دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ټوپک زما قانون؛ گولی میری زبان؛ پولیس کا اعلان؛ قوم کا فرمان
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ پاکستان میں جرائم کے خلاف کارروائی کے نام پر ایک ایسا کلچر خاموشی سے پروان چڑھ رہا ہے جس کا شاید ہمیں اس وقت تک سنجیدگی سے احساس نہ ہو جب تک اس کے اثرات ہماری اپنی دہلیز تک نہیں پہنچتے۔ روزانہ کہیں نہ کہیں پولیس مقابلے کی خبر آتی ہے، چند افراد مارے جاتے ہیں، پولیس کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ ملزمان نے فائرنگ کی، جوابی کارروائی ہوئی اور وہ ہلاک ہوگئے۔ خبر ختم ہوجاتی ہے، اگلے دن نئی خبر آجاتی ہے اور معاشرہ تالیاں بجاتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کسی معاشرے میں عدالت سے پہلے پولیس فیصلہ کرنے لگے، تفتیش سے پہلے سزا ہونے لگے اور جرم ثابت ہونے سے پہلے موت واقع ہوجائے تو پھر ریاست اور جنگل کے قانون میں بنیادی فرق کیا باقی رہ جاتا ہے؟

یہ سوال کسی پولیس افسر، کسی صوبے، کسی ضلع یا کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں ہے۔ یہ سوال پورے نظام، اس کی ترجیحات اور ہمارے اجتماعی رویے کے بارے میں ہے۔ کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کہیں ایک جعلی مقابلہ ہوا یا کسی بے گناہ کو مار دیا گیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ایک ایسی ذہنیت کو قبول کرنا شروع کردیا ہے جس میں کسی شخص کو ’’مجرم‘‘ کہہ دینا اس کے قتل کو قابل قبول بنانے کے لیے کافی سمجھا جانے لگا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس سوچ کو معاشرے کے ایک بڑے حصے، بعض اوقات ذرائع ابلاغ اور اہل نظر کی خاموشی یا تحسین سے اخلاقی جواز مل جاتا ہے۔

جرائم پیشہ شخص اگر واقعی خطرناک ہے تو ریاست کے پاس اسے گرفتار کرنے، اس کے خلاف مقدمہ چلانے، شواہد جمع کرنے، گواہوں کو تحفظ دینے اور عدالت سے سزا دلوانے کے لیے پورا قانونی نظام موجود ہے۔ اگر یہ نظام کمزور ہے تو اسے مضبوط کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر پولیس تفتیش میں کرپشن ہے تو اسے ختم کرنا چاہیے۔ اگر استغاثہ ناکام ہے تو اسے مؤثر بنانا چاہیے۔ اگر عدالتوں میں مقدمات برسوں چلتے ہیں تو عدالتی نظام کو بہتر بنانا چاہیے۔ اگر گواہ ڈرتے ہیں تو گواہوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔ لیکن ان تمام کمزوریوں کا حل یہ نہیں ہوسکتا کہ ریاست اپنے ہی شہری کے خلاف عدالت، جج اور جلاد تینوں کا کردار اختیار کرلے۔

پاکستان کا آئین بھی اس تصور کو تسلیم نہیں کرتا۔ آئین کا آرٹیکل 9 شخص کی زندگی اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10 اے ہر شخص کو فوجداری الزام کی صورت میں منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار کا حق دیتا ہے۔ یعنی کسی شخص پر جرم کا الزام لگ جانا اسے قانونی عمل سے محروم کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہے، پولیس کے پاس نہیں۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصول بھی اس معاملے میں واضح ہیں۔ اقوام متحدہ کے بنیادی اصول برائے استعمالِ طاقت و اسلحہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو حتی الامکان غیر پُرتشدد ذرائع استعمال کرنے چاہییں، طاقت کا استعمال ضرورت اور تناسب کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے اور جان لیوا طاقت کا استعمال صرف انتہائی ناگزیر حالات میں، خصوصاً انسانی جان کو فوری اور سنگین خطرے سے بچانے کے لیے، کیا جاسکتا ہے۔ محض کسی شخص کو گرفتار کرنے یا فرار ہونے سے روکنے کے نام پر جان لینا معمول کا پولیس اختیار نہیں ہے۔

اس اصول کی روح بہت سادہ ہے: پولیس کا کام انسان کو مارنا نہیں، قانون کے سامنے پیش کرنا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک مسلح شخص پولیس پر فائرنگ کررہا ہے اور پولیس اہلکار اپنی یا کسی دوسرے انسان کی جان بچانے کے لیے جوابی فائرنگ کرتا ہے تو یہ ایک الگ قانونی صورت حال ہے۔ لیکن اگر ایک زیر حراست، غیر مسلح یا پہلے سے قابو میں موجود شخص کو قتل کیا جاتا ہے، یا کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بجائے اسے ایک ایسے مقابلے میں مار دیا جاتا ہے جس کے حالات بعد میں متنازع ثابت ہوں، تو اسے محض ’’پولیس ایکشن‘‘ کہہ کر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ہر واقعے کی آزاد اور غیر جانب دار تحقیقات ہونی چاہییں۔

یہ معاملہ محض نظریاتی نہیں۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے فروری 2026 میں پنجاب کے جرائم کنٹرول محکمے سے متعلق اپنی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا کہ 2025 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 670 مبینہ مسلح مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے، جبکہ اسی عرصے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ کمیشن نے ان اعداد و واقعات کے نمونے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہ اعداد ہر واقعے کو خود بخود جعلی ثابت نہیں کرتے، لیکن اتنا بڑا فرق ایک ایسے سوال کو ضرور جنم دیتا ہے جسے کوئی مہذب ریاست نظر انداز نہیں کرسکتی: کیا سینکڑوں ہلاکتوں میں سے ہر واقعے کی آزادانہ، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات نہیں ہونی چاہییں؟

یہ کوئی ایک صوبے یا ایک دور کی کہانی بھی نہیں۔ سندھ پولیس کے سرکاری اعداد کے مطابق 2023 میں صوبے بھر میں 3,158 پولیس مقابلے ہوئے اور ان میں 289 مشتبہ افراد مارے گئے۔ یہ اعداد بھی ہر مقابلے کو جعلی قرار دینے کے لیے کافی نہیں، لیکن یہ ضرور بتاتے ہیں کہ پولیس مقابلہ ہمارے فوجداری نظام میں ایک معمولی واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا طریقۂ کار بن چکا ہے۔

پاکستان نے اس ذہنیت کے نتائج پہلے بھی دیکھے ہیں۔ نقیب اللہ محسود کا معاملہ ہمارے اجتماعی حافظے میں موجود ہے، جہاں پولیس کے دعوے کے برعکس بعد کی تحقیقات میں اسے ماورائے عدالت قتل قرار دیا گیا۔ 2024 میں ڈاکٹر شاہ نواز کا واقعہ اس سے بھی زیادہ خوفناک سوال لے کر سامنے آیا۔ اسے توہین مذہب کے الزام کے بعد پولیس کے حوالے کیا گیا، پولیس نے ابتدا میں اسے ایک مقابلے میں ہلاک ہونے والا شخص قرار دیا، لیکن بعد میں حکومت کی تحقیقات نے اسے جعلی مقابلہ قرار دیا۔ یعنی وہ شخص جسے پولیس کے مطابق ’’مقابلے میں مارا گیا‘‘، سرکاری تحقیقات کے مطابق پولیس ہی کی طرف سے ایک من گھڑت مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔

یہ واقعات اس لیے اہم ہیں کہ یہ ہمیں ایک خوفناک حقیقت دکھاتے ہیں: پولیس کا ابتدائی بیان ہمیشہ آخری سچ نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے قانون نے تفتیش، استغاثہ، عدالت اور اپیل کا پورا نظام بنایا ہے۔ اگر پولیس کا بیان ہی فیصلہ بن جائے تو باقی پورا نظام بے معنی ہوجاتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں معاملہ اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ کسی مقابلے میں مارے جانے والے شخص کا ماضی کھنگالا جاتا ہے، اس کے خلاف درج مقدمات گنوائے جاتے ہیں اور پھر اس کی موت کو گویا اس کے ماضی کے جرائم کا منطقی انجام قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن قانون کا بنیادی سوال یہ نہیں ہوتا کہ ’’وہ کیسا آدمی تھا؟‘‘ بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ ’’اسے کس قانون کے تحت، کس عمل کے ذریعے اور کن حالات میں مارا گیا؟‘‘ اگر وہ واقعی مجرم تھا تو عدالت اسے سزا دیتی۔ اگر وہ مجرم نہیں تھا تو اس کے ماضی کے الزامات اس کے قتل کو جائز نہیں بنا سکتے۔

سب سے خطرناک تبدیلی شاید یہ ہے کہ اب یہ ذہنیت پولیس کے اعلیٰ افسر سے نکل کر نچلی سطح تک پہنچ رہی ہے۔ جب معاشرہ یہ پیغام دے کہ ’’مجرم کو عدالت کی ضرورت نہیں، گولی کافی ہے‘‘ تو وردی میں موجود ہر شخص کے ہاتھ میں قانون کی جگہ اختیار آجاتا ہے۔ ایک سپاہی بھی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ موقع پر فیصلہ کرسکتا ہے کہ کون زندہ رہنے کا حق رکھتا ہے اور کون نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون نافذ کرنے والا ادارہ قانون کا محافظ رہنے کے بجائے خود قانون بننے لگتا ہے۔

یہ صرف انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں، ریاستی سلامتی کا بھی مسئلہ ہے۔

کیونکہ آج جس شخص کو معاشرہ ’’مجرم‘‘ کہہ کر اسکے قتل پر خوش ہورہا ہے، کل کسی غلط شناخت، جھوٹی گواہی، ذاتی دشمنی، سیاسی دباؤ یا پولیس کی غلط تفتیش کے نتیجے میں کوئی بے گناہ بھی اسی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے۔ جب ریاستی طاقت کے استعمال کے لیے شفاف قانونی حدود کمزور ہوجاتی ہیں تو اس کا نشانہ صرف مجرم نہیں رہتا۔ طاقت آہستہ آہستہ اپنے دائرے کو وسیع کرتی ہے۔

اور پھر معاشرے میں قانون پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔

ایک نوجوان اگر یہ دیکھتا ہے کہ عدالت سے پہلے گولی فیصلہ کرتی ہے تو اسے قانون کی طاقت پر یقین کیسے ہوگا؟ مقتول کے خاندان کو اگر یقین ہوجائے کہ عدالت سے انصاف نہیں ملے گا تو وہ قانون کا راستہ کیوں اختیار کرے گا؟ جب ریاست خود قانونی طریقۂ کار کو کمزور کرتی ہے تو وہ غیر قانونی انتقام، نجی دشمنی اور ہجوم کے انصاف کے لیے بھی راستہ ہموار کرتی ہے۔ یوں ایک قتل صرف ایک انسان کی جان نہیں لیتا، قانون پر ایک ضرب بھی لگاتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جرائم صرف مجرموں کو مار دینے سے ختم نہیں ہوتے۔ اگر ایک منشیات فروش مارا گیا لیکن منشیات کی طلب، منشیات کا کاروباری ڈھانچہ، بے روزگاری اور نوجوانوں کی محرومی باقی ہے تو اگلا شخص اس جگہ آ جائے گا۔ اگر ایک ڈاکو مارا گیا لیکن غربت، بے روزگاری، منظم جرائم کا نیٹ ورک اور نوجوانوں کے لیے جائز معاشی مواقع موجود نہیں تو جرم کا سماجی منبع برقرار رہے گا۔ اگر ایک نوجوان مایوسی، نشے، محرومی اور مستقبل کے فقدان کے زیر اثر جرم کی طرف گیا تو اسے مار دینے سے وہ حالات نہیں مریں گے جنہوں نے اگلے نوجوان کو اسی راستے پر دھکیلنا ہے۔

ہم نے شاید ’’جرم ختم کرنے‘‘ اور ’’مجرم ختم کرنے‘‘ کو ایک ہی چیز سمجھ لیا ہے۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مجرم کو قانون کے مطابق سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن جرم پیدا کرنے والی زمین کو ختم کرنا اس سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔ غربت، بے روزگاری، نشہ، تعلیم کی کمی، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، مستقبل سے مایوسی، سماجی محرومی اور ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے مسلسل پیدا ہونے والی مصنوعی خواہشات ایک ایسے نوجوان کو جنم دے سکتی ہیں جو چند برس بعد جرم کی دنیا میں داخل ہوجائے۔ اگر ہم ہر بار صرف آخری کردار کو گولی ماریں گے اور اس پورے عمل کو پیدا کرنے والے عوامل کو نہیں چھیڑیں گے تو ہمارے پاس لاشیں تو بڑھتی جائیں گی، جرم ختم نہیں ہوگا۔

ایک کو مارنے کے بعد دس نئے پیدا ہونے کا یہی مطلب ہے۔

یہاں ہمیں پولیس کے خلاف نہیں بلکہ بے لگام طاقت کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ ہمیں مجرموں کے حق میں نہیں بلکہ قانون کے حق میں کھڑا ہونا ہے۔ ہمیں پولیس کے ہاتھ باندھنے نہیں بلکہ پولیس کے ہاتھ میں قانون مضبوطی سے تھمانا ہے۔

اور ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا ہوگا کہ اگر پولیس کو یقین ہے کہ سامنے والا خطرناک مجرم ہے تو اسے عدالت تک پہنچانے میں ریاست کیوں ناکام ہے؟ اگر تفتیش ناقص ہے تو اسے بہتر کیوں نہیں کیا جاتا؟ اگر استغاثہ کمزور ہے تو اسے مضبوط کیوں نہیں کیا جاتا؟ اگر عدالتوں میں تاخیر ہے تو اصلاحات کیوں نہیں ہوتیں؟ اگر گواہ خوف زدہ ہیں تو گواہوں کو تحفظ کیوں نہیں ملتا؟ اور اگر پولیس کے اندر بدعنوانی یا جرائم کی سرپرستی موجود ہے تو اس کے خلاف مؤثر احتساب کیوں نہیں ہوتا؟

ان سوالات سے فرار کا سب سے آسان راستہ یہی ہے کہ ایک شخص کو ’’مجرم‘‘ قرار دو، اسے گولی مارو، خبر جاری کرو اور فائل بند کردو۔

لیکن ریاستیں فائلیں بند کرکے نہیں، انصاف قائم کرکے مضبوط ہوتی ہیں۔

اسلامی اخلاقیات بھی انسانی جان کو محض ایک اعدادوشمار نہیں سمجھتیں۔ قرآن انسان کی جان کی حرمت کو بنیادی اصول قرار دیتا ہے اور ناحق قتل سے روکتا ہے۔ اسلام میں قصاص بھی قانون اور عدل کے اصول کے تحت ہے، کسی فرد یا ادارے کو اپنی مرضی سے سزا دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یعنی مذہب بھی قانون کو طاقت کے تابع کرنے کے بجائے طاقت کو عدل کے تابع کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ہمیں ایک ایسے مقام پر پہنچنے سے پہلے رکنا ہوگا جہاں پولیس مقابلہ کامیاب تفتیش کی علامت بن جائے اور لاش جرم کے خاتمے کا ثبوت۔ ہمیں ہر پولیس مقابلے کو خود بخود جعلی قرار دینے کی ضرورت نہیں، لیکن ہر مشتبہ پولیس ہلاکت کو آزاد، فوری، شفاف اور مؤثر تحقیقات کے قابل ضرور سمجھنا ہوگا۔

یہ ذمہ داری صرف پولیس کی نہیں۔ عدالتیں، وکلا، پارلیمان، انسانی حقوق کی تنظیمیں، ذرائع ابلاغ، جامعات اور سول سوسائٹی سب اس سوال کے فریق ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ سوال معاشرے کے ضمیر کا ہے۔

کیونکہ جس دن ایک معاشرہ یہ کہنا شروع کردے کہ ’’مجرم تھا، اچھا ہوا مارا گیا‘‘، اسی دن وہ غیر محسوس طریقے سے یہ اختیار بھی تسلیم کرلیتا ہے کہ کسی دن کسی دوسرے شخص کے بارے میں بھی یہی فیصلہ عدالت کے بغیر کیا جاسکتا ہے۔

قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست مجرموں کے ساتھ نرمی کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست مجرم کو بھی قانون کے ذریعے شکست دے، قانون کو قتل کرکے نہیں۔

جرم کا جواب جرم نہیں ہوسکتا۔

ریاست کا جواب گولی نہیں، قانون ہونا چاہیے۔

اور اگر ہم نے آج اس فرق کو مٹا دیا تو کل شاید ہمارے پاس پولیس بھی ہوگی، اسلحہ بھی ہوگا، مقابلے بھی ہوں گے، لاشیں بھی ہوں گی، تالیاں بھی بجیں گی، مگر قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی۔
واپس کریں