دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اپنے بیانیے کی اسیر پاکستان تحریک انصاف ۔ خالد خان
No image پاکستان تحریک انصاف نہ سیاسی جماعت ہے اور نہ انقلابی تحریک۔ سیاسی جماعت مکالمے، جمہوریت اور جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرتی ہے، مخالف نقطۂ نظر سنتی ہے اور دلیل کے ذریعے اپنے مؤقف کا دفاع کرتی ہے۔ مگر پی ٹی آئی کا سیاسی طرزِ عمل اس کے برعکس رہا ہے۔ یہاں مکالمے کی جگہ اپنے مؤقف کو حتمی سچ سمجھنے، دلیل کی جگہ الزامات لگانے، بحث کی جگہ ذاتی حملوں اور اختلاف کی جگہ کردار کشی کو ترجیح دی گئی۔ یہی رویہ اس جماعت کے سیاسی سفر میں بار بار اس کی مشکلات کا سبب بنا، لیکن اس نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
پی ٹی آئی کی سیاسی تاریخ میں متعدد مواقع ایسے آئے جب مکالمے اور مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے تھے، مگر تصادم کی سیاست نے معاملات کو مزید الجھا دیا۔ جماعت نے سیاسی مخالفین کو حریف سمجھنے کے بجائے اکثر دشمن بنا کر پیش کیا اور اپنے کارکنوں میں بھی یہی سوچ پروان چڑھائی کہ مخالف نقطۂ نظر سننا یا اس سے اتفاق کرنا کمزوری ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی اختلاف، جو جمہوریت کا بنیادی وصف ہے، ذاتی دشمنی اور مستقل محاذ آرائی میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔
پی ٹی آئی کو انقلابی تحریک قرار دینا بھی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انقلاب محض بلند آہنگ نعروں، جلسوں، احتجاجی تحریکوں یا نظام کی تبدیلی کے دعووں کا نام نہیں۔ انقلاب کے لیے واضح نظریہ، منظم جدوجہد، قابلِ عمل پروگرام اور اقتدار ملنے کی صورت میں معاشرے کے بنیادی ڈھانچے میں مثبت تبدیلیاں لانے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں تقریباً تیرہ سال اقتدار میں رہنے کا موقع ملا۔ وفاق میں بھی اس کی حکومت قائم رہی، جبکہ پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی اسے اقتدار اور حکمرانی کے مواقع ملے۔ لیکن ان مواقع کو کسی ایسے ہمہ گیر سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی انقلاب میں تبدیل نہیں کیا جا سکا جس کی بنیاد پر اسے حقیقی انقلابی تحریک کہا جا سکے۔
یہاں اصل سوال صرف حکومتی کارکردگی کا نہیں، بلکہ اس سیاسی کلچر کا بھی ہے جو پی ٹی آئی نے اپنے اقتدار اور سیاسی جدوجہد کے دوران تشکیل دیا۔ جماعت کی قیادت سے لے کر کارکنوں تک، اختلاف کو برداشت کرنے، دلیل سننے اور سیاسی مفاہمت کی گنجائش محدود ہوتی گئی۔ گالم گلوچ، ذاتی تضحیک، مخالفین کی کردار کشی اور سیاسی اشتعال انگیزی نے اس کلچر کو نچلی سطح تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
اس طرزِ سیاست کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ جماعت کے کارکنوں کا ایک حصہ سیاسی قیادت کے بیانیے کو تنقیدی نظر سے پرکھنے کے بجائے اسے غیر مشروط طور پر قبول کرنے کا عادی ہو گیا۔ سیاسی وفاداری اور فکری وابستگی کے درمیان فرق مٹنے لگا۔ نتیجتاً اپنی جماعت کی غلطی تسلیم کرنا، مخالف کی درست بات مان لینا یا حالات کے تقاضوں کے مطابق مؤقف میں تبدیلی لانا مشکل ہوتا چلا گیا۔ حالانکہ جمہوریت میں کوئی جماعت، کوئی رہنما اور کوئی سیاسی بیانیہ تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا۔
آج پی ٹی آئی کو درپیش ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کی قیادت کے لیے مکالمے اور مفاہمت کی طرف واپس آنا آسان نہیں رہا۔ سیاسی حالات بدلتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور کبھی نہ کبھی ہر جماعت کو اپنے مخالفین کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا پڑتی ہے۔ لیکن جب کارکنوں کی ذہن سازی مسلسل اس بنیاد پر کی گئی ہو کہ مخالف سے بات کرنا اصولوں سے انحراف اور مفاہمت کرنا شکست ہے، تو پھر قیادت کے لیے اپنے سیاسی مؤقف میں لچک پیدا کرنا بھی ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ رہنما اگر مذاکرات کی طرف قدم بڑھائیں تو انہیں اپنے ہی کارکنوں کی تنقید، بداعتمادی اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی بیانیہ جماعت کی قوت کے بجائے اس کی مجبوری بن جاتا ہے۔ قیادت جس بیانیے کو اپنے سیاسی عروج کے لیے استعمال کرتی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ اسی بیانیے کی پابند ہو جاتی ہے۔ وہ حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے بجائے اپنے ہی سابقہ دعووں، وعدوں اور کارکنوں کی توقعات کے حصار میں قید ہو جاتی ہے۔ پھر سیاسی فیصلے زمینی حقائق اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرنے کے بجائے اس اندیشے کے تحت کیے جاتے ہیں کہ کہیں اپنا حامی طبقہ ناراض نہ ہو جائے۔
یہ صورتِ حال صرف پی ٹی آئی کے لیے نہیں، ہر اس سیاسی جماعت کے لیے ایک سبق ہے جو اپنے کارکنوں کو دلیل، برداشت اور جمہوری شعور کے بجائے جذباتی وابستگی اور شخصیت پرستی کی بنیاد پر منظم کرتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا اصل امتحان صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، بلکہ اختلاف برداشت کرنا، غلطیوں کی اصلاح کرنا اور بدلتے حالات میں ذمہ دارانہ فیصلے کرنا ہے۔ جو جماعت اپنے کارکنوں کو سوال اٹھانے کی آزادی نہیں دیتی، وہ بالآخر خود بھی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے کی صلاحیت کھونے لگتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف آج جس سیاسی کیفیت سے دوچار ہے، اسے سیاسی مکافاتِ عمل کہا جا سکتا ہے۔ جس طرزِ سیاست نے مخالفین کے لیے مکالمے کی گنجائش محدود کی، اسی نے اپنی قیادت کے لیے بھی مفاہمت کا راستہ دشوار بنا دیا۔ جس بیانیے کو سیاسی طاقت کا سرچشمہ سمجھا گیا، وہی اب فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پی ٹی آئی اپنے مؤقف پر قائم کیوں ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ اپنے مؤقف کا تنقیدی جائزہ لینے، غلطی تسلیم کرنے اور قومی سیاست میں اختلافِ رائے کو جائز مقام دینے کے لیے تیار ہے؟
سیاست میں کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ کارکن ہر حال میں اپنی قیادت کی تائید کریں، بلکہ یہ ہے کہ قیادت اپنے کارکنوں کو اتنا سیاسی شعور دے کہ وہ درست اور غلط میں فرق کر سکیں۔ جمہوریت میں مکالمہ کمزوری نہیں، مفاہمت اصولوں سے دست برداری نہیں اور اپنی غلطی تسلیم کرنا شکست نہیں ہوتا۔ جو جماعت ان بنیادی حقیقتوں کو سمجھنے سے انکار کرتی ہے، وہ بالآخر اپنے مخالفین سے زیادہ اپنے ہی پیدا کردہ سیاسی ماحول کی اسیر ہو جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج اب صرف اقتدار میں واپسی نہیں، بلکہ اپنے سیاسی کلچر پر نظرثانی کرنا ہے۔ بصورتِ دیگر وہ اپنے بیانیے کی قیدی بنی رہے گی، اور اس کی سیاست مکالمے اور اصلاح کے بجائے تصادم، ضد اور مسلسل محاذ آرائی کے گرد گھومتی رہے گی۔ یہی سیاسی مکافاتِ عمل ہے۔
واپس کریں