دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اب سامراجی طبقات کی دال اتنی آسانی سے گلنے والی نہیں
جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ
جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ
ایرانی انقلاب 1979 میں آیا آج 47 سال مکمل ہو چکا ہے۔ موجودہ ایرانی قوم کی تربیت وہاں کے مروجہ افکار اور نظریات اور نظامِ تعلیم و تربیت کے مطابق ہوئی جس کی بنیاد پر سامراج دشمنی پر مبنی ہے۔ دو بین الاقوامی برادریوں کی صورت حال میں مشکلات اور سہہ سہہ تک پروانی کہتے ہیں، قومیت ایران کے پیچھے، سیاسی طور پر مشرق وسطیٰ کی سب سے زیادہ اور روشن خیال اور خیال قوم وہاں کے نظام تصور کو جرآت، دلیری، بہادری اور مزاحمتی شعور کو پوری طرح منتقل کر دیتی ہے۔
ایسی قوم جو کسی نظریے پر واقع ہو اور جذبہ شہادت سے لبریز واقعات کی گود سے سُن کر جوان ہوئی، اُسے بمباری سے ختم کرنا، شکست دینا یا آمادہ کر لینا غلامی پر نہیں ہے۔ ایران کی مزاحمت کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے جس کی طرف سے موجود لیڈر نے اپنے پہلے آڈیو بیان میں اشارہ بھی کیا ہے۔
اِس ایرانی خاتون کی قربانی کا جذبہ، اجتماعی سوچ، فکری اور سب کچھ قربان کرنے سے نظریہ ہی نہیں پیدا ہوتا بلکہ اِسکی پشت پر ایرانی نظام کی تربیت اور نظر آتی ہے جو اِس وقت مزاحمت کی ایک تاریخ رقم کر رہی ہے۔
رجال کار کی تیاری، افراد سازی، بند سازی اور ہجوم تشکیل کے عمل کی صورت میں کسی قوم کا نظام بھی ملک کا نظام تعلیم و تربیت پیدا کرتا ہے۔ پاکستانی قوم ہجوم اِس کے لیے ہے کہ یہاں کا نظام تعلیم میکالے کی تھی لارڈ پر امن سامراج کا چھوڑا تحفہ آج ہم نے اپنے سینے سے لگا رکھا ہے۔ مُلا اور مسٹر کی تقسیم اور پھر دونوں طبقات میں مزید درجن بھر فرقہ وارانہ اور گروہی تقسیم موجود ہیں۔
اگر ایرانی انقلاب کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر نقصان پہنچانے کے لیے اِس تبدیلی کو تحقیق کا موضوع بنا کر سیکھنے کا عمل اختیار کیا جاتا ہے تو دوسری جگہ اِس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بہرحال دیر آید درست آید، آج سوشل میڈیا میڈیا کے بہت سارے راز کُھل رہے ہیں، پاکستانی قوم نے ایرانی مزاحمت کو سیاسی میدان میں شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے، اس کے خلاف مزاحمتی قوتوں کی مزاحمتی شعور کا اثر ہے، اپنے سرزمین کو تحفظ دینے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے جزبے کو سراہا ہے۔ اہل فکر و نظر جانتے ہیں کہ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ پاکستانی عوام ایران کے ساتھ ہے اور پاکستانی قیادت میں منافقت اور دوغلی پالیسی اختیار کرتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی جگہ خوش کرنے کے لیے خطرہ ہے۔ فی الحال تو جنگ کا تصور اُٹھاتے ہوئے 55 روپے مالیت کا بم فورآ گرایا۔ جہاں جنگ چل رہی ہے، وہ مہنگائی ہوئی ہے اور معمول کے مطابق زندگی گزار رہی ہے اور جہاں جنگ دیکھی جا رہی ہے وہاں مہنگائی بھی ہو گی اور تعلیمی ادارے بھی بند ہو جائیں گے۔ خود پسند، موقع پرست اور مفسر پرست نام نہاد کی قیادت سے واسطہ پڑا۔
سماجی شعور کی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال میں تبدیلی کی صورت حال میں مستقبل میں بہت روشن امکانات کھل سکتے ہیں۔ ایک طرف دشمن دوسری طرف ہمسایہ چین ہے ایران کی طرف۔
دونوں اقوام کے حالات کا اثر یہاں کے سماج پر لازم ہوگا، یہ سرد جنگ کا وقت نہیں ہے اور وہ وقت نہیں ہے کہ دنیا میں پیش آنے والے حالات اور واقعات کی خبریں ہی کیوں نہ ہوں اور سامراج اپنے آلہ کار سیاسی و مذہبی طبقات کے بیانیہ کے عوام میں اُنڈیلنا حالت، وہ ماضی کی طرح باآسانی اُنڈیل کر کے گلی سے نکلے۔۔۔
اب سامراجی طبقات کی دال اتنی آسانی سے گلنے والی نہیں ، یہ اگر فرقہ وارانہ بیانیہ بنائیں گے تو آجکی نسل سے تندو تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا ، مطمئن کے بغیر اور جواب لیے بغیر اِنکو بھاگنے نہیں دِیا جائے گا۔
واپس کریں