دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ماضی سے انقطاع، مستقبل سے محرومی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
اقوام کے زوال و انحطاط کی داستان ہمیشہ میدان ہائے کارزار میں ہزیمت، معیشت کی شکست و ریخت یا نظامِ حکمرانی کے انہدام ہی سے عبارت نہیں ہوتی؛ بسا اوقات انحطاط کی ایک ایسی خاموش، غیر محسوس اور تہہ نشیں صورت بھی رونما ہوتی ہے جس میں بظاہر تعمیر و ترقی کے مظاہر پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوتے ہیں، شہر جدید عمارتوں سے آراستہ ہوتے ہیں، شاہراہیں وسعت پذیر ہوتی ہیں، معاشی سرگرمیوں میں افزونی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور سائنسی و تکنیکی اختراعات زندگی کے معمولات کو یکسر تبدیل کررہی ہوتی ہیں، لیکن ان تمام ظاہری تحرکات کے باطن میں اجتماعی شعور اپنی تاریخی بنیادوں سے بتدریج انقطاع کا شکار ہونے لگتا ہے۔ یہ وہ تہذیبی خسارہ ہے جس کا اندراج نہ قومی محاصل کے گوشواروں میں ممکن ہے، نہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے پیمانوں میں اس کی صحیح قدر و قیمت متعین کی جاسکتی ہے۔ جب کسی قوم کے تاریخی آثار و شواہد، علمی ذخائر، لسانی سرمائے، فنونِ لطیفہ اور اجتماعی تجربات کا تسلسل منقطع ہونے لگے تو درحقیقت اس کے وجود کی وہ معنوی اساس متزلزل ہونے لگتی ہے جس پر اس کی شناخت، فکری خود آگاہی اور مستقبل بینی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ قومی حافظے کی شکست و ریخت اسی ہمہ گیر تہذیبی زیاں کا نام ہے، جس کے نتائج فوری طور پر آشکار نہیں ہوتے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اپنے اثرات مرتب کرنے لگتے ہیں۔

قومی حافظے کا مفہوم محض ماضی کے واقعات کی یادداشت، تاریخی شخصیات کے تذکروں یا عہدِ رفتہ کی عظمت کے مناقب خوانہ بیان تک محدود نہیں یہ دراصل اجتماعی تجربے کی وہ ہمہ جہت، متحرک اور مسلسل روایت ہے جس میں زبان و ادب، علوم و فنون، معاشرتی اقدار، اجتماعی آزمائشیں، فکری تغیرات، دست کاریوں کے اسرار اور انسانی زندگی کے تہذیبی مظاہر ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ تاریخ واقعات کے زمانی تسلسل اور ان کے ظاہری احوال کو مرتب کرتی ہے، جب کہ تہذیبی حافظہ ان واقعات کی معنوی جہات، ان کے فکری مضمرات اور اجتماعی مزاج کی تشکیل میں ان کے کردار کو منکشف کرتا ہے۔ چنانچہ تاریخ سے بے اعتنائی اور تہذیبی حافظے سے انقطاع کا نتیجہ محض معلومات کا فقدان نہیں، بلکہ اپنی اجتماعی تشکیل کے اسباب و محرکات سے ناواقفیت بھی ہے۔ ایسی صورت میں معاشرہ یا تو اپنے ماضی کو غیر تنقیدی تفاخر کا موضوع بنا لیتا ہے یا اسے ایک فرسودہ، غیر متعلق اور ناقابلِ استفادہ عہد قرار دے کر اپنے حال سے اس کا رشتہ منقطع کردیتا ہے۔ دونوں رویے تاریخی بصیرت کے منافی ہیں، کیونکہ نہ ماضی کی ہر صورت قابلِ تقلید ہوتی ہے، نہ اس کی ہر شہادت قابلِ التفات ہونے سے محروم۔

پاکستان کی سرزمین اس اعتبار سے غیر معمولی تاریخی تنوع اور تہذیبی گہرائی کی حامل ہے کہ یہاں انسانی آبادکاری، شہری تمدن، تجارتی روابط، مذہبی روایتوں اور ثقافتی تعاملات کے متعدد ادوار کے آثار محفوظ ہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا ممتاز مرکز موہن جو دڑو، گندھارا کے آثارِ قدیمہ، ٹیکسلا کے شہری و علمی مراکز، مکلی کا وسیع تاریخی مقبرستان، لاہور کا شاہی قلعہ و شالامار باغ اور روہتاس قلعہ ہماری تہذیبی تاریخ کے مختلف ابواب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں پاکستان کے 6 مقامات کی شمولیت اس حقیقت کی توثیق کرتی ہے کہ یہ آثار محض قومی افتخار کے مظاہر نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کے مشترکہ تاریخی سرمائے کا حصہ ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر کسی مقام کی شناخت اور اس کے تحفظ کے عملی تقاضے دو الگ امور ہیں۔ بین الاقوامی اعتراف کسی تاریخی مقام کی بقا کی خودکار ضمانت فراہم نہیں کرتا اس کے لیے اس کی اصل ہیئت، تاریخی صداقت، تعمیراتی خصوصیات اور گردوپیش کے ماحول کو مستند علمی اصولوں کے مطابق محفوظ رکھنا ناگزیر ہے۔

ٹیکسلا کی مثال اس تہذیبی پیچیدگی کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ یہ خطہ مختلف تاریخی ادوار میں شہری ارتقا، علمی و مذہبی سرگرمیوں اور ایرانی، یونانی و وسطی ایشیائی اثرات کے باہمی اتصال کا اہم مرکز رہا۔ یہاں کے آثار اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ تہذیبوں کی تشکیل کسی منقطع یا خود کفیل عمل کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ تجارت، ہجرت، علمی تبادلے اور ثقافتی تعامل کے وسیع تر سلسلوں سے نمو پاتی ہے۔ اس تاریخی خطے کو موسمی تغیرات، زلزلوں، غیر قانونی کھدائی، بے قابو نباتاتی افزائش اور بعض انسانی و صنعتی سرگرمیوں سے لاحق خطرات اس حقیقت کی جانب متوجہ کرتے ہیں کہ آثارِ قدیمہ کا تحفظ محض حفاظتی حصار قائم کردینے یا عمارتوں کی ظاہری مرمت تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کے لیے سائنسی تحقیق، باقاعدہ نگرانی، مستند دستاویز بندی، قانونی عمل داری، تخصصی مہارت اور متعلقہ اداروں کے مابین مربوط اشتراک درکار ہے۔ اگر تحفظ کے نام پر غیر موزوں مواد استعمال کیا جائے، تاریخی شہادتوں سے انحراف کیا جائے یا غیر مستند تزئین و آرائش کو ترجیح دی جائے تو بسا اوقات وہی عمل ورثے کی اصالت کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے جس کا مقصد اس کی بقا قرار دیا گیا تھا۔

تاہم قومی حافظے کا دائرہ مادی آثار کی حدود سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ کسی تہذیب کی اصل حیات اس کے ان غیر مادی مظاہر میں بھی جلوہ گر ہوتی ہے جو نسل در نسل انسانی حافظے، عملی مہارت، زبانی روایت اور اجتماعی مشق کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔ مقامی زبانیں، لوک گیت، روایتی ساز، دست کاریاں، محاورات، قصہ گوئی اور پیشہ ورانہ ہنر اسی غیر مادی ثقافتی سرمائے کے اجزا ہیں۔ سندھ کے صحرائی خطے تھر سے وابستہ مٹی کا روایتی ساز بوریندو، جسے بھورِندو بھی کہا جاتا ہے، اس ضمن میں خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ یونیسکو نے 2025 میں اسے فوری تحفظ کے متقاضی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ یہ شمولیت محض ایک روایتی ساز کی بین الاقوامی پذیرائی نہیں، بلکہ اس حقیقت کی نشان دہی بھی ہے کہ کسی فن کی بقا اس کی تاریخی شہرت سے ازخود یقینی نہیں ہوجاتی۔ اس کے لیے ہنرمندوں کی سرپرستی، نئی نسل کی تربیت، مقامی برادریوں کی شمولیت اور ان معاشی و سماجی حالات کا استحکام ضروری ہے جن میں یہ روایت زندہ رہ سکتی ہے۔ اگر روایت کے حامل افراد اس فن سے لاتعلق ہوجائیں اور اسے سیکھنے کے مواقع معدوم ہونے لگیں تو رسمی اعتراف اس کے حقیقی تحفظ کے لیے ناکافی ثابت ہوگا۔

یہاں ایک بنیادی تہذیبی سوال بھی سر اٹھاتا ہے کہ آیا ہم اپنے ثقافتی سرمائے کی قدر اسی وقت محسوس کرتے ہیں جب اسے کسی بیرونی ادارے سے سندِ شناخت حاصل ہوجائے یا اس کے معدوم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجائے؟ اگر کسی زبان، لوک ساز یا دست کاری کی اہمیت کا ادراک اس وقت بیدار ہو جب اس کی بقا خطرے میں پڑچکی ہو تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں، بلکہ اجتماعی ترجیحات کے ایک گہرے مسئلے کی نشان دہی کرتا ہے۔ زبان محض ابلاغ کا وسیلہ نہیں ہوتی اس کے اندر کسی معاشرے کی فکری ساخت، جذباتی تجربات، تاریخی یادداشت اور مخصوص طرزِ ادراک کے نقوش محفوظ ہوتے ہیں۔ کسی زبان کا دائرۂ استعمال سکڑنے کے ساتھ اس کے محاورات، زبانی تاریخ، مقامی دانش اور ثقافتی امتیازات بھی رفتہ رفتہ معدوم ہونے لگتے ہیں۔ لہٰذا لسانی و ثقافتی تنوع کو قومی یک جہتی کے لیے خطرہ سمجھنا درست نہیں؛ حقیقی قومی ہم آہنگی مختلف ثقافتی شناختوں کو احترام، مساوی مواقع اور مشترکہ شہری شعور کے رشتے میں منسلک کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔

قومی حافظے کے تحفظ کے لیے ایک جامع، مربوط اور قابلِ رسائی دستاویزی نظام کی تشکیل بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ قدیم مخطوطات، نادر کتب، تاریخی تصاویر، سرکاری دستاویزات، مقامی تاریخوں اور زبانی روایتوں کی مستند فہرست سازی، سائنسی بنیادوں پر حفاظت اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل دستاویز بندی کی جائے۔ ڈیجیٹل ذرائع تاریخی مواد تک رسائی آسان بنانے، تحقیق کے امکانات وسیع کرنے اور معلومات کے ضیاع کے بعض خطرات کم کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں، لیکن ان سے اصل دستاویزات کی جسمانی حفاظت کی ضرورت ختم نہیں ہوجاتی۔ اس لیے ڈیجیٹل تحفظ اور مادی نگہداشت کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں، بلکہ باہم تکمیلی ذرائع سمجھنا چاہیے۔ قومی کتب خانوں، عجائب گھروں، جامعات، آرکائیوز اور تحقیقی اداروں کے مابین اشتراک سے ایسا نظام قائم کیا جاسکتا ہے جس میں ورثے کی شناخت، حفاظت، علمی تحقیق اور عوامی استفادے کے مراحل مربوط انداز میں آگے بڑھیں۔

تعلیمی نظام میں بھی تاریخی شعور کی تشکیل کو محض نصابی معلومات کی فراہمی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تنقیدی فہم اور استدلالی تربیت کا لازمی جزو بنایا جانا چاہیے۔ اگر تاریخ کی تدریس سنین، ناموں، معرکوں اور واقعات کو یاد کرانے کا ذریعہ بن کر رہ جائے تو طلبہ میں تاریخی بصیرت کے بجائے حافظے پر مبنی امتحانی استعداد پروان چڑھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں تاریخی شہادتوں کی جانچ، مختلف تہذیبوں کے باہمی روابط کے مطالعے، آثار کی معنویت کے تعین اور ماضی کے تجربات سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت سے آراستہ کیا جائے۔ تاریخی مقامات کے مطالعاتی دورے، عجائب گھروں سے تعلیمی روابط، مقامی تاریخ پر تحقیقی سرگرمیاں اور زبانوں و زبانی روایتوں کی دستاویز بندی اس مقصد کے حصول میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں مقامی برادریوں اور روایت کے حقیقی حاملین کو مرکزی حیثیت دینا بھی ضروری ہے، کیونکہ کسی ثقافت کو محفوظ رکھنے کا مؤثر طریقہ اسے محض نمائش گاہ کی شے بنادینا نہیں، بلکہ اس کے زندہ تسلسل کے امکانات برقرار رکھنا ہے۔

اس ضمن میں قانونی و انتظامی ڈھانچے کی افادیت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔ نوادرات کے تحفظ سے متعلق 1975 کے قانونی پس منظر اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد ثقافت و آثارِ قدیمہ سے وابستہ صوبائی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک ناگزیر ہے۔ قانون کی موجودگی اپنی جگہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، مگر اس کی حقیقی افادیت نفاذ، ادارہ جاتی استعداد، مناسب مالی وسائل، تخصصی تربیت اور جواب دہی سے متعین ہوتی ہے۔ تاریخی مقامات کی باقاعدہ نگرانی، غیر قانونی کھدائی اور نوادرات کی غیر مجاز تجارت کے خلاف مؤثر کارروائی، تحفظ کے منصوبوں کی شفاف رپورٹنگ اور ماہرین کی دستیابی ایسے تقاضے ہیں جن کے بغیر قانونی تحفظ محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی اداروں سے فنی معاونت اور استعداد سازی کے مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے مقامی اداروں کی علمی و انتظامی صلاحیت میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

جدیدیت اور تہذیبی تحفظ کو ایک دوسرے کی ضد قرار دینا بھی فکری مغالطہ ہے۔ کسی معاشرے کی ترقی کا پیمانہ صرف نئی شاہراہوں، بلند عمارتوں، صنعتی وسعت اور معاشی اشاریوں میں تلاش کیا جائے تو اس کی تہذیبی زندگی کے بنیادی عناصر نگاہوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنے تاریخی سرمائے اور ثقافتی تنوع کی حفاظت بھی یقینی بنائیں۔ شہری منصوبہ بندی میں تاریخی مقامات کے ماحول کو ملحوظ رکھنا، ترقیاتی منصوبوں کے ممکنہ ثقافتی اثرات کا جائزہ لینا اور تعمیراتی سرگرمیوں میں مستند تاریخی شواہد کو اہمیت دینا اس توازن کے قیام میں مددگار ہوسکتا ہے۔ البتہ تہذیبی ورثے کی حفاظت کا مفہوم ماضی کی ہر روایت کو بلاامتیاز برقرار رکھنا بھی نہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ روایتوں کی تاریخی، علمی، انسانی اور اخلاقی قدر کا سنجیدہ و غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ نہ اندھی تقلید تاریخی بصیرت کا بدل ہے، نہ بے اعتنائی جدیدیت کی دلیل۔

حقیقت یہ ہے کہ قومی حافظے کی حفاظت اپنے ماضی کی غیر مشروط مدح سرائی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک ذمہ دارانہ، تنقیدی اور بصیرت افروز تعلق استوار کرنے کا نام ہے۔ جو قوم اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھتی ہے، وہ اپنی آئندہ نسلوں کو محض قدیم عمارتیں، نادر مخطوطات، تاریخی نوادرات یا روایتی فنون منتقل نہیں کرتی، بلکہ انہیں اپنی اجتماعی تشکیل کو سمجھنے، ماضی کی کامیابیوں و کوتاہیوں کا جائزہ لینے اور مستقبل کے فیصلوں میں فکری پختگی پیدا کرنے کے وسائل بھی فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے ناگزیر ہے کہ تہذیبی ورثے کو رسمی تقریبات، یادگاری نعروں اور وقتی قومی افتخار کی حدود سے نکال کر ریاستی پالیسی، تعلیمی ترجیحات، تحقیقی سرگرمیوں اور شہری شعور کا مستقل جزو بنایا جائے۔ کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف ان منصوبوں سے تشکیل نہیں پاتا جو وہ اپنے زمانے میں تعمیر کرتی ہیں، بلکہ ان علمی و تہذیبی بنیادوں سے بھی نمو پاتا ہے جنہیں وہ اپنے اجتماعی سفر میں محفوظ رکھتی ہیں۔ قومی حافظہ سلامت ہو تو ماضی محض گزرے ہوئے ایام کا مدفون تذکرہ نہیں رہتا، بلکہ حال کی تفہیم، اجتماعی خود آگاہی اور مستقبل کی بامعنی تشکیل میں ایک زندہ، متحرک اور رہنما قوت بن جاتا ہے۔
واپس کریں