دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
استاد گل صاحب دین : علم کا وہ چراغ جو پوری آب و تاب سے چمکتا رہا‎
ساجد الرحمن
ساجد الرحمن
معزز ہیڈ ماسٹر صاحب، معزز مہمانانِ گرامی، معزز اساتذہ کرام و میرے عزیز طلباء! گل صاحب دین کی طرف سے آپ کو السلام علیکم!
سب سے پہلے میں اپنے ساتھیوں اور عزیز طلباء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے الوداع ہونے پر اتنی پُروقار تقریب کا انعقاد کیا ہے، اور مہمانانِ گرامی کا بھی کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر تقریب میں شرکت کی اور تقریب کو رونق بخشی۔ عزیز طلباء اور معزز ساتھیوں نے میرے متعلق جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور ان کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ عزیز طلباء اور میرے پیارے ساتھیو! میں نے چھتیس سال آٹھ ماہ اور بیس دن بطور ٹیچر سروس کی ہے۔ اس دوران میرے خیال میں، میں نے اپنے معزز پیشے سے اگر سو فیصد نہیں تو کم از کم نوے فیصد انصاف کیا ہے اور میرا ضمیر مطمئن ہے۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ آج میں باعزت طور پر سروس سے رخصت ہو رہا ہوں۔ دورانِ سروس میرے شاگردوں، ہیڈ ماسٹر صاحبان، اساتذہ کرام اور درجہ چہارم کے بھائیوں نے جو عزت اور محبت مجھے دی ہے، وہ شاید میں پوری زندگی نہ بھول پاؤں اور زندگی کے ہر موڑ پر یاد آئے گی۔ اس کے ساتھ ہی میں اہلِ شہر و علاقہ کا بھی بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے ہر مسئلہ پر میرا ساتھ دیا، عزت بخشی اور میری چھوٹی موٹی غلطیوں کو نظرانداز کیا۔ عزیز طلباء اور ساتھیو! میری ساڑھے تین سال کی سروس ابھی باقی تھی، لیکن میں نے سوچا کہ شاید اب میں اپنے پیشے سے انصاف نہ کر سکوں اور صرف تنخواہ کی خاطر اپنے عہدے سے چمٹا رہوں، اس لیے میں نے ساڑھے تین سال پہلے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا۔ میرے سمجھدار دوستوں نے بھی اس فیصلے پر میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان شاء اللہ میری جگہ کوئی دوسرا نیا خون آئے گا اور مجھ سے بہتر کام کر سکے گا۔عزیز طلباء! آپ سکول میں علم حاصل کرنے آتے ہیں۔ علم ایک ایسا نور ہے جس سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اور انسان کے دل و دماغ میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔ علم ایک بڑی اور نہ گھٹنے والی دولت ہے۔ دنیا کی کسی قوم نے علم کے بغیر ترقی نہیں کی۔ علم کی بدولت امریکہ پوری دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے۔ آپ نے اپنی درسی کتاب میں پڑھا ہوگا کہ محمد علی جناح آدھی رات گزر چکی تھی، لالٹین کی روشنی میں مطالعہ میں مصروف تھے کہ گھر کی خواتین آئیں اور کہا آدھی رات گزر چکی ہے، تمام کراچی کے لوگ گہری نیند سو رہے ہیں، آپ بھی سو جائیں۔ تو محمد علی جناح نے فرمایا: "دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی سو جاؤں تو زندگی میں بڑا آدمی کیسے بنوں گا؟" آپ نے دیکھا بھی کہ محمد علی جناح بڑے ہو کر "قائداعظم" کہلوائے۔ عزیز طلباء! معذرت کے ساتھ، اللہ تعالیٰ بڑائی بیان کرنے پر معاف فرمائے، اس کا ذکر صرف آپ میں تحریک پیدا کرنے کے لیے ہے۔ میں آپ کو ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں: میں جب عیسیٰ خیل جاتا ہوں تو بڑے قابلِ احترام لوگ، قابلِ احترام ڈاکٹر صاحبان، میرے بیٹوں کی وجہ سے اپنی سیٹوں سے اٹھ کر مجھے ملتے ہیں اور عزت دیتے ہیں۔ تو بیٹوں کی وجہ سے میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، اور سوچتا ہوں کہ زندگی کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ عزیز طلباء! آپ بھی اسی طرح اپنے والدین اور قوم کا سر فخر سے بلند کر سکتے ہیں۔ آپ میں ذہانت کی کمی نہیں ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ میں ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، صرف ضرورت ہے تو محنت کی۔ جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھو گے، تو تب آپ کو علم کی قدر کا پتہ چلے گا۔ اُس وقت آپ کو افسوس کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ عملی زندگی میں داخل ہونے کے لیے ابھی سے تیاری کرو۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ محنت کر کے آپ بھی ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور اعلیٰ افسر بن سکتے ہیں۔ عزیز طلباء! آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو قابل، ذہین اور فرض شناس اساتذہ ملے ہیں، جن کی قابلیت کا میں گواہ ہوں۔ آپ ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، رہنمائی لے سکتے ہیں۔ چاہنے والوں کو سب کچھ مل جاتا ہے۔ عزیز طلباء! والدین اور اساتذہ کی فرمانبرداری ہی آپ کی کامیابی کی ضامن ہے۔ جو علم دینے والوں کی قدر نہیں کرتا، وہ علم کے میدان میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے اساتذہ کی عزت کی ہے، جس سے مجھے کامیابی ملی ہے۔ میں اپنے اور اپنے بیٹوں کے اساتذہ کی جتنی قدر اور عزت کرتا ہوں، شاید آپ کو اندازہ بھی نہ ہو۔ عزیز طلباء! آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ آپ کے دوست سب ہوں اور دشمن کوئی نہ ہو۔ بری صحبت سے بچیں، وہ آپ کو بھی برباد کر دے گی اور شاید آپ تعلیم بھی حاصل نہ کر سکیں۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گی۔ خداوندِ تعالیٰ آپ کو دین و دنیا دونوں میں کامیابی عطا فرمائے۔ باہر سے آئے ہوئے ساتھیوں کا بھی میں بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہر موقع پر میری رہنمائی کی اور میرے دکھ سکھ میں شریک رہے۔ آخر میں، اگر میں موجودہ ہیڈ ماسٹر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کاوشوں کا ذکر نہ کروں تو انصاف نہ ہوگا۔ اس سے پہلے جتنے ہیڈ ماسٹر صاحبان آئے، انہوں نے اپنی بساط کے مطابق سکول کو آگے لانے کی کوشش کی، جو کہ نہایت حوصلہ افزا ہے لیکن موجودہ ہیڈ ماسٹر محمد ظفر اللہ خان نے اپنی ذاتی کوششوں سے سکول کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ سکول کی چار دیواری، بجلی، اضافی کمرے، لیٹرین بلاک۔ یہ سب ان کی ذاتی دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ سکول کی ترقی کے لیے کتنی محنت اور مغزخوری کرتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و تندرستی عطا فرمائے تاکہ وہ اس پسماندہ سکول کو مزید ترقی دے سکیں۔ ان کی یہ کاوشیں ضرور کامیاب ہوں گی۔ میں ونجاری شہر اور نواحی علاقے کے لوگوں کے اس جذبے کی بھی بہت قدر کرتا ہوں کہ جب کبھی ہمیں سکول کے مسئلے میں کسی بھی قسم کی دشواری پیش آئی، انہوں نے ہماری ہر ممکن مدد کی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کارِ خیر کا اجر ضرور عطا فرمائے گا۔ انسان خطا کا پتلا ہے، ہو سکتا ہے انجانے میں مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو، میرے کسی قول و فعل سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو، تو میں معافی کا طلبگار ہوں۔ اُمید ہے آپ مجھے معاف فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ سکول اور آپ ساتھیوں سے میرا رشتہ تاحیات قائم رہے گا۔ سکول کے ہر مسئلے پر آپ مجھے ساتھ پائیں گے۔ آخر میں، میں تمام طلباء، اساتذہ کرام، مہمانانِ گرامی اور شرکاءِ تقریب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس تقریب کو منعقد کر کے اور شرکت فرما کر میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ شکریہ! والسلام۔
استاد گل صاحب دین کی سکول ریٹائرمنٹ پر الوداعی تقریر
واپس کریں