دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پٹرولیم لیوی، پیدا گیری کا بڑا ذریعہ
No image سرکاری دستاویزات کے مطابق موجودہ عوامی حکومت اپنے دور اقتدار کے آغاز‘یعنی 4 مارچ 2024ء سے اب تک‘اپنی ڈھائی سالہ مدت میں اس ملک کے عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 3137ارب روپے وصول کر چکی ہے۔ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026ء میں 1567ارب‘مالی سال2025ء میں 1220 ارب جبکہ اپریل سے جون 2024ء کی سہ ماہی میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 299 ارب 63 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس وقت بھی حکومت پٹرول اور ڈیزل پر فی لٹر 80‘ 80 روپے پٹرولیم لیوی جبکہ 5‘ 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی وصول کر رہی ہے۔ اسکے علاوہ پٹرول اور ڈیزل پر کاربن لیوی کی مد میں 50ارب روپے سے زائد الگ وصول کیے گئے۔
پٹرولیم لیوی وفاقی خزانے کے لیے اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ عالمی ساہو کار آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی استحکام کے اہداف پورا کرنے، بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنے اور غیر ٹیکس ریونیو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں وصولیاں گزشتہ ادوار سے نمایاں طور پر زیادہ رہی ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ناقص براہ راست ٹیکس نظام اور وسیع ٹیکس بیس نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔
مالی سال 2026-27 کے لیے بھی پٹرولیم لیوی کا ہدف بلند رکھا گیا ہے (تقریباً 1676 ارب روپے کے قریب)۔ اگر براہ راست ٹیکسوں میں بہتری، ٹیکس چوری پر قابو اور معیشت میں پیداواری صلاحیت نہ بڑھے تو لیوی کا انحصار جاری رہ سکتا ہے۔
حاصل وصول یہ کہ 3137 ارب روپے کی وصولی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات اب نہ صرف ایندھن ہیں بلکہ وفاقی بجٹ کا اہم ستون بھی بن چکی ہیں۔
واپس کریں