دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بارہ صوبے یا ایک سو بارہ؟ مسئلہ صوبوں کا نہیں، حکمرانی کا ہے۔خالد خان
No image وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلی بار اس شدت کے ساتھ ایک ایسی بات کہی ہے جسے نظرانداز کرنا اب آسان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے، موجودہ نظام گر چکا ہے، مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہی نظام چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے۔
یہ بیان محض ایک وزیر کا سیاسی تبصرہ سمجھ کر آگے بڑھ جانے والی بات نہیں۔ اگر ملک کا ایک ذمہ دار وفاقی وزیر خود یہ تسلیم کر رہا ہے کہ موجودہ نظام مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے تو پھر ہمیں رک کر یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ آخر نظام کی ناکامی کا علاج کیا ہے؟ کیا صوبوں کی تعداد بڑھا دینا واقعی گورننس کی خرابی کا علاج ہے یا ہم ایک ناکام نظام کو چھوٹے چھوٹے انتظامی خانوں میں تقسیم کرکے یہ سمجھ لیں گے کہ مسئلہ حل ہوگیا؟
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث نئی نہیں۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ، پوٹھوہار، کراچی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انتظامی شناخت، وسائل کی تقسیم اور سیاسی اختیار کے سوالات عرصے سے موجود ہیں۔ آج یہ مطالبات اس لیے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے کے اندر بہت سے علاقوں کو یہ احساس ہے کہ صوبائی دارالحکومت ان کی دہلیز سے اتنا ہی دور ہے جتنا کبھی وفاقی دارالحکومت تھا۔ بڑے صوبوں میں مرکز اور حاشیے کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے اور یہی احساس نئے صوبوں کے مطالبے کو سیاسی طاقت دیتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی مغالطے سے بچنا ہوگا۔ بڑا صوبہ لازماً ناکام نہیں ہوتا اور چھوٹا صوبہ لازماً کامیاب نہیں ہوتا۔ جغرافیہ حکمرانی کو مشکل یا آسان بنا سکتا ہے، مگر حکمرانی کی ضمانت نہیں دیتا۔ ایک چھوٹے صوبے میں بھی اگر سیاسی مداخلت، ادارہ جاتی کمزوری، کرپشن، غیر مؤثر بیوروکریسی، کمزور احتساب، ناقص منصوبہ بندی اور اختیارات کا ارتکاز موجود ہو تو صوبہ چھوٹا ہونے کے باوجود عوام کے مسائل بڑے ہی رہیں گے۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: اگر موجودہ نظام ناکام ہے تو کیا ہم نے اس نظام کے بنیادی مسائل کی تشخیص کی ہے؟
ہم نے سرکاری اداروں کو زیادہ جواب دہ بنایا؟ ہم نے بیوروکریسی کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا؟ ہم نے پولیس کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا؟ ہم نے تعلیم اور صحت کے نظام کو نتائج کی بنیاد پر جانچا؟ ہم نے ترقیاتی بجٹ کو سیاسی صوابدید سے نکال کر ضرورت اور کارکردگی سے جوڑا؟ ہم نے بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیار، مالی وسائل اور انتظامی خودمختاری دی؟ ہم نے ضلعی حکومت کو اتنا طاقتور بنایا کہ عام آدمی کو اپنے بنیادی مسئلے کے لیے صوبائی دارالحکومت کا رخ نہ کرنا پڑے؟
اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر مسئلہ صرف صوبے کا حجم نہیں، مسئلہ حکمرانی کا ماڈل ہے۔
پاکستان میں ہم عجیب انداز سے اصلاحات کرتے ہیں۔ جب ایک ادارہ ناکام ہوتا ہے تو ہم نیا ادارہ بنا لیتے ہیں۔ جب انتظامی ڈھانچہ مسائل پیدا کرتا ہے تو نیا یونٹ بنا لیتے ہیں۔ جب صوبائی حکومت ناکام ہوتی ہے تو نئے صوبے کی بات شروع ہوجاتی ہے۔ پھر نئے صوبے میں وہی سیاسی کلچر، وہی بیوروکریسی، وہی مرکزیت، وہی کمزور بلدیاتی نظام، وہی ناقص احتساب اور وہی طرز حکمرانی منتقل ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نقشہ بدل جاتا ہے، نظام نہیں۔
اسی لیے یہ سوال بہت اہم ہے کہ ہمیں نئے صوبے چاہئیں یا نئی حکمرانی؟
اگر کسی علاقے کا انتظامی حجم اتنا بڑا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں تک مؤثر طور پر نہیں پہنچ سکتی تو نئے صوبے یقیناً زیرِ غور آنے چاہئیں۔ اگر وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو رہی، اگر دور دراز علاقوں کو سیاسی اور انتظامی نمائندگی نہیں مل رہی اور اگر موجودہ صوبائی ڈھانچہ ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے تو انتظامی تنظیمِ نو ایک جائز اور سنجیدہ قومی ضرورت ہوسکتی ہے۔ لیکن اسے جادوئی نسخہ سمجھنا خطرناک ہوگا۔
دنیا میں ریاستیں صرف صوبے بنا کر کامیاب نہیں ہوئیں؛ انہوں نے اختیارات کو شہری کے قریب کیا۔ حکومت کا اصل چہرہ وفاقی دارالحکومت یا صوبائی دارالحکومت نہیں بلکہ وہ ضلعی دفتر، تحصیل، تھانہ، ہسپتال، سکول اور بلدیاتی ادارہ ہے جہاں عام شہری کا روزانہ واسطہ ریاست سے پڑتا ہے۔ اگر یہ سطح ناکام ہے تو اوپر کی سطح پر نقشے کی کتنی ہی بار حد بندی کرلیں، شہری کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔
پاکستان کے آئین میں بھی مقامی حکومت کو محض ایک خوبصورت تصور نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری بنایا گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اختیارات کی منتقلی کی بات تو بہت کی، لیکن حقیقی اختیار، مالی وسائل اور انتظامی طاقت نچلی سطح تک منتقل کرنے میں مسلسل ہچکچاہٹ دکھائی۔ آج کی بحث میں بھی یہی نکتہ سامنے آرہا ہے کہ صرف صوبے بڑھانا کافی نہیں؛ عوام تک اختیار پہنچانا اصل امتحان ہے۔
یہاں نئے صوبوں کے حامیوں سے بھی ایک سوال بنتا ہے اور مخالفین سے بھی۔ حامی بتائیں کہ نیا صوبہ بنانے کے بعد اس کے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے، نئی اسمبلی، سیکریٹریٹ، ہائی کورٹ، پولیس، محکموں اور انتظامی ڈھانچے کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے اور وفاقی و صوبائی وسائل کی تقسیم کس فارمولے سے ہوگی؟ مخالفین بتائیں کہ اگر موجودہ صوبائی ڈھانچہ واقعی عوام کو مؤثر حکمرانی نہیں دے رہا تو اس کا متبادل کیا ہے؟ صرف موجودہ نقشہ برقرار رکھنا بھی کوئی پالیسی نہیں۔
اصل ضرورت جذباتی نقشہ سازی نہیں بلکہ سائنسی انتظامی منصوبہ بندی ہے۔ نئے صوبے بنیں تو ان کی بنیاد صرف لسانی، نسلی یا سیاسی جذبات نہیں بلکہ آبادی، رقبہ، معاشی استعداد، وسائل، جغرافیہ، انتظامی رسائی، تاریخی شناخت اور عوامی رائے پر ہونی چاہیے۔ اور ہر نئے صوبے کے ساتھ ایک مضبوط مقامی حکومت کا نظام لازمی ہونا چاہیے تاکہ نیا صوبہ خود ایک نیا مرکزیت پسند دارالحکومت نہ بن جائے۔
کیونکہ ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ ہم لاہور، کراچی، پشاور یا کوئٹہ کی مرکزیت کم کرکے نئے ملتان، بہاولپور، ہزارہ، پوٹھوہار یا کسی دوسرے دارالحکومت کی مرکزیت پیدا کردیں۔ عام شہری پھر بھی صوبائی دارالحکومت سے دور رہے گا اور اختیارات پھر بھی چند ہاتھوں میں مرتکز ہوں گے۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ نقشے پر ایک نیا رنگ شامل ہوگیا ہوگا۔
اور اگر یہی گورننس جاری رہنی ہے تو پھر بارہ صوبے کیا، ایک سو بارہ صوبے بھی بنا دیے جائیں، ناکامی ختم نہیں ہوگی۔ ناکامی صرف تقسیم ہوجائے گی، اس کے نقشے چھوٹے ہوجائیں گے، دفاتر بڑھ جائیں گے، وزراء بڑھ جائیں گے، بیوروکریسی بڑھ جائے گی، مگر شہری کا مسئلہ وہیں کھڑا رہے گا۔
محسن نقوی کا یہ کہنا کہ نظام گر چکا ہے، دراصل صوبوں کی تعداد سے کہیں بڑا سوال اٹھاتا ہے۔ اگر نظام واقعی ناکام ہوچکا ہے تو ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ اسے ناکام کس نے کیا، اس کی اصلاح کون کرے گا اور اصلاح کا پیمانہ کیا ہوگا؟ صرف نئی حد بندیاں نظام کی اصلاح نہیں۔ نظام کی اصلاح کا مطلب اداروں کی اصلاح، قانون کی حکمرانی، جواب دہی، شفافیت، میرٹ، مالیاتی نظم اور اختیار کی حقیقی منتقلی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی بحث میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ نئے صوبے بنا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور مستقل حل تلاش کرنا ہوگا؛ ان کے مطابق جب تک آئین پر عمل اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی، مسائل برقرار رہیں گے۔
اس لیے پاکستان کو نئے صوبوں کی بحث سے بھاگنا بھی نہیں چاہیے اور اسے تمام مسائل کا حل سمجھنا بھی نہیں چاہیے۔ ہمیں ایک قومی سطح کی غیر جانب دار بحث کی ضرورت ہے جس میں ہر موجودہ صوبے کی انتظامی کارکردگی، مالی استعداد، آبادی، جغرافیہ، وسائل اور عوامی ضروریات کا جائزہ لیا جائے۔ پھر جہاں انتظامی تقسیم واقعی عوام کے مفاد میں ہو وہاں نئے صوبے بنائے جائیں، اور جہاں مسئلہ صرف اختیار کی مرکزیت ہو وہاں صوبہ توڑنے کے بجائے اختیار کو ضلع اور مقامی حکومت تک منتقل کیا جائے۔
پاکستان کو نئے نقشوں سے زیادہ نئے طریقۂ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ صوبہ چھوٹا ہو یا بڑا، اگر حکومت شہری تک نہیں پہنچتی تو نقشہ بے معنی ہے۔ اور اگر حکومت شہری کی دہلیز تک پہنچ جائے، ادارے جواب دہ ہوں، اختیار نچلی سطح پر ہو اور قانون سب کے لیے برابر ہو تو شاید ہمیں ہر مسئلے کا علاج نئی صوبائی حد بندی میں تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں بارہ صوبے ہونے چاہئیں یا چار۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کا نقشہ بدلنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں حکمرانی کا طریقہ؟
کیونکہ نقشے بدلنا نسبتاً آسان ہے، حکمرانی بدلنا اصل امتحان ہے۔
واپس کریں