دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
صلحِ حدیبیہ: سیاستِ نبویؐ کا شاہکار، عصرِ حاضر کی بصیرت
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
تاریخ کے بعض واقعات اپنی ظاہری صورت میں چھوٹے، مگر اپنے نتائج میں عہد ساز ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر شکست کا منظر دکھاتے ہیں، لیکن زمانہ جب ان کے گرد سے گردِ ایام ہٹاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ شکست کے پردے میں فتح کا بیج رکھا جا چکا تھا۔ صلحِ حدیبیہ بھی ایسا ہی واقعہ ہے۔ ایک طرف مکہ کی طرف جانے والے چند ہزار بے سروسامان مسافر، دوسری طرف قریش کی مزاحمت؛ ایک طرف عمرہ کی آرزو، دوسری طرف واپسی کی شرط؛ ایک طرف مسلمانوں کا جوش، دوسری طرف صلح کی وہ شرائط جن میں بظاہر کئی باتیں مسلمانوں کے حق میں ناموافق دکھائی دیتی تھیں۔ مگر قرآن نے اسی واقعے کو ’’فتحاً مبیناً‘‘ کہا۔

یہاں سیاستِ نبویؐ کا وہ راز آشکار ہوتا ہے جسے محض طاقت کے پیمانے سے ناپنے والا ذہن کبھی نہیں سمجھ سکتا: ہر کامیابی فوری قبضے کا نام نہیں، اور ہر پسپائی شکست نہیں ہوتی۔ کبھی ایک قدم پیچھے ہٹنا تاریخ میں دس قدم آگے بڑھنے کا مقدمہ بن جاتا ہے۔

حدیبیہ میں اصل معرکہ تلواروں کا نہیں، بصیرت کا تھا۔ رسولِ اکرمؐ نے یہ دیکھا کہ ایک محدود جنگ میں دشمن کو شکست دینا اور بات ہے، لیکن دشمن کو اس مقام تک لے آنا جہاں وہ تمہیں ایک فریقِ سیاسی تسلیم کر کے تمہارے ساتھ معاہدہ کرے، کہیں بڑی کامیابی ہے۔ جنگ میں جسم زخمی ہوتے ہیں؛ صلح میں تصورات بدلتے ہیں۔ جنگ سرحدیں متعین کرتی ہے؛ امن معاشروں کے باطن میں راستے کھولتا ہے۔

اسی لیے حدیبیہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ریاستی سیاست جذبات کی نہیں، نتائج کی سیاست ہونی چاہیے۔ جو حکمران ہر معاملے کو عزت و غیرت کے فوری سوال میں بدل دیتا ہے، وہ اپنی قوم کو مسلسل تصادم میں دھکیل دیتا ہے۔ لیکن جو قیادت مستقبل کو حال کی آنکھ سے نہیں بلکہ آنے والے زمانے کی نگاہ سے دیکھتی ہے، وہ کبھی کبھی وہ فیصلہ کرتی ہے جس پر اپنے زمانے کے لوگ حیران ہوتے ہیں، مگر آنے والی نسلیں اس پر تاریخ لکھتی ہیں۔

صلح کی شرائط بظاہر سخت تھیں۔ مسلمانوں کو اس سال مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، اگلے سال عمرہ کی اجازت ملی، اور بعض شرائط ایسی تھیں جو مسلمانوں کے لیے فوری طور پر ناگوار محسوس ہوتی تھیں۔ لیکن اس معاہدے نے جنگ کے دروازے بند کر کے مکالمے کے دروازے کھول دیے۔

اور یہی سیاستِ نبویؐ کا عظیم اصول ہے: امن صرف جنگ کی عدم موجودگی نہیں؛ امن ایک سیاسی فضا کا نام ہے جس میں حق اپنی آواز زیادہ دور تک پہنچا سکے۔

جب تلواریں نیام میں چلی گئیں تو فاصلے کم ہونے لگے۔ وہ لوگ جو کل تک ایک دوسرے کو میدانِ جنگ میں دیکھتے تھے، اب ایک دوسرے سے گفتگو کرنے لگے۔ یہی گفتگو تھی جس نے ذہنوں کے دروازے کھولے۔ تاریخی روایت میں اسی لیے حدیبیہ کو اسلام کے پھیلاؤ کے لیے فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا ہے؛ جنگ کے بجائے امن کے ماحول نے لوگوں کو ایک دوسرے کو براہِ راست دیکھنے، سننے اور سمجھنے کا موقع دیا۔

یہاں سیاست کا ایک نہایت گہرا فلسفہ سامنے آتا ہے: دشمن کو ہمیشہ شکست دینا ضروری نہیں؛ کبھی اسے دشمن رہنے کی ضرورت سے آزاد کرنا زیادہ بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

آج کی دنیا میں سیاست کا بڑا المیہ یہی ہے کہ مفاد اور مصلحت کو بزدلی، مذاکرات کو کمزوری اور سمجھوتے کو شکست سمجھ لیا گیا ہے۔ ریاستیں ایک دوسرے سے بات کرنے سے پہلے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہیں؛ سیاسی جماعتیں اختلاف کو دشمنی بنا دیتی ہیں؛ حکومتیں مخالف آواز کو قومی مفاد کے خلاف قرار دینے لگتی ہیں؛ اور قومیں ایسی لفظی جنگوں میں الجھ جاتی ہیں جن کا کوئی فاتح نہیں ہوتا۔

حدیبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ اصولی سیاست اور لچک دار حکمتِ عملی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اصول منزل کا تعین کرتے ہیں، حکمت راستے کا۔ جس قیادت کے پاس منزل ہو مگر راستے کی سمجھ نہ ہو، وہ نعرہ تو پیدا کرسکتی ہے، تاریخ نہیں۔

رسولِ اکرمؐ نے اپنے مقصد سے دست برداری نہیں کی؛ صرف مقصد تک پہنچنے کا راستہ بدلا۔ یہی فرق ہے مصلحت پرستی اور حکمت کے درمیان۔ مصلحت اصول بیچ دیتی ہے؛ حکمت اصول کو محفوظ رکھتے ہوئے طریقۂ کار بدلتی ہے۔

حدیبیہ کا دوسرا عظیم سبق صبرِ سیاسی ہے۔ سیاست میں بعض نتائج فوری نہیں آتے۔ ایک بالغ ریاست وہ ہوتی ہے جو پانچ دن، پانچ ماہ یا پانچ سال نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مفاد میں فیصلے کر سکے۔ جو قوم ہر فیصلہ فوری مقبولیت کے پیمانے سے کرے، وہ تاریخ کے بجائے خبروں کی سرخیوں کی غلام بن جاتی ہے۔

قرآن نے حدیبیہ کے بعد ’’فتح‘‘ کا اعلان کر کے دراصل انسانی نگاہ کی ایک بنیادی کمزوری کی اصلاح کی: ہم واقعے کو اس کے آغاز سے دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے انجام کو جانتا ہے۔

آج پاکستان سمیت مسلم دنیا کو اسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ داخلی سیاست میں مفاہمت، قومی مسائل پر مکالمہ، پڑوسی ممالک سے اصولی سفارت کاری، معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے مذاکرات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات یہ سب کمزوری نہیں، اگر ان کے پیچھے قومی مفاد، اخلاقی اصول اور واضح حکمتِ عملی موجود ہو۔

حدیبیہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قومی وقار بلند آواز سے نہیں، درست فیصلوں سے قائم ہوتا ہے۔ بعض اوقات خاموشی ایک تقریر سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور ایک معاہدہ ایک جنگ سے زیادہ دور رس نتائج پیدا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حدیبیہ صرف سیرت کا ایک باب نہیں؛ یہ سیاست کا ایک دائمی مدرسہ ہے۔ اس مدرسے میں طاقت کے ساتھ تدبر، عزم کے ساتھ تحمل، اصول کے ساتھ لچک، اور جذبات کے ساتھ عقل کی تربیت ہوتی ہے۔

آج کی سیاست کو اگر واقعی کوئی نبوی سبق درکار ہے تو وہ یہ نہیں کہ ہر اختلاف کو معرکہ بنا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کب جنگ روکنی ہے، کب گفتگو شروع کرنی ہے، کب ایک قدم پیچھے ہٹنا ہے اور کب اسی قدم کو مستقبل کی فتح کا نقطۂ آغاز بنا دینا ہے۔

حدیبیہ کا سب سے بڑا پیغام شاید یہی ہے کہ تاریخ ہمیشہ شور مچانے والوں کے ہاتھ میں نہیں بنتی۔ کبھی ایک خاموش معاہدہ، ایک صابر قیادت اور ایک دوراندیش فیصلہ صدیوں کے سیاسی نقشے بدل دیتا ہے۔

اور شاید اسی لیے قرآن کا فیصلہ انسانی تاثر سے کہیں بلند تھا: فتح وہ نہیں جو آنکھ فوراً دیکھ لے؛ فتح وہ بھی ہے جس کا انجام زمانہ دیکھنے کے لیے زندہ رہے۔
واپس کریں