ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
دستِ قدرت نے امانتِ حکومت اور تدبیرِ مملکت کا جو بارِ گران انسان کے ناتواں دوش پر ڈالا ہے، اس کا اصل گوہر "عدل" اور "سعیِ نافع" سے تعبیر ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاسی و انتظامی افق پر مسلسل بدعنوانی اور انحطاط کا جو نوحہ رقم ہو رہا ہے، اس کی تمام تر مسئولیت اور جفا کا تازیانہ بلا تامل سیاسی طبقے کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا سہل اور سطحی مغالطہ ہے جس نے مرض کی اصل علت یعنی "الّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا" کے مصداق فرسودہ بیوروکریٹک ڈھانچے پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ سیاست دان، اپنے تمام تر نقائص اور سیاسی مصلحتوں کے باوجود، جمہوریت کی عدالت میں جواب دہ ہیں اور وہی پالیسی کا ہیولیٰ ترتیب دیتے ہیں۔ لیکن اس سیاسی ارادے کو میدانِ عمل میں مجسم کرنا، خواہ وہ صحت کے معالج خانوں کا قیام ہو یا زراعت کی سرسبزی ایک ایسے زندہ و متحرک انتظامی وجود کا تقاضا کرتا ہے جو نوآبادیاتی دور کے اس کاغذی صنم خانے میں مسلسل دم توڑ رہا ہے جہاں خدمت کے بجائے محض عملداری کا سودا کیا جاتا ہے۔
اس انتظامی فالج اور معطل حکمت کی فکری جڑیں ان "استعماری بقایا جات" میں پیوست ہیں جو غاصب سامراج نے اس ملک پر مسلط کیے تھے۔ انگریز بہادر کا تیار کردہ یہ دفتری سانچہ عوام کو راحت پہنچانے یا "لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ" کی تعبیر کے لیے وضع ہی نہیں ہوا تھا اس کا واحد مقصد شاہی مالگزاری اکٹھا کرنا اور "رعایا" پر قاہرانہ گرفت برقرار رکھنا تھا۔ آزادی کی دہائیوں بعد بھی ہماری سول سروس کا داخلی ڈی این اے اس زنگ آلود ساخت سے آزاد نہ ہو سکا، جہاں حقیقی نتائج کے بجائے کاغذی ضوابط کی پیروی کو ربِ اعلیٰ کی اطاعت کی طرح فرض عین سمجھا جاتا ہے۔ اس جامد و متصلب نظام میں ایک حاکمانہ ذہنیت کا حامل بابو منصوبوں میں برسوں کی تاخیر اور اربوں کے قومی ضیاع پر کبھی مسؤل نہیں ٹھہرایا جاتا، بشرطیکہ فائل پر تمام بے روح مہریں اور روایتی دستخط موجود ہوں۔ دوسری طرف، اگر کوئی صاحبِ بصیرت افسر خطرہ مول لے کر کسی عوامی عقدے کو حل کرنے کی جسارت کرے، تو تحفظِ ذات کی شل کر دینے والی جبلت اسے تادیبی کارروائی کے خوف سے مفلوج کر دیتی ہے۔
قواعد و ضوابط کی اس متصلبانہ پاسداری کا بھیانک ترین تضاد یہ ہے کہ نظام کے اعلیٰ ترین طبقے میں تو جمود کا راج ہے، مگر نچلے دھارے پر "وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا" کا عمل دخل سراسر عروج پر ہے۔ عام شہری کا واسطہ صوبائی وزراء یا سیاسی خطبا سے نہیں پڑتا اس کی روزمرہ زندگی کا سابقہ مقامی پٹواری، تھانے کے محرر اور بلدیاتی عمال سے ہوتا ہے، جہاں اسے ادارہ جاتی بے حسی اور ننگے استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر جب شہر زیرِ آب آتے ہیں یا دیہات میں پانی اور صحت کا بحران جنم لیتا ہے، تو عوامی غیظ و غضب کا تمام تر رخ منتخب نمائندوں کی مسند کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ عوام کے پاس ہر پانچ سال بعد اپنے ووٹ سے حاکم کو بدلنے کا آئینی و شرعی حق میسر ہے، مگر اس "مستقل ریاست" یعنی بیوروکریسی کے لیے کون سا کسوٹی اور احتساب میسر ہے جو تمام مراعات اور دائمی ملازمت کے تحفظ کا حظ تو اٹھاتی ہے، مگر پبلک سروس کو ایک دینی و قومی فریضے کے بجائے شاہانہ استحقاق گردانتی ہے؟
حقیقتِ حال یہ ہے کہ ہم اکیسویں صدی کے پیچیدہ اور تکنیکی عصر کو انیسویں صدی کے ایک ازکارِ رفتہ اور فرسودہ آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے چلانے کی باطل کوشش کر رہے ہیں۔ وہ عُہدِ ماضی اب قصہٴ پارینہ بن چکا جب ایک "ہمہ دان" اہلکار یکلخت زراعت کے شعبے سے منتقل ہو کر انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے تخصیصی ادارے کا نگہبان بن جاتا تھا۔ جدید حکمرانی اب علمِ محض، تکنیکی بصیرت اور سائنسی استدلال کا تقاضا کرتی ہے۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے ای گورننس، پیپر لیس دفتری نظام، ڈیجیٹل پروکیورمنٹ اور آن لائن شکایات کے ازالے کی تدابیر اسی بیوروکریٹک بت کو پاش پاش کرنے کی ایک سنجیدہ سعی ہیں تاکہ نچلی سطح کے اہلکاروں کے اختیاراتِ تمیزی کو سلب کیا جا سکے۔ تاہم، ان اصلاحات کو ثمر آور بنانے کے لیے بیوروکریسی کی کارکردگی کو شفاف ترین KPIs سے مشروط کرنا ہوگا اور دائمی ملازمت کے تصور کو ختم کر کے نجی و علمی دنیا کے ماہرین کے لیے (Lateral Entry) کے راستے وا کرنے ہوں گے۔ جب تک بیوروکریٹک فکر میں "حکمرانی" کا فرعونی تکبر ختم ہو کر "خدمت" کا حقیقی جمہوری و اخلاقی جذبہ بیدار نہیں ہوتا، جمہوری ثمرات کا عوام تک پہنچنا ایک سراب ہی رہے گا۔
واپس کریں