زمامِ کار کی امانت: فکری جلا اور احتسابِ عمل کا سفر
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ہر بیدار مغز اور صاحبِ بصیرت انسان کی نگاہ میں یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے پیکرِ ملی کی رگ رگ میں سرایت کرنے والے مالیاتی عوارض، تہی دستی کی لایعنی زنجیریں، ناتواں معیشت کا سست رفتار پہیہ، اور چاردانگ عالم سے دست درازی و قرض مانگنے کی یہ مسلسل روش درحقیقت متفرق بیماریاں نہیں بلکہ ایک ہی ناسُورِ کہنہ کے مختلف مظاہر ہیں۔ روایتی حکمتِ عملیوں نے ہمیشہ عوارض اور علامات کا مداوا کرنے پر اکتفا کیا ہے جبکہ اصل مرض عمیق فکری زوال اور رگِ جاں تک رسائی سے گریز میں مضمر ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے اب تک ایسا بالغ نظر نظامِ اقتدار تعمیر کرنے سے گریز کیا ہے جہاں زمامِ کار فرماں روائی شخصی قربتوں یا روایتی مفادات کی بجائے قطعی پیشہ ورانہ اہلیت، امانت داری، دیانت اور قابلِ پیمائش کارکردگی کے آہنی اصولوں پر استوار ہو۔ آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی، اور علم پر مبنی جدید صنعتیں اقوام کا مستقبل تشکیل دے رہی ہیں، وہاں سیاسی سرپرستی، عجلت پسندی اور بے یقینی کے سہارے بقا کی جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ نامور مفکرین نے بجا طور پر باور کرایا ہے کہ اجتماعی انقلاب آسمان سے نازل نہیں ہوتا بلکہ اجتماعی کردار اور فکری جلا سے زمین پر تخلیق پاتا ہے۔
اس پس منظر میں ہمیں اس نوع کی جمہوریت کی اشد ضرورت ہے جہاں ریاستی مشینری کی کلیدی وزارتیں اور اہم ادارے سیاسی وفاداروں کی بجائے اپنے شعبوں کے سرکردہ ماہرین، محققین اور داناؤں کے سپرد ہوں۔ وزارتِ خزانہ ایسے بلند پایہ ماہرینِ معاشیات چلائیں جو قومی ثروت کے امین ہوں، شعبہ ہائے تعلیم و صحت کی کمان باصلاحیت اکابرین کے پاس ہو، اور سائنسی و صنعتی شعبے کے فیصلے بین الاقوامی منڈیوں اور جدید ٹیکنالوجی سے نابلد افراد کی بجائے ماہرینِ فن کریں۔ قرآنِ حکیم کا زریں اصول کہ بہترین اجرت پر رکھنے والا وہی ہے جو قوی بھی ہو اور امین بھی، ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ تاریخِ انسانی نے ہمیشہ اس امر کی گواہی دی ہے کہ تقرری کا اصل معیار سفارش یا قرابت نہیں بلکہ یوسفِ صدیقی کا وہ مثالی اسلوب ہونا چاہیے جہاں دانا اور امین شخص نے خود کو خزانوں کے نگران کے طور پر پیش کیا۔ اس ناگزیر اصلاحی عمل کا دائرہ کار مقننہ تک بھی پھیلنا چاہیے۔ پارلیمنٹ جیسا مقدس ایوان جہاں قوم کا مستقبل بنانے والے قوانین، بجٹ اور بین الاقوامی معاہدے طے پاتے ہیں، وہاں ارکان کے انتخاب کے لیے کسی اعلیٰ تعلیمی قابلیت، سنجیدہ پیشہ ورانہ مہارت، ٹیکس کی باقاعدگی اور شفاف مالیاتی ریکارڈ کی شرط عائد کرنا اب وقت کا تقاضا بن چکا ہے۔ قرآن کا یہ سوال آج بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر ہو سکتے ہیں؟
بین الاقوامی تجربات اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ ترقی کا راز محض قدرتی وسائل کی فراوانی میں نہیں بلکہ مستحکم اداروں اور عزمِ صمیم میں پنہاں ہے۔ سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسی ریاستوں نے وسائل کی کمی کے باوجود تعلیم، ٹیکنالوجی اور شفاف انتظامی ڈھانچے کی بدولت دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ پاکستان کو بھی روایتی اور کم قدر والی پیداوار سے نکل کر علم پر مبنی برآمداتی معیشت کی طرف منتقلی کرنا ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آئی ٹی، ادویات، قابلِ تجدید توانائی اور دفاعی ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں کو فروغ دیا جائے اور ہر مقرر کردہ وزیر یا سیکریٹری مفروضوں کی بجائے چار سالہ واضح کارکردگی معاہدے کے تحت جواب دہ ہو۔ ہر وزارت کو اربوں ڈالر کی برآمدات کا واضح ہدف دیا جائے اور سالانہ بنیادوں پر آزادانہ آڈٹ کے ذریعے اہداف سے انحراف پر بلاامتیاز احتساب کو یقینی بنایا جائے۔
یہ ہمہ گیر فکری و انتظامی تبدیلی مرکزیت کے طلسم کو توڑے بغیر ادھوری ہے۔ جب تک سیاسی اور مالیاتی اختیارات نچلی ترین سطح یعنی عوام کے حقیقی نمائندوں تک منتقل نہیں ہوں گے، تب تک پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ صوبائی بجٹ کا ایک معتدبہ اور آئینی طور پر محفوظ حصہ براہِ راست منتخب ضلعی اور مقامی حکومتوں کے حوالے ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی افادیت کی بنیاد پر مزید صوبائی اکائیاں قائم کرنے کا سنجیدہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ دور دراز دارالحکومتوں سے چلنے والے غیر مؤثر نظام کی جگہ عوام کے قریب تر ایک فعال، چست اور جواب دہ انتظامی ڈھانچہ جنم لے سکے۔ بلاشبہ پاکستان کے پاس ذہانت، صلاحیت اور علمی سرمائے کی کوئی کمی نہیں ہے، مسئلہ صرف یہ رہا ہے کہ ہم نے اس بیش قیمت سرمائے کو قومی فیصلہ سازی کے مرکز سے دور رکھا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ شخصیات پرستی کی سیاست کو خیرباد کہہ کر کارکردگی اور میرٹ کی سیاست کو اپنایا جائے، وسائل کی مرکزیت کو ختم کر کے بااختیار مقامی جمہوریت کی بنیاد رکھی جائے، اور کھپت پر مبنی قرض زدہ معاشرے کو علم اور تحقیق سے مزین برآمداتی ریاست میں تبدیل کیا جائے۔
کیا ہم ذاتی مفادات اور روایتی تساہل کے خول سے نکل کر اس ناگزیر فکری و انتظامی انقلاب کے لیے تیار ہیں؟
واپس کریں