دفاعِ وطن کی نئی سرخروئی کے ساتھ وطنِ عزیز کا 61 واں یومِ دفاع

آج 6 ستمبر کو ہم وطنِ عزیز کا 61 واں یومِ دفاع اس سرخروئی کے ساتھ منا رہے ہیں کہ اپنے ازلی دشمن بھارت کو اس کے گذشتہ سال مئی کے اپریشن سیندور میں بنیانِ مرصوص کے بے پایاں جذبے کے ساتھ ہماری جری و بہادر مسلح افواج دھول چٹا کر فتح مبین حاصل کر چکی ہیں اور اس کے بعد ہماری سلامتی کے خلاف جاری سازشوں پر بھی بھارت کو عالمی برادری اور عالمی فورموں پر ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے، عالمی ثالثی عدالت نے گذشتہ ہفتے دوسری بار بھارت کو اس کے آبی دہشت گردانہ عزائم پر آئینہ دکھاتے ہوئے دوٹوک فیصلہ صادر کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور اس پر عملدرامد روکنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ یہی مسکت جواب وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ دنوں بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں بھارت کو نریندر مودی کی موجودگی میں یہ کہہ کر دیا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہو کر صرف اپنا دفاعی حصار ہی مزید مضبوط نہیں کیا، علاقائی امن و سلامتی کے تحفط کی مضبوط بنیاد بھی رکھ دی ہے اور آج دنیا علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لئے پاکستان کے ساتھ امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے۔ اس خوشگوار فضا میں آج کا یومِ دفاع ہماری کامرانیوں کے ڈنکے بجاتا نظر آ رہا ہے۔ بے شک قوم ہر سال ملی جوش و جذبے اور ملک کی بقاءو سلامتی کی خصوصی دعاؤ ں کے ساتھ یومِ دفاع مناتی ہے اور اس سلسلے میں ہونے والی سرکاری تقریبات میں مسلح افواج کی پریڈ کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ اور دوسرے جنگی سازوسامان کی نمائش کرکے دشمن پر اپنی عسکری برتری کی دھاک بٹھائی جاتی ہے۔ آج 6 ستمبر کو قوم روایتی جوش و جذبے کے علاوہ ملک کی سلامتی کے لیے فکرمندی کے گہرے احساس کے ساتھ یومِ دفاع منا رہی ہے اور مختلف سرکاری اور نجی ادارے آج اس حوالے سے تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں۔ تاہم ملک کو درپیش سنجیدہ اقتصادی و سیاسی مسائل نے عوام کو ایک عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے جو ان کے وطنِ عزیز سے بے پایاں محبت کے جذبے کو بھی گہنا رہے ہیں۔ روایتی طور پر آج دن کا آغاز مساجد میں نماز فجر کے بعد شہدائے جنگِ ستمبر کے لیے قرآن خوانی اور ملک و قوم کی سلامتی و استحکام کی خصوصی دعاؤں سے ہوگا جبکہ دفاع وطن کے لیے جانیں نچھاور کرنے والے پاک فوج کے جوانوں اور افسران کی قبور اور یادگاروں پر پھول چڑھانے کی تقاریب کا انعقاد ہوگا جن میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی جائے گی۔ اس حوالے سے آج سول و فوجی حکام، سیاسی قائدین اور عوام شہداء کی یادگار باٹاپور اور بھسین گاؤں میں حاضری دیں گے جہاں شہداء کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جائیں گی۔ آج آزادی کی تڑپ سے معمور کشمیری عوام بھی مقبوضہ وادی میں یومِ دفاع منا کر پاکستان اور افواجِ پاکستان سے محبت اور جذباتی وابستگی کا کھلا اظہار اس انداز میں کر رہے ہیں کہ انہوں نے گذشتہ سال کی طرح اس بار بھی پوری مقبوضہ وادی کو پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے قدِآدم پورٹریٹس سے سجا دیا ہے اور پاکستان کے قومی پرچم لہرا دیئے ہیں جو کشمیر کو بزور بھارت میں ضم کرنے کی گھناؤنی منصوبہ بندی رکھنے والی مودی سرکار کے ان عزائم کو خاک میں ملانے کا ٹھوس جواب ہے۔ کشمیری عوام کی جانب سے لگائے گئے پوسٹروں، بینروں میں یہ پرجوش نعرے بھی درج کیئے گئے ہیں کہ پاکستان اتنا طاقتور ہے کہ بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ پاکستان نے گذشتہ سال مئی میں اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کر دیا ہے۔ دریں اثناء کشمیری عوام بھارت کی اقلیت دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ سے تقاضہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لیئے عملی پیش رفت کرے۔
آج یومِ دفاع کی اہمیت اہلِ پاکستان کے لیے اس حوالے سے بھی اجاگر ہوئی ہے کہ ہمارے شاطر و مکار دشمن بھارت کی مودی سرکار نے سات سال قبل 5 اگست 2019ءکو بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35اے کو بھارتی پارلیمنٹ کے ذریعے حذف کرا کے اپنے ناجائز زیرتسلط کشمیر کو مستقل طور پر بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنایا جس کے بعد اس نے پاکستان کی سلامتی کو بھی کھلا چیلنج کرنا شروع کر دیا اور پھر گذشتہ سال مئی کے پہلے اور دوسرے ہفتے کے دوران پاکستان کی سلامتی کے خلاف شب خون مارنے سے بھی دریغ نہ کیا جس کا پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم کی جانب سے ایسا کرارا جواب ملا کہ وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ آج بھارت مختلف حربوں کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ مقبوضہ وادی متنازعہ علاقہ نہیں بلکہ اس کا حصہ ہے۔ یہ صورتحال اقوامِ متحدہ سمیت ہر اس عالمی ادارے کے لیے چیلنج ہے جو یہ تسلیم کرتا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اسے صرف ایک صورت میں ہی غیر متنازعہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے اور پھر ان کی طرف سے جو فیصلہ ہو اسے تسلیم کر لیا جائے۔
دفاعِ وطن کے معاملہ میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ مسلح افواج میں فیلڈ مارشل سے سپاہی تک ہر افسر و اہلکار حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہے اور دفاع وطن کا ہر تقاضا نبھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ آج ہمارا مکار دشمن بھارت جن گھناؤنی سازشوں کے تحت پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے اس کے پیش نظر قوم کی جانب سے عساکر پاکستان کے حوصلے بڑھائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ چہ جائیکہ اس قومی عسکری ادارے کے اتحاد و یکجہتی کے حوالے سے قوم کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ بلا شبہ قوم کا ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر شعبہ پاکستان کی سلامتی اور اقوام عالم میں اس کا تشخص خراب کرنے کی بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے جن میں قومی کھیل اور فن و ثقافت کے شعبے بھی شامل ہیں۔
اس تناظر میں یوم دفاع کے موقع پر قوم کی جانب سے بھارت کو یہ ٹھوس پیغام ہے کہ پاکستان کی سلامتی کی جانب اٹھنے والی اس کی ہر میلی آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔ قوم کا یہی جذبہ 65ء کی جنگ میں عساکر پاکستان کے شامل حال تھا جو بھارت کی جانب سے ہم پر مسلط کی گئی تھی۔ اس جنگ میں بے شک افواج پاکستان نے ہر محاذ پر دفاع وطن کے تقاضے نبھاتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کیے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوئے مکار دشمن کی افواج کو زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر منہ توڑ جواب دیا اور قربانیوں کی نئی اور لازوال داستانیں رقم کیں جبکہ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت و پاسبانی کے تقاضے نبھاتی رہی۔ اس جنگ نے ہی قوم میں ’پاک فوج کو سلام‘ کا بے پایاں جذبہ پیدا کیا تھا جس کے نتیجہ میں ملک کی مسلح افواج نے اپنے سے تین گنا زیادہ دفاعی صلاحیتوں کے حامل مکار دشمن بھارت کی فوجوں کو پچھاڑ کر انھیں پسپائی پر مجبور کیا اور بھارتی لیڈران اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی دہائی دیتے نظر آئے۔
اہل وطن دفاع وطن کے اس جذبے کو تازہ رکھنے اور نئے عزم و تدبر کی صف بندی کے لیے ہر سال 6 ستمبر کو یوم دفاع، 10 مئی کو یومِ معرکہِ حق اور 28 مئی کو یومِ تکبیر کے طور پر مناتے ہیں جو حب الوطنی کا تقاضا بھی ہے۔یہ امر واقع ہے کہ آج بھارت نے عملاً جنگ کی فضا پیدا کر رکھی ہے جو ہماری سلامتی کے بھی درپے ہے اور ہمیں دنیا میں تنہاکرنے کی سازشوں میں بھی مصروف ہے مگر اس پر ایسا خدا کا غضب ٹوٹا ہے کہ وہ ہزیمتیں اٹھاتا اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ افغانستان سے امریکا کے انخلاء کے ساتھ ہی بھارت کو بھی رسوا ہوکرافغانستان سے دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ اس کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوب گئی اور پاکستان میں مداخلت کے راستے بند ہوگئے جس کا بدلہ وہ آج افغان طالبان رجیم کو ہمارے خلاف اپنی پراکسی بنا کر لے ریا ہے۔ اس صورتحال میں ہر پاکستانی کو اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے وطنِ عزیز کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے اور ان عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہے جو مایوسی پھیلا کر نئی نسل کو ملک سے بدگمان کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں اتحادی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کو بالخصوص مہنگائی میں فوری ریلیف دے کیونکہ ملک کی غالب اکثریت اپنے اقتصادی مسائل میں الجھ کر پریشانیوں کا شکار رہے گی تو اس سے یقینا اس کا ریاست اور اس کے اداروں پر اعتماد متزلزل ہوگا جیسا کہ بجلی کے بے جا اور ناروا بلوں، پٹرولیم نرخوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے اور نجی پاور کمپنیوں کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی بنیاد پر آج عوام کے دلوں میں لاوا ابل رہا ہے اور وہ حکمرانوں کے خلاف تہیہ طوفان کئے بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی انہی عوامی مسائل کو لے کر آج سڑکوں پر دھرنے دیئے بیٹھی ہے اور لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے اس لئے پاکستان کو اس وقت جن اقتصادی اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے حکومت کی جانب سے انھیں حل کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس حکمتِ عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔
ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے مکار دشمن بھارت نے 65ء کی جنگ میں پاک فوج کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ہزیمت کا 71ء کی جنگ میں بدلہ چکانے کی سازش کی اور سانحہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں اس ارض وطن کو دولخت کردیا۔ اس وقت بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے یہ بڑ ماری تھی کہ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے جبکہ ہندو جنونیت نے عملاً دو قومی نظریے کو مزید اجاگر کردیا اور بنگلہ دیش میں نوجوانوں کے برپا کئے گئے دو سال قبل کے انقلاب نے تو دو قومی نظریئے پر دوبارہ مہرِ تصدیق ثبت کر دی ۔ ہمارا شاندار ماضی بھی اس امر کا گواہ ہے کہ بھارت نے باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی بھی ختم کرنے کی بدنیتی کے تحت ایٹمی صلاحیت حاصل کی تو پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کی آزادی کے لیے بھارت سے ہزار سال تک جنگ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے لیے ایٹمی قوت کے حصول کا عزم باندھ لیا جس کی تکمیل کے لیے بعد میں آنے والے تمام حکمرانوں نے ملکی دفاع کے تقاضوں کے مطابق اپنا اپنا حصہ ڈالا اور جب مئی 1998ءمیں بھارت نے دوسری بار ایٹمی دھماکے کیے تو اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے 28 مئی 1998ء کو ایٹمی بٹن دبا کر تین بھارتی دھماکوں کے جواب میں پانچ دھماکے کردیئے اور پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا جس سے دنیا کو باور کرایا گیا کہ ہم خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا ڈٹ کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہمارے اس مکار دشمن کو اب تک پاکستان پر 65ء اور 71ء جیسی جارحیت مسلط کرنے کی تو جرات نہیں ہوئی مگر وہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف گذشتہ سال مئی جیسی گھناؤنی سازشوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ یہ بھارت ہی کی مکاری ہے جس کے تحت پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کی سازش کی جاتی ہے اور دوسری جانب دہشت گردی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اسے اقوام عالم میں تنہا کرنے کی سازشی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالنا اسی بھارتی سازش کا حصہ تھا جبکہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں اور پاکستان کے خلاف بھارت کی گھناؤنی سازشیں اب بھی جاری ہیں۔ بالخصوص بلوچستان میں بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور پنجابی آباد کاروں کو ٹارگٹ کر کے انہیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے کی وارداتیں بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں دشمن کی ان سازشوں پر کڑی نظر رکھنے اور ہر موقع پر افواج پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کو ہماری جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی کبھی جرات نہ ہوسکے۔ اس سلسلہ میں گذشتہ سال مئی والی بھارتی جارحیت ہم سے دشمن کے مقابل اپنی صفیں ہمہ وقت درست رکھنے کی متقاضی ہے کیونکہ ملک کے بدخواہ عناصر کو افواج پاکستان کے اداروں اور تنصیبات پر یلغار کا موقع بھارتی معاونت و سرپرستی میں ہماری اندرونی کمزوریوں کے باعث ہی حاصل ہوتا ہے۔ ایسے بد طینت عناصر کے لئے زیرو ٹالرنس ہی وقت کی ضرورت ہے۔ آج کا یومِ دفاع ہم سے اس امر کا ہی متقاضی ہے کہ ملک سلامتی و دفاع پر کوئی مفاہمت ہو سکتی ہے نہ کسی کو ڈھیل دی جا سکتی ہے۔ یقینباً اسی تناظر میں آج 9 مئی برپا کرنے والے بھی انصاف کی عملداری میں اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ خدا ہمارا حامی و محافظ ہو۔
واپس کریں