معاہدے کے آرٹیکل 16 پر بھی خصوصی توجہ ضروری ہے۔ اس کے مطابق معاہدہ متعلقہ توثیقی مراحل مکمل ہونے کے بعد نافذ ہوگا، اس کی مدت غیر معینہ ہوگی اور کوئی فریق نافذ ہونے کے دس سال بعد ہی علیحدگی کا عمل شروع کر سکے گا، جس کے لیے کم از کم تین ماہ پہلے تحریری اطلاع دینا ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاہدے کو محض ایک وقتی سفارتی اعلان سمجھنا درست نہیں۔ یہ طویل المدت ذمہ داریوں کا حامل بندوبست ہے، جس کے ممکنہ نتائج کا اندازہ دستخط کے وقت ہی لگانا ضروری تھا۔
یہاں ایک اہم قانونی وضاحت بھی ضروری ہے کہ معاہدے کا متن ہر حملے کی صورت میں کسی مخصوص تعداد میں فوجی بھیجنے یا ہر حال میں ایک ہی نوعیت کی فوجی کارروائی کرنے کی تفصیل نہیں دیتا۔ آرٹیکل 2 میں مدد کی نوعیت اور مقدار کا تعین ضرورت کے جائزے اور دستیاب وسائل کے مطابق کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم اس لچک کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے لیے خطرات ختم ہو جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہنگامی حالات میں فیصلے کون کرے گا، پاکستان کی پارلیمان اور متعلقہ آئینی اداروں کا کردار کیا ہوگا، اور ملک کو کسی جنگ میں شامل کرنے سے پہلے قومی مفاد کا تعین کس طریقے سے کیا جائے گا؟
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی تنازعات میں شرکت کے فیصلے صرف سفارتی دستاویزات تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے اثرات ملکی معیشت، سلامتی، داخلی سیاست اور عام شہریوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں۔ کسی علاقائی جنگ میں پاکستان کی شرکت یا اس کی عسکری مدد کے نتیجے میں تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں، توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں اور پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت پر مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دفاعی تعاون کے ممکنہ فوائد اور جنگ کے اخراجات کا موازنہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت بھی ہے، لیکن جوہری طاقت ہونا ہر قسم کے خطرے سے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں۔ اس کے برعکس، ایک جوہری ریاست کے لیے علاقائی کشیدگی کو قابو میں رکھنا اور غیر ضروری محاذ آرائی سے بچنا مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اگر پاکستان ایسے تنازعات میں الجھتا ہے جن سے اس کی اپنی سرحدوں کا براہ راست دفاع وابستہ نہ ہو، تو اسے سفارتی دباؤ، معاشی مشکلات اور سلامتی کے اضافی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے جوہری صلاحیت کو غیر ضروری خطرات مول لینے کا جواز نہیں بلکہ محتاط اور ذمہ دارانہ پالیسی کی وجہ سمجھنا چاہیے۔
اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال قومی مشاورت کا ہے۔ کیا پارلیمان میں معاہدے کی شرائط، ممکنہ فوائد، مالی ذمہ داریوں اور خطرات پر تفصیلی بحث ہوئی؟ کیا عوام کو یہ بتایا گیا کہ پاکستان کن حالات میں کس نوعیت کی مدد فراہم کرے گا؟ کیا معاہدے کے تحت حاصل ہونے والے فوائد اور پاکستان کی ذمہ داریوں کا کوئی واضح جائزہ سامنے آیا؟ اگر ان سوالات کے جوابات موجود ہیں تو انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ اگر نہیں، تو ان کا مطالبہ کرنا قومی سلامتی کے خلاف نہیں بلکہ قومی مفاد کے تحفظ کا تقاضا ہے۔
پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط رکھنے چاہییں۔ سعودی عرب کے ساتھ مذہبی، تاریخی، معاشی اور انسانی روابط ہیں، جبکہ ترکیہ کے ساتھ دفاعی، تجارتی اور سیاسی تعاون کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ لیکن دوست ممالک سے تعلقات کی مضبوطی اور ان کے ہر علاقائی تنازع میں شریک ہونے کی ذمہ داری دو مختلف معاملات ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد دوستی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات، علاقائی توازن اور خودمختار فیصلہ سازی کا تحفظ ہونا چاہیے۔
مکہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کا اصل معیار اس کی تشہیر، دستخطوں کی اہمیت یا اس سے وابستہ جذبات نہیں، بلکہ پاکستان کو حاصل ہونے والے حقیقی فوائد اور اس پر عائد ہونے والی عملی ذمہ داریاں ہوں گی۔ اگر اس کے ذریعے پاکستان کی دفاعی صلاحیت بڑھے، مقامی صنعت کو فائدہ پہنچے، ٹیکنالوجی منتقل ہو اور ملک کی اپنی سلامتی کو مؤثر تحفظ ملے تو یہ تعاون مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں پاکستان ایسے تنازعات کی زد میں آتا ہے جن سے بچنا اس کے اپنے قومی مفاد میں ہو، تو اس کی قیمت فوائد سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت داخلی استحکام، دہشت گردی کے خاتمے، معاشی بحالی، ادارہ جاتی مضبوطی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلقات کی ہے۔ کسی بھی دفاعی معاہدے کو ان ترجیحات کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ ان ترجیحات کو معاہدے کی غیر واضح ذمہ داریوں کے تابع کر دیا جائے۔
قومی سلامتی کا تقاضا یہ نہیں کہ پاکستان ہر تنازع سے دور رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر تنازع میں اپنے مفادات، اپنی صلاحیت اور اپنے عوام پر پڑنے والے اثرات کا درست اندازہ لگائے۔ مکہ معاہدے کے معاملے میں بھی فیصلہ کن سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان نے اپنی سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک مؤثر دفاعی راستہ اختیار کیا ہے، یا اس نے ایسے طویل المدت وعدے قبول کر لیے ہیں جن کے ممکنہ اخراجات اور خطرات پر ابھی مزید وضاحت اور قومی بحث درکار ہے؟ اس سوال کا جواب جذباتی وابستگی سے نہیں، معاہدے کی شقوں، عملی نتائج اور پاکستان کے واضح قومی مفادات کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے۔
واپس کریں