دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دہلی امریکی اشاروں پر قدم لڑکھڑا رہا ہے
No image ٹرمپ نے مودی کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔ انڈیا کا خطے کا چوہدری بننے کا خواب بیچ چوراہے چکنا چور ہو گیا۔ ایران کی بندرگاہِ چابہار میں دس سالہ انتظامی حق کے باوجود جس کا ڈھنڈورا مودی حکومت نے 2024ء میں بڑی دھوم دھام سے پیٹا تھا نئی دہلی کو بالآخر خاموشی سے بوریا بستر سمیٹنا پڑا۔ سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے تمام سرکاری نمائندوں کے اجتماعی استعفے اور ویب سائٹ کی اچانک عدم دستیابی اس سُرخ لکیر کی تصدیق کرتی ہے جسے واشنگٹن نے کھینچا اور دہلی نے فوراً تسلیم کر لیا۔
بھارت نے عجلت میں 120 ملین ڈالر کی واجب الادا رقم تو ادا کی، لیکن اس کے بعد مودی سرکار نے بندرگاہی معاہدے سے عملی لاتعلقی اختیار کر کے واضح کر دیا کہ ’’اسٹریٹیجک خودمختاری‘‘ کا دعویٰ صرف اندرونی سیاسی نعروں تک محدود ہے۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا کا سوال “مودی نے امریکا کو بھارت کا بازو مروڑنے کیوں دیا؟” دراصل بھارتی خارجہ پالیسی کی خالی جیب کا اعلان ہے۔ یہ وہی مودی ہے جو کبھی ’’وکاس کا راہبر‘‘ بن کر ابھرا تھا، مگر آج عالمی اسٹیج پر محض ایک تابع دار کردار نبھا رہا ہے۔
چابہار سے بھارت کی پسپائی دراصل خطے میں پاکستان کی بحری و معاشی مرکزیت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ جہاں نئی دہلی امریکی منجنیق سے اچھل کر دور جا گرا ہے، وہیں سی پیک کے ذریعے گوادر پورٹ نہ صرف مکمل آپریشنل صلاحیت کی جانب بڑھ رہی ہے بلکہ وسطی ایشیاء اور مشرقِ وسطیٰ کو ملانے والا قابلِ اعتماد لینڈ بریج بھی بن چکی ہے۔ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد سرمایہ کار گوادر کے انڈسٹریل زونز میں سرمایہ جھونک رہے ہیں یہ وہ حقیقت ہے جو عالمی منڈیوں میں پاکستان کی قدرِ بازاری کو روز بروز بڑھا رہی ہے۔
چابہار کو ’’گیم چینجر‘‘ کہنے والی بھارتی میڈیا اب مودی سرکار سے پوچھ رہی ہے کہ آخر ’’چوکیدار‘‘ نے بندرگاہ کی چوکیداری کیوں چھوڑ دی؟ روسی رعایتی تیل پر بھی واشنگٹن کی آنکھیں دکھانے پر دہلی نے بغلیں جھانکیں؛ اور اب ایران کے ساتھ یہ سبکی۔ صاف ظاہر ہے کہ اٹل کہی جانے والی بھارتی اسٹریٹیجک خودمختاری دراصل امریکی ہینڈل سے کنٹرول ہونے والا ایک جوائس اسٹک ہے۔
مودی حکومت کی چابہار سے ’’خاموش واپسی‘‘ نہ صرف بھارت کی خارجی ناکامی کا بین ثبوت ہے بلکہ جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو بھی پاکستان کے حق میں جھکاتی ہے۔ سی پیک اور گوادر کی برق رفتار ترقی، عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد اور واشنگٹن کا بھارت پر بڑھتا ہوا اقتصادی دباؤ یہ سب اشارہ دیتے ہیں کہ مستقبل قریب میں خطے کی معاشی شاہراہوں پر پاکستان کا جھنڈا زیادہ نمایاں ہو گا۔
مودی سرکار اگر واقعی ’’عظیم بھارت‘‘ کا خواب دیکھتی ہے تو اسے چاہئے کہ ہوائی قلعے بنانے کی بجائے حقیقتِ حال کو تسلیم کرے: امریکی پابندیوں کے سائے میں کھڑے ہو کر ’’عالمی لیڈر‘‘ نہیں بنا جا سکتا۔ دوسری طرف پاکستان نے ثبوت دے دیا ہے کہ مضبوط سفارت کاری، علاقائی ہم آہنگی اور معاشی کھلے پن ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو عالمی نقشے پر باوقار مقام دلاتے ہیں۔ گوادر کی گہری گودیوں سے لے کر بلوچستان کی شاہراہوں تک پاکستان اپنا راستہ خود تراش رہا ہے، جب کہ دہلی امریکی اشاروں پر قدم لڑکھڑا رہا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے آنے والے برسوں میں دنیا واضح طور پر دیکھے گی۔
واپس کریں