دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
زیرِ زمین دولت: پاکستان کی معاشی خودمختاری کا پوشیدہ محاذ
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
قدرت نے پاکستان کو محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں دیا، بلکہ اس کی زمین، پہاڑوں اور تہہ در تہہ چٹانی ساخت میں ایک ایسا خاموش اثاثہ بھی ودیعت کیا ہے جس کی مکمل معاشی قرأت ابھی باقی ہے۔ دریاؤں کا آبی بہاؤ، زیرِ زمین پانی، معدنی پٹیاں، دھاتی امکانات اور ارضیاتی ساختیں اگرچہ بظاہر قدرتی مظاہر ہیں، لیکن جدید ریاست کے لیے یہی عناصر توانائی، صنعت، برآمدات، روزگار اور تکنیکی خود انحصاری کے سرچشمے بن سکتے ہیں۔ تاہم قدرتی نعمت اور معاشی دولت کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے: پہلی فطرت عطا کرتی ہے، دوسری علم، سرمایہ، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

معدنی ذخائر کے بارے میں ہمارے عمومی تصور کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ ہم دریافت کو کامیابی اور امکان کو اثاثہ سمجھ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین میں کسی دھات کی موجودگی صرف ابتدائی ارضیاتی اشارہ ہے۔ اسے معاشی ذخیرے میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل سروے، نمونہ بندی، جیو کیمیکل تحقیق، جیو فزیکل پیمائش، ڈرلنگ اور لیبارٹری تجزیوں کے ذریعے یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ معدنی جسم کس حجم، گریڈ، گہرائی، ساخت اور تسلسل کا حامل ہے۔ اس کے بعد تکنیکی اور مالیاتی مطالعہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے نکالنا معاشی طور پر قابلِ جواز بھی ہے یا نہیں۔ یوں معدنی دولت دراصل ایک طویل سائنسی تصدیقی عمل کے بعد اپنی حقیقی اقتصادی شناخت حاصل کرتی ہے۔

کسی کان کی کامیابی کا دارومدار صرف اس پر نہیں کہ اس میں کتنی دھات موجود ہے۔ کان تک رسائی، سڑک اور ریل کا انفراسٹرکچر، بجلی اور پانی کی دستیابی، بندرگاہوں تک فاصلہ، خام مال کی ترسیل، کان کنی کا طریقۂ کار، ماحولیاتی تقاضے اور عالمی منڈی میں دھات کی قیمت، سب مل کر اس منصوبے کی معاشی حقیقت متعین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی ناقابلِ عمل ہو سکتا ہے اگر اس کا استخراج اور نقل و حمل ضرورت سے زیادہ مہنگی ہو۔ اس کے برعکس مناسب گریڈ، بہتر جغرافیائی محلِ وقوع اور مضبوط بنیادی ڈھانچے والا نسبتاً محدود ذخیرہ زیادہ منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔

بلوچستان کا سیندک کاپر گولڈ منصوبہ اس پورے عمل کی ایک قابلِ مطالعہ مثال ہے۔ اس خطے کے معدنی امکانات کی شناخت فضائی سروے اور ارضیاتی تحقیق کے مختلف مراحل سے گزری، جس کے بعد ڈرلنگ اور مزید تکنیکی مطالعات نے زیرِ زمین ذخائر کے بارے میں اعتماد کی سطح بڑھائی۔ سیندک کا تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ معدنی معیشت کسی ایک دریافت کا نام نہیں؛ یہ ارضیاتی علم، تکنیکی تصدیق، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، استخراج اور پراسیسنگ کو ایک مربوط صنعتی سلسلے میں جوڑنے کا عمل ہے۔

آج عالمی صنعتی مسابقت نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ نایاب ارضی عناصر اور اہم معدنیات جدید الیکٹرانکس، برقی گاڑیوں، جدید توانائی، مستقل مقناطیس، دفاعی نظام اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی متعدد صنعتوں کے لیے بنیادی خام مال بن چکے ہیں۔ پاکستان میں ایسے معدنی امکانات کی موجودگی ایک امید افزا پہلو ہے، لیکن محض امکانات کی تشہیر عالمی سرمایہ کاری کو اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی۔ سرمایہ کار کو قابلِ تصدیق ارضیاتی اعداد و شمار، ذخائر کی معتبر درجہ بندی، واضح ملکیتی و قانونی ڈھانچہ، ماحولیاتی جائزہ اور قابلِ عمل مالیاتی فزیبلٹی درکار ہوتی ہے۔ معدنی شعبے میں اعتماد بھی ایک اثاثہ ہے اور اس کی بنیاد شفاف ڈیٹا پر قائم ہوتی ہے۔

یہاں جیولوجیکل سروے آف پاکستان کو نئی ترجیحات کے ساتھ ازسرِنو فعال کرنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ جدید ریموٹ سینسنگ، مصنوعی سیاروی مشاہدات، جیو فزیکل سروے، تین جہتی زیرِ زمین ماڈلنگ، جدید تجزیاتی لیبارٹریاں، مصنوعی ذہانت پر مبنی ارضیاتی پیش گوئی اور گہری کور ڈرلنگ کو قومی معدنی تحقیق کا مستقل حصہ بنانا چاہیے۔ اسی کے ساتھ ایک مرکزی قومی جیو سائنس ڈیٹا پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے جہاں معدنی نقشے، سروے، ڈرلنگ، نمونہ جاتی نتائج اور متعلقہ سائنسی معلومات منظم، قابلِ تصدیق اور مسلسل تازہ حالت میں دستیاب ہوں۔

لیکن معدنی دولت کی اصل آزمائش کان کے دہانے پر شروع ہوتی ہے۔ اگر پاکستان خام دھات نکال کر محض برآمد کر دے تو اس کے حصے میں قدر کا محدود حصہ آئے گا۔ اصل صنعتی فائدہ ریفائننگ، پراسیسنگ، دھاتی مصنوعات، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور متعلقہ سپلائی چین کی مقامی تشکیل سے حاصل ہوگا۔ جدید خودکار مشینری، بڑے پیمانے کے ہال ٹرک، ڈیجیٹل مائن مینجمنٹ اور ریموٹ آپریشن نے کان کنی کو ایک انتہائی ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت بنا دیا ہے؛ اس لیے معدنی پالیسی کو صنعتی اور سائنسی پالیسی سے الگ رکھنا اب ممکن نہیں۔

پاکستان کے لیے اصل مسئلہ قدرتی وسائل کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ ان وسائل کو ثابت شدہ، قابلِ سرمایہ کاری اور قابلِ صنعتی قدر میں تبدیل کرنے کی قومی صلاحیت ہے۔ ہمیں زمین کے اندر چھپے امکانات کے اعداد گنوانے سے آگے بڑھ کر ان کی سائنسی توثیق، معاشی درجہ بندی اور صنعتی تعبیر کی طرف جانا ہوگا۔ جب علم پالیسی سے، ٹیکنالوجی سرمایہ سے اور معدنیات صنعت سے جڑ جائیں گی تو زیرِ زمین خاموش دولت قومی خودمختاری کی عملی قوت بن سکتی ہے؛ بصورتِ دیگر ہمارے پہاڑ اپنے سینے میں خزانے لیے رہیں گے اور ہماری معیشت امکانات کی گنتی کرتی رہے گی۔
واپس کریں