دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خاموش معالج
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
عصرِ حاضر کی طبّی دانش نے امراضِ انسانی کے انسداد و معالجہ کے لیے ادویۂ مرکبہ، جراحیِ دقیقہ اور تحقیقاتِ سائنسیہ کے ایسے حیرت انگیز امکانات پیدا کر دیے ہیں جن کا تصور گزشتہ ادوار میں محال تھا، تاہم حیاتِ انسانی کے بعض مشاہدات و واردات ایسے بھی ہیں جو اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ صحت و اعتلال کا تعلق صرف عقاقیر، آلاتِ طب اور تدابیرِ علاج تک محدود نہیں بلکہ ذہنِ انسانی، کیفیاتِ قلبی اور احوالِ نفسی بھی اس باب میں غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ چند عشروں میں علمِ نفسیات، علمِ اعصاب اور طبِ جدید کے باہمی امتزاج سے وجود میں آنے والی تحقیقات نے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ہے کہ جذباتِ انسانی جسمانی صحت و مرض پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہی حقائق میں ایک حقیقت مسرت، تبسم اور قہقہے کی وہ شفابخش تاثیر ہے جسے عصرِ حاضر میں ’’لافٹر تھراپی‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

تاریخِ انسانی ایسے نفوسِ قدسیہ اور اصحابِ تجربہ سے خالی نہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مشاہدات کو اجتماعی منفعت کا وسیلہ بنایا ہو، تاہم نارمن کزنز کا نام اس ضمن میں ایک منفرد حوالہ رکھتا ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے طبیب نہ تھے بلکہ صحافی، مصنف اور سماجی مفکر تھے، لیکن بیماری کے خلاف ان کی طویل اور صبرآزما جدوجہد نے انہیں انسانی رویّوں اور نفسیاتی اثرات کے مطالعے میں ایک نمایاں مقام عطا کیا۔ ان کی حیات کا سب سے اہم پیغام یہی تھا کہ انسان کی داخلی کیفیت اور ذہنی ساخت بعض اوقات اس کے جسمانی احوال میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہیں جو بظاہر ناممکن محسوس ہوتی ہیں۔

شدید ذہنی تناؤ، اضطرابِ مسلسل اور اعصابی انتشار درحقیقت جسمِ انسانی کے لیے ایک خاموش سمِّ قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماہرینِ طب اس امر پر متفق ہیں کہ دائمی ذہنی دباؤ جسم میں ہارمونز کے توازن کو درہم برہم کر دیتا، نظامِ مدافعت کو کمزور بناتا اور متعدد جسمانی و نفسیاتی امراض کی راہ ہموار کرتا ہے۔ امراضِ قلب، فشارِ خون، ذیابیطس، بے خوابی اور نفسیاتی اختلالات کی ایک بڑی تعداد کے پس منظر میں یہی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید معالجاتی فلسفہ اب صرف مرض کے ظاہری اسباب تک محدود نہیں رہا بلکہ مریض کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کو بھی علاج کا بنیادی جزو تصور کرتا ہے۔

بادی النظر میں ہنسی ایک سادہ اور فطری انسانی عمل دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے حیاتیاتی اور عصبی اثرات نہایت عمیق اور ہمہ گیر ہیں۔ جب انسان دل کی گہرائیوں سے مسکراتا یا قہقہہ لگاتا ہے تو دماغ ایسے کیمیائی مرکبات خارج کرتا ہے جو نہ صرف احساسِ درد کو مضمحل کرتے ہیں بلکہ ذہنی سکون، آسودگی اور انبساطِ خاطر بھی پیدا کرتے ہیں۔ اینڈورفنز، ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے مرکبات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جو انسانی ذہن میں سرور، اطمینان اور راحت کے احساسات کو تقویت بخشتے ہیں۔ اسی سبب خوش مزاج اور مثبت طرزِ فکر کے حامل افراد زندگی کی دشواریوں اور نشیب و فراز کا مقابلہ نسبتاً زیادہ استقلال، حوصلے اور وسعتِ قلبی سے کرتے ہیں۔

معاشرتی تناظر میں بھی ہنسی کی معنویت غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ایک خالص اور بے ساختہ مسکراہٹ دلوں کے مابین حائل فاصلے سمیٹ دیتی، روابطِ انسانی کو استحکام بخشتی اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔ وہ معاشرے جو خوف، نفرت، مایوسی اور غیظ و غضب کی نفسیات میں گھرے رہتے ہیں وہاں ذہنی امراض، عدم برداشت اور سماجی کشاکش کی شرح فطری طور پر زیادہ ہوتی ہے، جبکہ امید، خوش دلی اور مثبت طرزِ احساس پر استوار معاشرے اجتماعی سکون، نفسیاتی توازن اور معاشرتی استحکام سے زیادہ بہرہ مند ہوتے ہیں۔

تاہم علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہنسی کو ہر مرض کا کلی علاج قرار دینے سے احتراز کیا جائے۔ سنگین جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے ماہرینِ طب کی رہنمائی، مستند ادویات اور جدید طبی سہولیات بہرحال ناگزیر ہیں۔ البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مثبت ذہنی کیفیت اور خوش گوار نفسیاتی ماحول علاج کے نتائج کو بہتر بنانے میں معاون کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی بنا پر دنیا کے متعدد اسپتالوں، بحالیاتی مراکز اور نفسیاتی کلینکس میں تفریحی سرگرمیوں، مزاحیہ پروگراموں اور اجتماعی خوش مزاجی پر مبنی مشقوں کو علاج کے معاون اور تکمیلی ذرائع کے طور پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ موجودہ مادّی تہذیب میں انسان آسائشوں کے تعاقب میں اس قدر انہماک اختیار کر چکا ہے کہ اس نے مسرت کے فطری سرچشموں سے اپنا تعلق کمزور کر لیا ہے۔ ذرائعِ ابلاغ اور ڈیجیٹل مواصلات کی بے پناہ ترقی کے باوجود تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے، معلومات کی فراوانی کے باوجود سکونِ قلب نایاب ہوتا جا رہا ہے اور سہولتوں کی کثرت کے باوجود اطمینانِ باطن معدوم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حالات میں خوشی کے مختصر مگر خالص لمحات کی قدر و قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔

زندگی کی تلخیوں، معاشی دشواریوں اور سماجی پیچیدگیوں کے باوجود اگر انسان اپنے دامنِ دل میں امید، شکرگزاری اور خوش مزاجی کے چراغ روشن رکھے تو وہ نہ صرف نفسیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ اپنی جسمانی صحت کو بھی مثبت سمت میں متاثر کر سکتا ہے۔ مسکراہٹ کوئی گراں قیمت دوا نہیں، قہقہہ کسی نسخۂ کیمیا کا محتاج نہیں اور خوش دلی کسی صنعتِ ادویہ کی پیداوار نہیں؛ یہ وہ فطری ودیعتیں ہیں جو خالقِ کائنات نے انسان کو عطا فرمائی ہیں تاکہ وہ زندگی کے صحراؤں میں بھی شادمانی کے چشمے تلاش کر سکے۔

شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات ایک مخلصانہ تبسم وہ اثر دکھا دیتا ہے جو کئی ادویات سے بھی حاصل نہیں ہو پاتا۔ ہنسی یقیناً بیماری کا متبادل نہیں، لیکن صحت، امید اور توازنِ حیات کی جانب سفر کرنے والے انسان کی ایک نہایت مؤثر اور مخلص رفیق ضرور ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مسرت، حسنِ ظن، مثبت فکر اور خوش مزاجی کے لیے کچھ لمحے مختص کر لیں تو بعید نہیں کہ ہم نہ صرف زیادہ مسرور بلکہ زیادہ صحت مند اور متوازن زندگی کے حامل بھی بن جائیں۔
واپس کریں