مریم نواز شریف ہندوستان کا حق نمک ادا کرنا خوب جانتی ہے

(پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے ریاست کے اس بیانیے کے بارے میں نہ سنا ہو کہ ہندوستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرپرستی کرتا ہے۔ کبھی بلوچستان کی شورش میں ہندوستانی مداخلت کی بات ہوتی ہے، کبھی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے ہندوستانی ہاتھ تلاش کیا جاتا ہے اور کبھی ریاستی سطح پر ہندوستان کو پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا بیرونی خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ سرحد پر دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں، جنگیں ہو چکی ہیں، فائرنگ ہوتی رہی ہے، جاسوسی اور تخریب کاری کے الزامات ایک دوسرے پر لگتے رہے ہیں اور پاکستانی ریاست آج بھی ہندوستان کو "دشمن" اور "فتنہ" کے عنوان سے پیش کرتی ہے۔ ایسے میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ کہنا کہ پنجاب کو بعض اوقات ہندوستان جیسے ہمسایہ ملک سے زیادہ اپنے پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی کا خطرہ ہے، ایک معمولی سیاسی جملہ نہیں۔ یہ اپنے اندر ایک ایسا تضاد لیے ہوئے ہے جس پر سوال اٹھنا چاہیے۔ اگر ہندوستان پاکستان کے لیے بیرونی خطرہ ہے تو اسے اپنے ہی ملک کے دو صوبوں سے زیادہ بڑا خطرہ ہونا چاہیے؛ اور اگر واقعی پنجاب کو ہندوستان سے زیادہ خیبر پختونخوا، بلوچستان یا کسی دوسرے پڑوسی صوبے سے خطرہ ہے تو پھر ریاست کے اس پورے بیانیے پر بھی سوال اٹھتا ہے جو ہمیں برسوں سے ہندوستان کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف سب سے بڑا بیرونی خطرہ بتاتا آیا ہے۔
یہاں سے بحث صرف مریم نواز کے ایک بیان کی نہیں رہتی۔ یہ سوال بن جاتا ہے کہ دہشت گردی کا اصل حساب کہاں سے شروع کیا جائے۔ آج اگر خیبر پختونخوا کی سمت سے پنجاب کو دہشت گردی کا خطرہ ہے تو ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ یہ مسلح نیٹ ورک بنے کیسے، انہیں طاقت کہاں سے ملی، ان کے نظریاتی اور عسکری ڈھانچے کس تاریخی عمل سے پیدا ہوئے اور وہ ریاستی پالیسیاں کون سی تھیں جنہوں نے ایک زمانے میں افغانستان میں مذہبی مسلح گروہوں کو اپنے علاقائی مفادات کے لیے مفید سمجھا۔ پاکستان کی تاریخ اس سوال سے بچنے کی اجازت نہیں دیتی۔ سوویت افغان جنگ کے زمانے میں پاکستان کی ریاستی اور عسکری مشینری افغان مجاہدین کی مدد، تنظیم اور تربیت کے ایک بڑے نظام کا حصہ تھی۔ بعد میں طالبان کے عروج کے دوران پاکستان کا کردار مزید نمایاں ہوا۔ عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے ساتھ اس جنگ میں شریک تھیں، امریکی اور سعودی وسائل بھی اسی جنگی ڈھانچے میں داخل ہوئے، لیکن پاکستان کی ریاست اس پورے عمل کا ایک مرکزی فریق تھی۔ یہ کوئی افسانہ نہیں، تاریخ کا حصہ ہے۔
پھر وہ وقت آیا جب افغانستان میں ایک ایسی قوت ابھری جسے پاکستان نے اپنے علاقائی مفادات کے تناظر میں اہم سمجھا۔ طالبان نے افغانستان کے بڑے حصے پر قبضہ کیا، پاکستان ان کے اہم بیرونی حامیوں میں شمار ہوا اور یوں ایک ایسی پالیسی آگے بڑھی جس کا مقصد شاید اس وقت پاکستان کے فیصلہ سازوں کو تزویراتی فائدہ دکھائی دیتا تھا۔ مگر تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ ریاستیں بعض اوقات جن قوتوں کو اپنے مفاد کا محافظ سمجھ کر طاقت دیتی ہیں، وہی قوتیں ایک دن اپنے خالق کے دروازے پر دستک نہیں بلکہ دھماکا کرتی ہیں۔
ٹی ٹی پی اسی وسیع تر جنگی ماحول کی ایک بعد کی شکل ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ٹی ٹی پی وہی طالبان ہیں جنہیں پاکستان نے کبھی افغانستان میں سہارا دیا تھا، کیونکہ دونوں کی تنظیمی تاریخ اور ساخت مختلف ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ افغان جنگوں، مذہبی عسکریت پسندی، قبائلی علاقوں میں مسلح نیٹ ورکس اور ماضی کی ریاستی پالیسیوں نے ایسا ماحول ضرور پیدا کیا جس میں پاکستانی طالبان جیسی قوتوں کو پنپنے کی جگہ ملی۔ آج یہی عسکریت پسند پاکستان کی ریاست، فوج، پولیس اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس جنگ کا سب سے بھاری خون خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی زمین پی رہی ہے۔
یہاں ایک تلخ سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایک پالیسی اسلام آباد میں بنتی ہے، اگر اس پالیسی کے بڑے فیصلے ریاستی اور عسکری مراکز میں ہوتے ہیں، اگر جنگ افغانستان میں لڑی جاتی ہے، اگر اس جنگ کے لیے افرادی قوت پختون سرزمین سے گزرتی ہے اور اگر اس کے بعد کی دہشت گردی کا سب سے بڑا بوجھ بھی پختونخوا اٹھاتا ہے تو پھر ہر بار انگلی اسی صوبے کی طرف کیوں اٹھائی جاتی ہے؟ پالیسی بنانے والے کہیں اور، جنگ کا میدان کہیں اور، لاشیں کہیں اور، اور پھر الزام بھی اسی زمین کے حصے میں؟
جب پختون سیاسی گفتگو میں "پنجاب" کہا جاتا ہے تو اس سے پنجابی عوام مراد نہیں ہوتے۔ پنجاب کے عام شہری بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور دہشت گردی کے شکار ہیں۔ یہاں پنجاب ایک سیاسی استعارہ ہے؛ اس طاقتور ریاستی مرکز کا جسے پختون قوم پرست حلقے ملک کے عسکری اور سیاسی فیصلوں میں غالب سمجھتے ہیں۔ پنجابی عوام کو طالبان کا خالق کہنا اتنا ہی غلط ہے جتنا پختونخوا کے کروڑوں شہریوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دینا۔ عوام کسی ریاستی پالیسی کے برابر نہیں ہوتے اور صوبہ کسی دہشت گرد تنظیم کا دوسرا نام نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغانستان کو صرف افغانستان نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنی سلامتی، تزویراتی گہرائی اور علاقائی طاقت کی سیاست کے چشمے سے دیکھا۔ اس سوچ نے بعض اوقات ایسے گروہوں کو جگہ دی جنہیں وقتی طور پر مفید سمجھا گیا۔ دنیا بدل گئی، افغانستان بدل گیا، گروہ بدل گئے، لیکن بندوق کے پھیلائے ہوئے نیٹ ورک اپنی جگہ موجود رہے۔ آج ہم ان کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور ہر روز یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ دہشت گرد کہاں سے آئے۔ شاید ہمیں کبھی یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم نے ماضی میں کن راستوں کو ان کے آنے جانے کے لیے کھولا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آج کے دہشت گردوں کے لیے کوئی جواز پیدا کیا جائے۔ دہشت گرد دہشت گرد ہے، چاہے وہ افغانستان سے آئے، خیبر پختونخوا سے آئے، بلوچستان سے آئے یا پنجاب کے کسی شہر میں چھپا ہو۔ اس کا مقابلہ ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس کے خلاف کارروائی میں کسی مصلحت کی گنجائش نہیں۔ لیکن دہشت گرد کے خلاف جنگ اور کسی صوبے کے خلاف مقدمہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ پنجاب کو دہشت گردی سے خطرہ ہے تو پختونخوا کو بھی ہے۔ پنجاب کے شہری مر سکتے ہیں تو پختونخوا کے شہری بھی مرتے ہیں۔ پنجاب کی پولیس ریاست کی حفاظت کرتی ہے تو پختونخوا کی پولیس نے بھی دہشت گردی کے خلاف اپنی نسلیں قربان کی ہیں۔
اس لیے آج پاکستان کو صوبوں کے درمیان انگلیاں اٹھانے کے بجائے اپنی تاریخ کے سامنے بیٹھنا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ افغان پالیسیوں کے فیصلے کسی گاؤں کے عام آدمی نے نہیں کیے تھے۔ انہیں ریاستی اداروں نے کیا تھا۔ ان پالیسیوں کے مقاصد وقت کے ساتھ بدلتے رہے، مگر ان کے اثرات آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ اگر ہم واقعی دہشت گردی ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف دہشت گرد کو نہیں، اس سوچ کو بھی شکست دینا ہوگی جو کسی مسلح گروہ کو ایک دن مجاہد، دوسرے دن اثاثہ اور تیسرے دن دشمن بنانے کی اجازت دیتی ہے۔
مریم نواز کو پنجاب کی حفاظت کا پورا حق ہے، لیکن پختونخوا کو دہشت گردی کے کٹہرے میں کھڑا کرنا اس مسئلے کا حل نہیں۔ اگر پنجاب کو سرحد پار سے خطرہ ہے تو پختونخوا کو اپنا دشمن نہیں، اپنا پہلا حفاظتی مورچہ سمجھنا چاہیے۔ جو صوبہ خود دہشت گردی کا سب سے بڑا زخم اٹھائے بیٹھا ہے، اسے دہشت گردی کا ذریعہ کہنا زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کی اصل ضرورت ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خون کو اپنا خون سمجھنا ہے۔ دہشت گردی پنجاب کی دشمن ہے، پختونخوا کی بھی، بلوچستان کی بھی اور پاکستان کی بھی۔ اس جنگ میں اگر ہم نے صوبوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا تو دہشت گردوں کو وہ کامیابی مل جائے گی جو وہ بندوق سے حاصل نہیں کر سکے۔
ہمیں آخرکار یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم تاریخ کو اپنے حق میں لکھنا چاہتے ہیں یا تاریخ سے سبق لینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ جو آگ ہم نے کبھی اپنے مفادات کے لیے جلائی تھی، آج اس کا دھواں اگر پختونخوا کے گھروں سے نکل کر پنجاب تک پہنچ رہا ہے تو حل یہ نہیں کہ دھوئیں کو الزام دیا جائے۔ حل یہ ہے کہ آگ کی جڑ تک پہنچا جائے۔
اور شاید پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ وہیں سے شروع ہوگی۔
واپس کریں