
امریکہ نے پاکستان کو کب کب اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ؟
تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے جب امریکہ کے اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح حاصل رہی اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ تاریخ کے اہم واقعات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ دونوں ممالک کے مفادات ہمیشہ یکساں نہیں رہے اور کئی مواقع پر ان کے تعلقات میں واضح عدم توازن پیدا ہوا۔
1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد ملک کو معاشی مشکلات اور دفاعی ضروریات کا سامنا تھا۔ دوسری جانب امریکہ، سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے اتحادی تلاش کر رہا تھا۔ اس صورتِ حال میں پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کے قریب آئے۔
1954ء میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ باہمی دفاعی معاونت کا معاہدہ کیا، جبکہ 1955ء میں پاکستان بغداد معاہدے، جسے بعد میں سینٹو (CENTO) کہا گیا، اور سیٹو (SEATO) سے وابستہ ہوا۔
پاکستان کو اس تعاون کے نتیجے میں فوجی سازوسامان اور اقتصادی امداد ملی۔ اس کے باوجود، امریکی پالیسی کا بنیادی مقصد خطے میں کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنا تھا، نہ کہ لازماً پاکستان کے تمام قومی و علاقائی مسائل حل کرنا۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران امریکہ نے دونوں ممالک پر اسلحے کی پابندی عائد کر دی۔ پاکستان میں اس فیصلے کو اس بات کی مثال سمجھا گیا کہ امریکی اتحاد کے باوجود، اہم بحران کے وقت پاکستان کو اپنی توقعات کے مطابق حمایت حاصل نہیں ہوئی۔
1965ء کی جنگ نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بداعتمادی پیدا کی۔ پاکستان کو توقع تھی کہ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات مشکل حالات میں اس کے کام آئیں گے، لیکن امریکہ نے بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے اسلحے کی فراہمی محدود کر دی۔ اس اقدام سے پاکستان کو اپنے دفاعی انحصار پر نظرثانی کرنا پڑی۔
1971ء میں امریکی بحری بیڑے کا ایک حصہ، ساتواں بحری بیڑا، خلیجِ بنگال کی طرف بھیجا گیا، جسے پاکستان میں امریکی حمایت کی علامت سمجھا گیا، اگرچہ اس اقدام کے مقصد اور عملی اثرات پر تاریخی بحث موجود ہے۔اس کے باوجود پاکستان مشرقی پاکستان کو برقرار نہ رکھ سکا اور دسمبر 1971ء میں بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔ اس واقعے نے پاکستان میں یہ احساس مضبوط کیا کہ بڑی طاقتوں کی حمایت اکثر ان کے اپنے سفارتی اور عالمی مفادات کے تابع ہوتی ہے۔
1979ء میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی تو امریکہ نے سوویت اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے پاکستان کو ایک اہم اتحادی بنا لیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان نے امریکی اور سعودی تعاون سے افغان مجاہدین کی مدد کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے افغان مزاحمت کاروں تک اسلحہ پہنچانے کے لیے اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور خفیہ اداروں کے نیٹ ورک کو استعمال کرنے میں تعاون کیا۔اس جنگ کے دوران پاکستان کو امریکی امداد اور فوجی سازوسامان ملا، لیکن اس کے ساتھ لاکھوں افغان مہاجرین کی آمد، سرحدی علاقوں پر دباؤ، اسلحے کی غیر قانونی گردش اور مسلح گروہوں کے پھیلاؤ جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔
1989ء میں سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ کی دلچسپی میں کمی آنے لگی۔ پاکستان میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ امریکہ نے سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے پاکستان کی خدمات حاصل کیں، لیکن جنگ کے بعد پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ طویل مدتی تعاون نہیں کیا۔
یہ لمحہ پاکستان میں اس تصور کی ایک اہم بنیاد بنا کہ بڑی طاقتیں اپنے مقاصد حاصل ہونے کے بعد اپنے اتحادیوں سے دور ہو سکتی ہیں۔
افغان جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں ایک بار پھر سرد مہری پیدا ہوئی۔ امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تشویش ظاہر کی اور پریسلر ترمیم کے تحت اکتوبر 1990ء میں زیادہ تر فوجی امداد اور نئی اقتصادی امداد روک دی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کے لیے خریدے گئے ایف سولہ طیاروں کی فراہمی بھی رک گئی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بداعتمادی بڑھی۔ بعد میں اس معاملے پر مالی اور دیگر معاوضے کے انتظامات ہوئے، لیکن یہ تنازع طویل عرصے تک پاکستانی عوام اور حکام کی یادداشت میں موجود رہا۔
پاکستان میں اس صورتِ حال کو اس بات کی مثال سمجھا گیا کہ جب افغانستان میں امریکی مقاصد اہم تھے تو پاکستان کو امداد دی گئی، لیکن جب امریکی ترجیحات تبدیل ہوئیں تو تعلقات محدود کر دیے گئے۔
تاہم، امریکی مؤقف یہ تھا کہ امداد کی بندش پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق قانونی پابندیوں کے تحت کی گئی۔ اس لیے اس واقعے کو صرف سیاسی استعمال کے بجائے دونوں ممالک کی مختلف ترجیحات اور جوہری عدم پھیلاؤ کی پالیسی کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔
گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، فضائی حدود، زمینی راستوں اور انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت تھی۔
صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے امریکی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کیا۔ اس کے بعد پاکستان کو امریکی امداد، فوجی معاونت اور افغانستان میں امریکی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے عوض رقوم ملیں۔ پاکستان 2004ء میں امریکہ کا اہم غیر نیٹو اتحادی بھی قرار پایا۔
لیکن اس تعاون کے ساتھ پاکستان کو بھاری انسانی اور معاشی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ دہشت گرد حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں گئیں، قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیاں ہوئیں، اور کئی علاقوں میں نقل مکانی اور معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، امریکہ پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف مزید کارروائیوں کا مطالبہ کرتا رہا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اختلافات بھی رہے کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کس حد تک مؤثر تھی اور کن گروہوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اس دور میں امریکی ڈرون حملوں نے بھی پاکستان کی خودمختاری، شہری ہلاکتوں اور انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کے بارے میں شدید بحث کو جنم دیا۔
یوں پاکستان ایک طرف امریکی امداد اور سلامتی کے تعاون سے فائدہ اٹھا رہا تھا، تو دوسری طرف جنگ کے معاشرتی، معاشی اور سکیورٹی نقصانات برداشت کر رہا تھا۔
مئی 2011ء میں امریکی افواج نے ایبٹ آباد میں کارروائی کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا۔ یہ کارروائی پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر کی گئی، جس پر پاکستان میں خودمختاری اور قومی سلامتی کے حوالے سے شدید سوالات اٹھے۔
اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا۔ امریکہ نے پاکستان میں بعض عناصر کے دہشت گرد گروہوں سے روابط پر تشویش ظاہر کی، جبکہ پاکستان میں امریکی کارروائی کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
اسی سال سلالہ کے مقام پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد پاکستان نے نیٹو کی رسد کے راستے بند کر دیے، جو کئی ماہ بعد دوبارہ کھولے گئے۔
ان واقعات نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود تھا۔ پاکستان کو امریکی تعاون سے فائدہ ضرور ہوا، لیکن امریکی سلامتی کے مقاصد اور پاکستانی خودمختاری کے درمیان تصادم بھی سامنے آیا۔
امریکہ نے مختلف ادوار میں پاکستان کو اربوں ڈالر کی اقتصادی، فوجی اور انسانی امداد فراہم کی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کو امریکی تعلقات سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تاہم، امداد کی مقدار اور نوعیت اکثر امریکی خارجہ پالیسی، افغانستان کی صورتِ حال، جوہری پروگرام اور دہشت گردی کے معاملات سے وابستہ رہی۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹس کے مطابق، 1990ء کی دہائی میں امداد میں نمایاں کمی آئی، جبکہ 2001ء کے بعد اس میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ بعد کے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں اختلافات کے ساتھ امداد بھی کم ہوتی گئی۔
اس صورتِ حال سے پاکستان کے لیے ایک اہم سبق سامنے آیا کہ کسی ایک بیرونی طاقت پر ضرورت سے زیادہ انحصار معاشی اور دفاعی پالیسی کو غیر یقینی بنا سکتا ہے۔
پاکستان اور امریکہ کی تاریخ اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل دوستوں کے بجائے اکثر مستقل مفادات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ سرد جنگ، افغان جہاد، سوویت یونین کے انخلا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے مختلف ادوار میں امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے اپنے اہم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بعض مواقع پر پاکستان کو امداد اور دفاعی فوائد حاصل ہوئے، جبکہ دوسرے مواقع پر اسے تنہائی، پابندیوں، جنگی نقصانات اور سفارتی اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم، پاکستان کی اپنی سیاسی اور عسکری قیادت بھی ان تعلقات کے فیصلوں میں شریک تھی۔ اس لیے ہر نقصان کی ذمہ داری صرف امریکہ پر ڈالنا مناسب نہ ہو گا۔
خارجہ پالیسی جذبات یا کسی بڑی طاقت پر مستقل انحصار کے بجائے قومی مفادات، معاشی مضبوطی، جمہوری استحکام اور آزادانہ فیصلہ سازی کی بنیاد پر تشکیل دی جائے۔ امریکہ سمیت ہر ملک کے ساتھ تعلقات اسی وقت زیادہ پائیدار ہو سکتے ہیں جب باہمی احترام، واضح مفادات اور ذمہ داریوں میں توازن موجود ہو۔
واپس کریں