دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
چوری کا مال برائے فروخت اور کھلی بدمعاشی
جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ
جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ
برطانیہ نے اپنے نو آبادیاتی دورِ عروج میں ہندوستان کو لُوٹا ، افریقہ کو لُوٹا ، یہاں کے وسائل اور خام مال کو یورپ میں منتقل کِیا ، اپنی مشینوں میں مصنوعات تیار کر کے دوبارہ یہاں کی اقوام کو مہنگے داموں بیچا گیا ، ہندوستان کی مقامی زراعت ، صنعت و حرفت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا حتیٰ کے اِن ظالموں نے یہاں کے ہنرمندوں کے ہاتھ اور انگلیاں تک کاٹ دیں تاکہ مقامی سطح پر کوئی صنعت مزید پھل پھول نہ سکے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی پوری کی پوری تاریخ ایسے جرائم سے بھری ہوئی ہے ۔۔۔جمیعت علمائے ہند کے سابق صدر شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی شاہکار تصنیف " نقش حیات" برطانوی سامراج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے مکروہ کارناموں کے حقائق واضح کرنے کے تناظر میں ایک انتہائی شاندار کتاب اور پڑھنے کے قابل ہے۔
دوسری جنگ عظیم (1945-1939)کے اختتام پر پُرانے سامراج(برطانیہ) کو اپنی نو آبادیات اور عالمی قیادت سے دستبردار ہونا پڑا اور اُسکی جگہ نئے سامراج (امریکہ) نے لے لی اور پچھلے 70 سال سے اُس نے وہی طریقہ واردات جدید نو آبادیاتی نظام کی شکل میں اختیار کر رکھا ہے جو اُس سے قبل برطانیہ نے ظلم و بربریت کی شکل میں قائم کر رکھا تھا۔۔ یہ طریقہ واردات عالمی اداروں کے قیام کی شکل میں قائم کیا گیا ، اقوام متحدہ ، ورلڈ بینک اور آئی- ایم-ایف جیسے ادارے جنگ عظیم دوم کے بعد استعماری مقاصد کے حصول کے لیے قائم کیے گئے اور اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کے نام پر اپنی بین الاقوامی آمریت قائم کر دی گئی۔۔۔
افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام اور اب وینزویلا ، صرف ایک ہی مقصد ہے ، قومی حکومتوں کو گرا دو ، وسائل کو لُوٹ لو ، غدار اور کٹھ پُتلی حکمرانوں کو مسلط کر کے ریاستوں کو کنٹرول کر لو، جو خوشی سے اپنی قوم اور وسائل کو خود حوالے کر دے ، اُسکی سرپرستی کرو اور جو ذرا سی آنکھیں دِکھائے وہاں رجیم چینج آپریشنز کے عنوان سے اُنکا صفایا کر دو ۔۔۔
مغرب کی ٹیکنالوجی میں ترقی اور برتری کا انکار نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مغرب کی عالمی بالادستی کی پُشت پر اُنکی اپنی خود مختار معاشی ترقی کا نظام ہے یا دیگر خطوں اور تیسری دنیا کے وسائل لُوٹ کر اُس ڈکیتی اور چوری شدہ مال پر بظاہر نظر آنے والی چکا چوند روشنی اور ترقی کی عمارت قائم کی گئی ہے ،، جسے دیکھ کر تیسری دنیا کا نوجوان فوراً متاثر اور مرعوب ہو جاتا ہے ، مغرب کے گُن گانے لگ جاتا ہے اور اپنی دھرتی سے نفرت کرنا شروع کر دیتا ہے۔۔ تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ یورپ اور مغرب کی نام نہاد ترقی کی بنیاد کروڑوں انسانوں کے قتل اور لامحدود مشرقی وسائل کی لُوٹ مار پر رکھی گئی ہے۔۔۔
لیکن یہ ظلم آخر کب تک قائم رہ سکے گا ؟
اِس وقت عالمی دنیا کی قیادت 400 سال کے بعد مغرب کے ہاتھ سے نکل کر مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہے ، یہی وہ شدید تناؤ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے بالائی طبقات کے ہاں موجود ہے ، جسکا حتمی اظہار کھلم کھلا بدمعاشی اور براہ راست دھمکیوں کی شکل میں ٹرمپ کے بیانات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔۔۔ مرتا ہوا اور گِرتا ہوا ہاتھی مرتے مرتے جو تباہی کر رہا ہے وہ وینزویلا اور ایران کے تازہ ترین حالات کی شکل میں سامنے ہے لیکن اب حالات بہت مختلف ہیں ، مشرق کی متبادل قیادت بہت مضبوط ہے اور اُس نے اقوام متحدہ اور دیگر معاشی اداروں کے متبادل نظام کا خاکہ بھی سامنے رکھ دیا ہے ، امریکہ اِس وجہ سے بھی آج تک عالمی قیادت کے منصب پر موجود رہا کہ دنیا کے پاس متبادل قیادت اور متبادل نظام موجود نہیں تھا ، اب وہ خلا پورا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔۔۔
ہمیں ہر قسم کی فرقہ ورایت ، گروہیت ، تعصب ، تنگ نظری اور چھوٹے چھوٹے مفادات سے بالاتر ہو کر سرمایہ دارانہ نظام کی سفاکیت کی مذمت کرنی چاہیے ، ہر ملک کی قومی خود مختاری کی حمایت کرنی چاہیے ، تقسیم ، انتشار اور نفرت کی جگہ اتحاد ، امن اور محبت کی بات کرنی چاہیے۔
کیونکہ آج دنیا میں مذاہب کی جنگ نہیں بلکہ نظاموں کی جنگ ہے ۔۔۔ مذہب سرمایہ دارانہ نظام کا ایک ہتھیار ہے جیسے وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔۔۔
ہم وہ خوش قسمت نسل ہیں جو مغرب کے زوال اور مشرق کے عروج کا نظارہ دیکھیں گے ۔۔۔
یہ صدی امریکہ و یورپ کے زوال اور مشرق و ایشیاء کے عروج کی صدی ہے۔۔۔
عالمی قیادت بدل کر رہے گی البتہ اُسکے مکمل بدلنے تک مغرب اپنی سفاکیت اور بربریت کا مظاہرہ ضرور کرے گا اور یہ نقصان مظلوم مگر خودار اقوام کو برداشت کرنا پڑے گا ۔۔۔
واپس کریں