دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان غزہ بورڈ آف پیس میں شامل
No image پاکستان نے امریکہ صدر ٹرمپ کے غزہ میں امن کے قیام کی غرض سے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ ترکیہ سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے جبکہ بورڈ آف پیس میں مزید ممالک کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق اس بورڈ آف پیس کے اہم مقاصد میں غزہ کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مستقل حل سمیت کئی دیگر مقاصد بھی شامل ہیں۔ جن میں مستقل فائر بندی اور غزہ کی تعمیر نو، غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے بعد فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ، ایک الگ ریاست کا قیام اور فلسطینیوں کیلئے حق خودارادیت کا حصول اور خطے میں پائیدار امن کی بحالی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کی تاریخی اہمیت اور ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اہم اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ میں رونما ہونے والے قتل عام کو روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جب کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور دھڑے بندیوں کی وجہ سے کثیر الجہتی پلیٹ فارمز میں پاکستان کی شمولیت دور حاضر کی اہم ضرورت بن کر سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام طاقتور ممالک جیسے کہ امریکہ، چین اور روس کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات رکھتا ہے۔ اس انفرادیت کے پیش نظر پاکستان کا کردار مختلف بلاکس میں تقسیم دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی اہمیت ان نکات سے اجاگر ہوتی ہے۔ جس کے مطابق پاکستان دھڑے بندیوں کی سیاست کا حصہ نہ ہوتے ہوئے تمام بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ یکساں روابط برقرار رکھے ہوئے ہے جو اسے اپنی تزویراتی خود مختاری کے حصول میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ہمیشہ غیر جانب دارانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے ایک توازن اور لچکدار خارجہ پالیسی کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے اور کسی بیرونی دباؤ کے بغیر چین، ہندوستان، کشمیر اور فلسطین جیسے امور پر ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کیے اور ان معاملات میں اپنے اصولی مؤقف کو ہمیشہ مد نظر رکھا۔ ہندوستان کے معاملے میں بھی پاکستان نے ماضی میں بیرونی دباؤ کے باوجود ایک بااصول اور غیر لچکدار پالیسی اختیار کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ہمیشہ غزہ اور کشمیر کے تنازعات پر بھی تسلسل سے ایک اصولی مؤقف اپنائے رکھا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا، اس سے جڑے تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل، بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام، القدس الشریف کا ایک آزاد فلسطین ریاست کا بطور دارالحکومت کا قیام، پاکستان کے وہ اصولی مؤقف ہیں جن پر پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ غیر متزلزل رہی ہے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت اور اس کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پائیدار حل بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ‘‘جزو لا ینفک" رہا ہے۔ دنیا کو درپیش تقسیم کے رجحان کے تناظر میں وجود میں آنے والے نئے فورمز کو نظر انداز کرنا کسی بھی ریاست کی Relevance کی بقا کے لئے خطرناک ہے۔ اسلامی دنیا کی اہم ترین عسکری طاقت کے حامل ملک کے لئے ایسے فورمز سے صرف نظر کرنا تزویراتی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دور حاضر میں پاکستان نے اپنی ساکھ بین الاقوامی معاملات میں ایک مثبت شراکت سے برقرار رکھی ہے اور اقوام متحدہ کی بحالی امن فوج میں شمولیت اس کی ایک اہم مثال ہے۔ پاکستان لفاظی پر نہیں بلکہ مؤثر اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لئے متحرک رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو خاموش تماشائی دیکھنے کے متمنی ایک مفلوج ذہن کے تابع ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کے محور روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہے ہیں، پاکستان کا متحرک کردار ایک تزویراتی ضرورت بن کر ابھرا ہے اور اس کردار کو نظر انداز کرنا ہمارے قومی مفادات سے تصادم ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین نے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) اور بورڈ آف پیس کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ حکومت پاکستان نے آئی ایس ایف میں شمولیت سے متعلق ایک واضح اور غیر مبہم نقطہ نظر اپنایا ہے جس کی توثیق حکومت نے کئی دفعہ کی ہے۔ آئی ایس ایف میں شمولیت کا فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد، اقوام متحدہ کے مینڈیٹ، پاکستان اور فلسطین کی عوام کی اْمنگوں کے مطابق ہوگا۔ تاہم بورڈ آف پیس اور آئی ایس ایف میں کسی طرح کی مماثلت قائم کرنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ پاکستان مخالف عناصر کی طرف سے ایک گمراہ کن کوشش کا تسلسل ہے۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق غزہ کیلئے بورڈ آف پیس میں پاکستان، ترکیئے کے ساتھ سعودی عریبیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر شامل ہوئے ہیں مسلم دنیا کا اہم اور نازک مسائل پر احتجاعیت اور باہمی اتفاق رائے کا طویل عرصے سے انتظار تھا علاوہ ازیں پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، امارات، انڈونیشیاء، سعودی عرب اور قطر نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اعلامیہ میں ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت کا خیر مقدم کیا گیا ہے بورڈ آف پیس میں شامل ہونا وزرائے خارجہ کا مشترکہ فیصلہ ہے تمام ممالک اپنے اپنے قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد شمولیتی دستاویزات پر دستخط کریں گے مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں بورڈ آف پیس غزہ میں مستقل جنگی بندی کیلئے غزہ میں مستقل جنگ بندی کیلئے عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے گا غزہ کی تعمیر نو اور پائیدار امن کیلئے اقدامات بورڈ آف پیس کے مینڈیٹ میں شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی جو پاکستان نے قبول کر لی۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ پاکستان غزہ میں امن کوششوں کیلئے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لے گا، امید ہے اس فریم ورک کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی کا نفاذ ہوگا، امید ہے اس فریم ورک سے فلسطینیوں کیلئے انسانی امداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ غزہ کی تعمیر نو کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔ امید ہے ہماری کوششیں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے حصول کا ذریعہ بنیں گی، پرامید ہیں 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہوگا۔ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا، بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کردار ادا کریں گے۔ فلسطینی عوام کی تکالیف کے خاتمے کیلئے تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے۔(بشکریہ ۔نوائے وقت رپورٹ)
واپس کریں